حزب اللہ کا اسلحہ خانہ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
رواں ہفتے کے دوران حزب اللہ کی جانب سے داغے جانے والے تین سو سے زائد راکٹوں کا اثر شمالی اسرائیل کے قصبات اور زیتون کے باغات سے کہیں دور تک محسوس کیا گیا ہے۔ لبنان پر تین ہفتے سے جاری اسرائیلی فضائی حملوں اور حال ہی میں اسرائیل کے دس ہزار فوجیوں کی لبنان میں پیش قدمی کے باوجود حزب اللہ نے حس طرح اسرائیلی افواج کا مقابلہ کیا ہے وہ قابلِ ذکر ہے۔ بدھ کو حزب اللہ کی جانب سے اسرائیلی علاقوں پر دو سو اکتیس راکٹوں کا پھینکا جانا اس بات کا ثبوت ہے کہ لبنان میں کامیابی کے اسرائیلی دعوؤں کے باوجود شمالی اسرائیل آج بھی حزب اللہ کی پہنچ میں ہے اور جب تک یہ خطرہ باقی ہے اسرائیل کا ’آپریشن چینج آف ڈائریکشن‘ ناکام ہی تصور کیا جائے گا۔
بارہ جولائی کو ان جھڑپوں کے آغاز پر حزب اللہ کے پاس اندازاً تیرہ ہزار راکٹ تھے جو کہ سنہ 2000 میں لبنان پر اٹھارہ سالہ اسرائیلی تسلط کے خاتمے سے لے کر اب تک جمع کیئے گئے ہیں۔ اسرائیلی حکام کے مطابق حزب اللہ کے اسلحہ خانے کا بڑا حصہ تباہ کیا جا چکا ہے تاہم ان دعوؤں کی تصدیق نہیں ہو سکی ہے۔ حزب اللہ کے اسلحہ خانے میں شامل راکٹوں میں سے زیادہ تر روسی ساختہ کتیوشہ راکٹ ہیں جن کی رینج پچیس کلومیٹر تک ہے۔اس رینج میں اسرائیل کے انتہائی شمال میں واقع قصبے اور دیہات ہی آتے ہیں۔ کتیوشہ آسانی سے چلائے جانے اور منتقل کیئے جانے والے ہتھیار ہیں۔ ان کی لمبائی دو میٹر سے بھی کم ہوتی ہے اور انہیں بقول اسرائیل جنوبی لبنان کی شہری آبادی سمیت کہیں بھی چھپایا جا سکتا ہے۔ تاہم ان کے مختصر حجم سے یہ بھی ظاہر ہے کہ یہ تباہ کاری میں سکڈ میزائل یا پھر کسی بھی فضا سے زمین پر مار کرنے والے میزائل سے کم ہیں۔ حزب اللہ کے پاس تھوڑی تعداد میں دور تک مار کرنے والے فجر ۔5 میزائل بھی ہیں۔ ان میزائلوں کی رینج پچھہتر کلومیٹر تک ہے اور یہ مغربی کنارے تک تو پہنچ سکتے ہیں تاہم تل ابیب کو نشانہ نہیں بنا سکتے۔
حزب اللہ کے اسلحہ خانے میں وہ واحد ہتھیار جو اسرائیل کے اس صنعتی دارالحکومت کو نشانہ بنا سکتا ہے ایرانی ساختہ زلزل۔2 میزائل ہے جس کی رینج دو سو کلومیٹر ہے اور یہ چار سو سے چھ سو کلوگرام دھماکہ خیز مواد لے جانے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ آٹھ میٹر لمبا یہ میزائل حزب اللہ کا ایک سٹریٹجک ہتھیار ہے اور یہی وجہ ہے کہ بارہ جولائی سے اب تک اسرائیل کی پوری کوشش رہی ہے کہ وہ لبنان میں ان تمام علاقوں کو تباہ کر دے جہاں سے میزائل پھینکے جا سکتے ہیں۔ ایک اور ہتھیار جو اس جنگ میں حزب اللہ نےموثر طریقے سے استعمال کیا ہے وہ ایرانی ساختہ سی 802 اینٹی شپ میزائل ہے۔ گزشتہ ماہ اسی میزائل سے حزب اللہ نے اسرائیلی جنگی بحری جہاز کو نشانہ بنایا تھا جس سے چار افراد ہلاک ہوئے تھے اور جہاز کو بری طرح نقصان پہنچا تھا۔ جنگ بندی کے حوالے سے اسرائیل کو یہ بھی خدشہ ہے کہ اس صورت میں ایران شامی سرحد کے راستے حزب اللہ کو ہتھیار منتقل کر سکتا ہے اور ممکن ہے کہ اسرائیل لبنان اور شام کی 375 کلومیٹر لمبی سرحد پر بین الاقوامی مبصر تعینات کرنے کا مطالبہ بھی کرے۔
|
اسی بارے میں لبنان: اسرائیلی حملے میں 23 ہلاک 04 August, 2006 | آس پاس حزب اللہ کی دھمکی، اسرائیلی حملے جاری03 August, 2006 | آس پاس اسرائیل لبنان کے چھ کلومیٹر اندر 03 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||