BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 25 May, 2006, 18:23 GMT 23:23 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جوہری ہتھیاروں کی گنجائش نہیں‘

پرویز دواؤدی
ایران کے نائب صدر پرویز داؤدی تیسرے ایرانی لیڈر ہیں جو پاکستان آئے ہیں۔(فائل فوٹو)
پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز نے ایران کے جوہری معاملے کا پر امن حل تلاش کرنے کی حمایت کی ہے جبکہ ایران کے اول نائب صدر پرویز داؤدی نے ایک بار پھر کہا ہے کہ ایران کی فوجی حمکت عملی میں جوہری ہتھیاروں کی کوئی جگہ نہیں ہے تاہم ایران پرامن جوہری توانائی کے عمل سے دستبردار نہیں ہو گا۔

ایرانی نائب صدر کا یہ بھی کہنا تھا کہ جوہری ہتھیار رکھنا ایران کے مذہب اور ایمان کے تحت ممنوع ہے۔

اسلام آباد میں دونوں رہنماؤں نے پاکستان اور ایران کے درمیان ترجیحی تجارتی محصولات اور کسٹمز کے شعبے میں تعاون کے بارے میں دو مفاہمتی یادواشتوں پر دستخط کے بعد پریس کانفرنس میں کہا کہ انہوں نے ایران پاکستان بھارت گیس پائپ لائن منصوبے اور دونوں ممالک کے درمیان تجارت بڑھانے کے بارے میں مذاکرات کئے ہیں۔

پاکستانی وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ گیس پائپ لائن منصوبے میں گیس کے نرخوں پر ابھی کچھ اختلافات باقی ہیں جو جلد ہی دور کر لئے جائیں گے۔ جبکہ ایرانی نائب صدر کا کہنا تھا کہ ایران اس منصوبے کو جلد عملی جامہ پہنانے کے حق میں ہے اور اس سے خطے میں پاکستان،ایران اور بھارت کے تعلقات کو مزید فروغ ملے گا۔

ایران کے جوہری تنازعے کے بارے میں پاکستان کے وزیر اعظم شوکت عزیز کا کہنا تھا کہ پاکستان نے ہمیشہ جوہری توانائی کے پر امن استعمال کی حمایت کی ہے اور وہ امید کرتے ہیں کہ ایران کا جوہری تنازعہ پر امن طریقے سے بات چیت اور سفارتی ذرائع کے ذریعے حل کر لیا جائے گا۔

ایرانی نائب صدر نے کہا کہ وہ پاکستان کی طرف سے ایران کے جوہری تنازعے پر پاکستان کے موقف کی تعریف کرتا ہے کہ اس نے اس مسئلے پر دانشمندانہ موقف اپنایا ہے۔

انہوں نے کہا کہ پر امن جوہری توانائی کا حصول ہر ملک کا حق ہے اور اس پر کوئی سمجھوتا نہیں کیا جا سکتا۔ایرانی نائب صدر نے مذید کہا کہ اس بات کی یقین دہانی کروانے کے لئے کہ ایران کا جوہری پروگرام پر امن مقاصد کے لئے ہے ایران بین الاقوامی برادری کے ساتھ اس مسئلے پر بات چیت جاری رکھنے کے لئے تیار ہے۔

انھوں نے کہا کہ پوری دنیا میں صرف دو تین ایسے ممالک ہیں جو ایران کے پر امن جوہری پروگرام کے مخالف ہیں اور ان کے ذہن میں یہ بات بیٹھ چکی ہے کہ صرف ان ہی کو اس بات کا حق حاصل ہے کہ وہ جوہری ٹیکنالوجی حاصل کرسکتے ہیں اور کسی دوسرے ملک کو یہ حق نہیں ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد