| |||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کا دوسرا حملہ، مزید چھ افغان بچے ہلاک
امریکی حکام کا کہنا ہے کہ امریکی فوج نے افغانستان میں طالبان اور القاعدہ کے مشتبہ افراد کے ٹھکانے پر جو حملہ کیا تھا اس میں ہلاک ہونے والوں میں چھ بچے شامل ہیں۔ افغانستان کے ایک نائب صدر ہدایت امین ارسلا نے کہا ہے کہ اگرچہ حکومت کو دہشتگردی کے خلاف جنگ لڑنے کی اہمیت کا اندازہ ہے مگر افغانستان کو اس جنگ کی بھاری قیمت ادا کرنی پڑ رہی ہے۔ مشرقی افغانستان میں گردیز کے علاقے میں بچوں کی ہلاکت کا یہ واقعہ اس حملے سے مختلف ہے جس میں جنوبی افغانستان میں غزنی کے مقام پر نو افغان بچے مارے گئے تھے۔ اس طرح ایک ہفتے میں کل پندرہ افغان بچے مارے گئے ہیں۔ امریکی ترجمان کا کہنا ہے کہ چھ بچوں کی ہلاکت کا یہ واقعہ گزشتہ جمعہ کو پیش آیا تھا۔ اس وقت افغانستان میں تقریباً دو ہزار امریکی فوجی ایک بڑی زمینی اور فضائی کارروائی میں مصروف ہیں جس کا مقصد جنوب مشرقی افغانستان کے پہاڑوں میں سرگرم شدت پسندوں کا خاتمہ ہے۔
گردیز کے واقعے میں امریکی فوجیوں کو ہفتے کے دن بچوں کی لاشیں ملیں۔ شدت پسندوں کو پکڑنے کے لئے یہ حملہ جمعہ کی رات کو کیا گیا تھا۔ امریکی لیفٹیننٹ کرنل برائن ہیلیفرٹی نے کابل میں صحافیوں کو بتایا کہ ’ہمیں بچوں کی ہلاک کا علم اس وقت ہوا جب ہم نے دیکھا کہ ان کی لاشیں ایک ٹوٹی ہوئی دیوار کے ملبے کے نیچے دبی ہوئی تھیں۔ بچوں کے ساتھ دو بڑوں کی بھی لاشیں تھیں۔‘ انہوں نے کہا کہ امریکی فوج کو اس طرح کی بالکل اطلاع نہیں تھی کہ اس علاقے میں عام شہری ہوں گے۔ شدت پسند ملا جیلانی وہاں نہیں تھے البتہ امریکی فوج نے نو دیگر افراد کو گرفتار کر لیا۔ ہفتے کے اختتام پر امریکہ نے تسلیم کیا تھا کہ اس کی فوج نے غلطی سے ایک فضائی حملے میں نو افغان بچوں کو ہلاک کر دیا تھا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||