گیس پائپ لائن پر بات چیت شروع | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
بھارت اور پاکستان کے حکام نے ایران گیس پائپ لائن پروجیکٹ پر منگل کے روز سے نئی دلی میں تفصیلی بات چیت شروع کردی ہے۔ اس سے متعلقہ ’انڈو پاک جوائنٹ ورکنک گروپ‘ اس پروجیکٹ کے قانونی، تجارتی اور پائپ لائن کی سیکیورٹی سے متعلق امور پر تبادلہ خیال کرےگا۔ بات چیت کی قیادت دونوں ملکوں کے پیٹرولیم سیکریٹریز کررہے ہیں۔ ورکنگ گروپ کی میٹنگ سے قبل پاکستانی وفد کے قائد احمد وقار نے کہا ہے کہ دوروزہ بات چیت کے دوران پراجیکٹ کی تفصیلات اور نظام الوقات کو حل کرنے کی کوشش کی جائیگی۔ ایک سوال کے جواب میں مسٹر وقار نے کہا کہ ’ہمارے صدر اور وزیراعظم نے کئی بار یہ کہا ہے کہ اس پراجیکٹ کواپنے قومی مفاد کے تحت آگے بڑھایا جائیگا۔‘ اس سوال پر کہ کیا امریکہ نے اس سلسلے میں کوئی بات کی ہے مسٹر وقار نے کہا’ ہمیں جو کہنا تھا ہم کہہ چکے۔‘ پاکستان اور ایران نے گیس پائپ لائن پراجیکٹ کے سلسلے میں گزشتہ ہفتے ایک یاداشت پر سمجھوتہ کیا ہے۔ مستقبل میں اس معاہدے کے سہ طرفہ ہونے کی امید ہے۔ یعنی انڈیا پاکستان اور ایران تینوں ملک اس پر اتفاق کرلیں۔ نئی دلی میں اس ورکنگ گروپ کی مٹینگ سے قبل بھارت کے وزیرپٹرولیم منی شنکر آئر نے اسلام آباد میں پاکستانی حکام سے بات چیت کی تھی۔ اسی عمل کومزید تیز تر کرنے کے لیے ورکنگ گروپ کی بات شروع ہوئی ہے۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||