ایران کا رد عمل مثبت ہے: بش | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ ایران کے جوہری پروگرام پر بین الاقوامی تجاویز پر ایران کا ابتدائی رد عمل مثبت معلوم ہوتا ہے۔ ایران کے جوہری مذاکرات کار علی لاریجانی نے کہا ہے کہ یورپی یونین کی جانب سے پیش کی گئی تجاویز میں کچھ مثبت پہلو بھی ہیں جبکہ کچھ مبہم ہیں۔ یورپی یونین کی تجویز شدہ پیکیج کو منظر عام پر نہیں لایا گیا ہے لیکن بی بی سی کو معلوم ہوا ہے کہ اس پیکج میں ایران کو ’ لائٹ واٹر‘ جوہری ری ایکٹر اور سویلین طیاروں کے لیے امریکی پرزے خریدنے کی اجازت ہوگی۔ صدر بش نے کہا کہ یورپی یونین کی تجاویز پر ایران کا ردعمل مثبت معلوم ہوتا ہے لیکن یہ وقت ہی بتائے گا کہ ایران واقعی معاملے کو بات چیت کے ذریعے حل کرنے میں سنیجدہ ہے۔ صدر جارج بش نے کہا کہ امریکہ کا ایران کے جوہری معاملے کو سفارتی ذرائع سے حل کرنا چاہتا ہے۔ علی لاریجانی نے یورپی یونین کے خصوصی نمائندے ہاویئر سولانا کے ساتھ تہران میں بات چیت کے بعد صحافیوں سے بات کرتے ہوئے ان مذاکرات کو ’تعمیری‘ قرار دیا۔ تہران میں بی بی سی کی نامہ نگار فرانسِس ہیرسن کا کہنا ہے کہ مسٹر لاریجانی کے بیان کی خاص بات یہ ہے کہ اس میں مغرب مخالف جارحانہ زبان نہیں استعمال کی گئی ہے۔ |
اسی بارے میں ایران مذاکرات کے لیئے تیار مگر۔۔01 June, 2006 | آس پاس جوہری مذاکرات، ایران کا رویہ مثبت06 June, 2006 | آس پاس پروگرام روکنے والی پیشکش نامنظور14 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||