BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Tuesday, 12 July, 2005, 09:16 GMT 14:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گیس پائپ لائن پر بات چیت شروع

پائپ لائن
گیس پائپ لائن سے متعلق مختلف امور پر بات چیت مشترکہ ورکنگ گروپ کرے گا
بھارت اور پاکستان کے حکام نے ایران گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر منگل کے روز سے نئی دلی میں تفصیلی بات چیت شروع کردی ہے۔ اس سے متعلقہ ’انڈو پاک جوائنٹ ورکنک گروپ‘ اس پروجیکٹ کے قانونی، تجارتی اور پائپ لائن کی سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرےگا۔

بات چیت کی قیادت دونوں ملکوں کے پیٹرولیم سیکریٹریز کررہے ہیں۔ ورکنگ گروپ کی میٹنگ سے قبل پاکستانی وفد کے ‍قائد احمد وقار نے کہا ہے کہ دوروزہ بات چیت کے دوران پراجیکٹ کی تفصیلات اور نظام الوقات کو حل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔

ایک سوال کے جواب میں مسٹر وقار نے کہا کہ ’ہمارے صدر اور وزیراعظم نے کئی بار یہ کہا ہے کہ اس پراجیکٹ کواپنے قومی مفاد کے تحت آگے بڑھایا جائیگا۔‘

اس سوال پر کہ کیا امریکہ نے اس سلسلے میں کوئی بات کی ہے مسٹر وقار نے کہا’ ہمیں جو کہنا تھا ہم کہہ چکے۔‘

پاکستان اور ایران نے گیس پائپ لائن پراجیکٹ کے سلسلے میں گزشتہ ہفتے ایک یاداشت پر سمجھوتہ کیا ہے۔ مستقبل میں اس معاہدے کے سہ طرفہ ہونے کی امید ہے۔ یعنی انڈیا پاکستان اور ایران تینوں ملک اس پر اتفاق کرلیں۔
مجوزہ گیس پائپ لائن دوہزار نو یا دس تک مکمل ہونے کی امید ہے۔ اس پائپ لائن کے ذریعے ہرروز تقریباً ایک سو پچاس ملین کیوبک میٹر گیس کی سپلائی ممکن ہوسکے گی۔

نئی دلی میں اس ورکنگ گروپ کی مٹینگ سے قبل بھارت کے وزیرپٹرولیم منی شنکر آئر نے اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے بات چیت کی تھی۔ اسی عمل کومزید تیز تر کرنے کے لیے ورکنگ گروپ کی بات شروع ہوئی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد