اسرائیلی حملے میں 26 ہلاک | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان میں حکام کا کہنا ہے کہ ایک فارم پر اسرائیلی حملے میں چھبیس افراد ہلاک ہوگئے ہیں۔ اطلاعات کے مطابق اسرائیلی طیاروں کی شام کےساتھ ملنے والی لبنانی سرحد کے ایک گاؤں پر بمباری سے کم از کم چھبیس افراد ہلاک اور تیس زخمی ہوگئے ہیں۔ لبنانی حکام کا کہنا ہے کہ فارم پر کام کرنے والے فروٹ ٹرک پر لوڈ کر رہے تھے کہ ان پر بمباری ہوئی۔ تاہم اسرائیل کا کہنا تھا کہ اسلحہ لیجانے کی ایک کوشش کو ناکام بنایا گیا ہے۔ خبر رساں ادارے رائٹر کےمطابق اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے ہونے والی تباہی کی مکمل تفصیلات ابھی موصول نہیں ہوئی ہیں لیکن ہسپتال میں لائی جانے والی لاشوں کے مطابق ابھی تک چھبیس افراد کی ہلاکت اور تیس افراد کے زخمی ہونے کی تصدیق ہوئی ہے۔ ادھر حزب اللہ نے بھی اسرائیل پر راکٹ داغنے کا سلسلہ جاری رکھا ہوا ہے اور جمعہ کے روز اسرائیل کی حدود میں چالیس راکٹ فائر کیے ہیں جس سے دو اسرائیلی باشندے ہلاک ہو گئے ہیں۔ جنوبی لبنان میں اسرائیلی فوجیوں اور حزب اللہ کے درمیان لڑائی میں دو اسرائیلی ہلاک ہو گئے ہیں۔ اسرائیل نے حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ کی اس دھمکی کے بعد کہ اگر اسرائیل نے وسطی بیروت کو نشانہ بنایا تو تل ابیب پر راکٹ گر سکتے ہیں، اپنی فضائی کارروائی کا دائرہ کار بڑھا دیا ہے۔ اسرائیل نے کہا ہے کہ وہ لبنان میں اسرائیلی سرحد بیس میل دور لیطانی دریا تک جانے کی تیاری کر رہا ہے۔ لبنان کی حکومت کا کہنا ہے کہ جنگ شروع کے دن سے ابتک نو سو لبنانی شہری ہلاک ہو چکے ہیں۔ جمعہ کی صبح اسرائیل کے طیاروں نے بیروت کے جنوبی علاقے اوضے حرد حریق اور رؤس کو نشانہ بنایا۔اوضے کا علاقے ایئرپورٹ کے قریب ہے اور یہاں مقامی شیعہ آبادی کے ساتھ فلسطینوں کی بھی آبادی ہے۔ جنوبی بیروت کے اس علاقے پر حملے سے پہلے اسرائیل نے اس علاقے پر پرچے گرائے جن میں مقامی آبادی کو خبردار کیا گیا تھا کہ وہ جلد از جلد علاقہ چھوڑ دیں۔ اسرائیلی فوجی حکام کہتے ہیں کہ انہوں نے جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے ایک رہنما کے گھر، دفاتر اور فلسطینی تنظیم حماس کے زیرِانتظام ایک عمارت کو نشانہ بنایا۔ اس دوران اسرائیل نے لبنان کی زمینی اور بحری ناکہ بندی سخت کر دی ہے۔ اسرئیلی طیاروں نے بیروت کے شمال میں بیس کلومیٹر کے فاصلے پر جونیا کے عیسائی اکثریتی علاقے میں اس ساحلی سڑک کو نشانہ بنایا جو بیروت سے تریپولی جاتی ہے اور وہاں سے شام کی طرف مڑ جاتی ہے۔
