لبنان: متاثرین میں بچے آگے آگے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
جنوبی لبنان میں گزشتہ چار ہفتوں کی لڑائی میں کمی کے آثار کم ہی دکھائی دے رہے ہیں۔ ایسے میں بین الاقوامی ذرائع ابلاغ بھی حملوں، ہلاکتوں اور حماقتوں کو تو بظاہر زیادہ کوریج دے رہا ہے جبکہ اس تنازعے سے پیدا ہونے والا انسانی المیہ پس پشت رہا ہے۔ اس تمام صورتحال میں تکلیف دہ بات اس جنگ کا ایسے افراد پر منفی اثر ہے جن کا اس سے کچھ بھی لینا دینا نہیں۔ نہ ان کی کوئی آواز ہے نہ موقف لیکن پھر بھی وہ فریقین کے بموں اور راکٹوں کا نشانہ بن رہے ہیں۔ یہ معصوم لوگ ہیں متاثرہ بچے۔ ان بچوں کی تعداد کوئی دس بیس نہیں بلکہ ہزاروں میں ہے۔ بین الاقوامی تنظیم ’سیو دی چلڈرن‘ کا کہنا ہے کہ اب تک کی لڑائی میں ہلاک ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد کا تقریباً نصف بچے ہیں۔ یہی تناسب زخمی افراد کی تعداد میں بھی دیکھا جاسکتا ہے۔ بچوں سے متعلق اقوام متحدہ کے ادارے یونیسف کا کہنا ہے کہ جنوبی لبنان میں بےگھر ہونے والے افراد کی مجموعی تعداد کا پینتالیس فیصد اٹھارہ سال سے کم عمر بچوں اور نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ اس لڑائی میں بچوں نے سب سے بڑا نقصان جنوبی لبنان کے قصبے قانا میں اٹھایا جہاں اسرائیلی حملے میں ہلاک ہونے والے ساٹھ افراد میں سے آدھے بچے تھے۔ لندن کے اخبار انڈیپینڈینٹ کے مطابق اس تنازعے کے دوران اتنی بڑی تعداد میں بچوں کی ہلاکتوں کی ایک وجہ جنوبی لبنان میں بڑے خاندان کی روایت بھی ہوسکتی ہے۔ لبنان کی تیس فیصد آبادی کی عمر اٹھارہ سے کم ہے۔ ایک اور وجہ خطرے کی وقت بچوں کا گھبراہٹ میں ایک دوسرے سے لپٹ جانا بھی ہوسکتی ہے۔ یونیسف کے ایک اہلکار انیس سلیم نے بتایا کہ عام طور پر چار یا چھ بچوں والے خاندان کے لوگ ایک ہی مقام پر پناہ لینے کی کوشش کرتے ہیں جس سے اتنی بڑی تعداد متاثر ہوتی ہے۔ ایسی تشویشناک صورتحال میں بین الاقوامی امدادی تنظیموں کا کہنا ہے کہ ان بچوں کی مدد بھی اتنی نہیں ہو رہی جتنی کہ ہونی چاہیے۔ اس کی ایک وجہ امدادی کارکنوں کے مطابق مشرق وسطی کے مسئلے کے بارے میں یہ تاثر بھی ہے کہ یہ قابل حل نہیں۔ ہلاکت یا زخمی ہونے کے علاوہ جو بچے محفوظ رہتے ہیں انہیں روزانہ کی بمباری، لاشیں، چیخ و پکار اور اپنے والدین کی بے بسی جیسے مناظر کو دیکھنا پڑتا ہے۔ اس مسلسل کرب سے انہیں کئی کئی ہفتوں بلکہ مہینوں تک گزرنا پڑتا ہے۔ اس کا ان کے ننھے ذہنوں پر کافی برا اثر پڑتا ہے۔ افغانستان میں دیکھا گیا ہے کہ ایسے بچے راتوں کو نیند سے ہیبت زدہ حالت میں اٹھ بیٹھتے ہیں۔ اس ذہنی حالت سے گزرنے والے بچے ایک لمبے عرصے تک علاج کے متقاضی ہوتے ہیں۔ لڑائی کے بند ہونے کے بعد بھی بچوں کی مشکل کسی حد تک ہی ختم ہو پاتی ہے۔ ان بچوں کے مکانات مسمار، سکول تباہ اور کھیلنے کے میدان ناپید ہوجاتے ہیں۔ لبنان کے متاثرہ بچوں کا بھی یہی مستقبل دکھائی دیتا ہے۔ کسی بھی جنگ میں بچوں کو ذرائع ابلاغ بھی بہت ہی منفی انداز میں دکھاتا رہا ہے۔ لبنان کی لڑائی بھی اس سے کوئی خاص مختلف نہیں۔ ملبے سے نکلنے والی لاشیں اکثر بچوں کی ہی ہوتی ہیں۔ یہ ایک ایسا منظر ہوتا ہے جو ہمیشہ کے لیئے ذہن میں اتر جاتا ہے اور شاید اسی لیئے صحافیوں میں مقبول ہے۔ جب جنگیں نہیں روکی جاسکتیں تو اس دوران بچوں کو پہنچنے والا نقصان بھی نہیں روکا جاسکتا ہے تاہم اسے کوشش سے کم ضرور کیا جاسکتا ہے۔ |
اسی بارے میں ’خواتین کو ترجیح نہ دی جائے‘28 March, 2006 | صفحۂ اول امریکہ کا دوسرا حملہ، مزید چھ افغان بچے ہلاک10 December, 2003 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||