اطلاعات کے مطابق اسرائیلی طیاروں کی بمباری سے شمالی ساحلی ہائی وے پر کم از کم چار پل تباہ ہو گئے ہیں جبکہ ریڈ کراس کے ذرائع کے مطابق پانچ افراد ہلاک اور درجن بھر زخمی بھی ہوئے ہیں۔ اس کے علاوہ متعدد گاڑیوں کو نقصان پہنچا ہے۔ اسرائیلی طیاروں نے وادی بیکا کو بجلی فراہم کرنے والے پاور سٹیشن ابراہیم عبدل آل کو بھی ناکارہ بنا دیا ہے۔ اسرائیلی کارروائی کے سبب شام سے بیروت آنے والا اقوام متحدہ کا ایک امدادی قافلہ راستے میں پھنس گیا ہے جبکہ شام اور لبنان کا زمینی رابطہ بھی منقطع ہو گیا ہے۔ اس دوران جنوبی بیروت پر بمباری کے نتیجے میں آج بیروت سے عالمی خوراک کا جو امدادی قافلہ جنوبی شہر طائر روانہ ہونے والا تھا اس کی روانگی بھی منسوخ کر دی گئی ہے جبکہ ملک میں ایندھن اور پیٹرول کی قلت زمینی اور بحری ناکہ بندی کے سبب نہایت شدت اختیار کر رہی ہے اور اس کی وجہ سے امدادی نقل و حمل پر بھی برا اثر پڑ رہا ہے۔ جن دو آئل ٹینکروں کو جمعرات کے روز بیروت اور تریپولی کی بندرگاہ پر لنگر انداز ہونا تھا وہ اب بھی لبنان کے باہر کھلے سمندر میں کھڑے ہیں اور اسرائیل سے تحفظ کی ٹھوس ضمانتوں کے خواہاں ہیں۔ ادھر اسرائیلی فوجی ذرائع کا کہنا ہے کہ ان کی افواج نے جنوبی لبنان کی سرحد کے ساتھ ساتھ بیس دیہاتوں پر مشتمل علاقے کو سکیورٹی زون کے طور پر کاٹ دیا ہے اور ضرورت پڑنے پر اسرائیلی فوجیں تیس کلو میٹر اندر دریائے لیطانی تک پیش قدمی کے لیے بھی تیار ہیں۔ تاہم اسرائیل کے اس دعوے کی آزاد ذرائع سے تصدیق ہونا ابھی باقی ہے۔ العربیہ ٹیلی ویژن کے مطابق مرقابہ گاؤں میں حزب اللہ کےگوریلوں کے خلاف کارروائی میں تین اسرائیلی فوجی ہلاک ہو گئے ہیں۔ حسن نصراللہ نے المنار ٹی وی پر نشر ہونے والے ایک گھنٹے کے انٹرویو میں کہا تھا کہ حزب اللہ کے پاس تل ابیب کو نشانہ بنانے کی صلاحیت موجود ہے۔ تل ابیب حزب اللہ کے اب تک کے حملوں سے محفوظ رہا ہے۔ تاہم حسن نصر اللہ کی دھمکی کے بعد تل ابیب کے شمال میں پیٹریاٹ میزائل نصب کر دیئے گئے ہیں تاکہ بڑی تعداد میں آنے والے راکٹوں کو تباہ کیا جا سکے۔ شیخ حسن نصراللہ نے واضع کیا کہ انہیں غیرمشروط جنگ بندی تو قبول ہے تاہم کسی شرط کے ساتھ نہیں۔ انہوں نے کہا کہ اگر اسرائیل حملے بند کر دے تو وہ بھی اپنی لڑائی روک سکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں حزب اللہ :اسرائیلی دعوے کی تردید02 August, 2006 | آس پاس ’لبنان حل کیلیے اختلافات بھلا دیں‘02 August, 2006 | آس پاس لبنان: امدادی کاموں میں تعطل 02 August, 2006 | آس پاس حزب اللہ کارکن پکڑنے کا دعویٰ02 August, 2006 | آس پاس بنت جبیل پر کیا بیتی01 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی فوج بعلبک میں01 August, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||