’خواتین کو ترجیح نہ دی جائے‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پاکستان کے زیر انتظام کشمیر کی حکومت نے کہا کہ اقوام متحدہ کے ادارے اور ملکی اور غیر ملکی غیر سرکاری تنطیمیں متاثرہ علاقوں میں خواتین کو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کرکے وہاں کے معاشرتی ڈھانچے کو نقصان نہ پہنچائیں۔ ان اداروں نے پاکستان کے زیرانتظام کشمیر کے متاثرہ علاقوں کی لڑکیوں کی بہت بڑی تعداد کو بھرتی کیا ہے۔ گوکہ یہ مسئلہ پہلے سے ہی محدود پیمانے پر زیر بحث ہے اور اس پر طرح طرح کی چہ مگوئیاں بھی ہوتی رہی ہیں لیکن یہ پہلی مرتبہ ہے کہ حکومت نے اس مسئلے پر کھل کر بیان دیا ہے۔ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر میں اس وقت اقوام متحدہ کے ادارے اور اور کئی بین الااقوامی غیر سرکاری تنظیمیں امدادی سرگرمیوں میں مصروف ہیں اور ان اداروں میں متاثرہ علاقوں کی خواتین کی بہت بڑی تعداد کام کرتی ہے۔ ان اداروں خاص طور پر غیر ملکی تنظیموں کی طرف سے آسامیوں کے لیئے شائع کیئے جانے والے اشتہارات میں یہ جملہ خاص طور پر درج ہوتا ہے کہ’خواتین کی درخواستوں کی حوصلہ افزائی کی جاتی ہے‘۔
کشمیر کے اس علاقے کے لیئے وزیراعظم سردار سکندر حیات خان کے مشیر برائے سیاسی امور راجہ فاروق حیدر نے ان اداروں کی طرف سے خواتین کو بڑے پیمانے پر بھرتی کرنے کے اقدام کو تنقید کا نشانہ بناتے ہوئے کہا کہ یہ ادارے خواتین کو تو ترجیحی بنیادوں پر بھرتی کرتے ہیں لیکن دوسری طرف مردوں کو یا تو نظر انداز کیا جاتا ہے یا ان کو کم ترجیح دی جاتی ہے۔ انہوں نے کہا کہ’ بین الااقوامی ادارے ایسا کرکے ہمارے سماجی ڈھانچے کو نقصان پہنچا رہے ہیں‘۔ انہوں نے کہا’ ہم مرد اور عورت کی برابری پر یقین رکھتے ہیں اور ہمارا آئین بھی یہی کہتا ہے لیکن کشمیر کا یہ علاقہ پہاڑی اور مشکل ہونے کے باعث اور زلزے کے بعد غیر معمولی صورت حال کے پیش نظر خواتین فیلڈ ورکرز کے لیئے موزوں نہیں ہےاور اس کے لیئے مرد ہی موزوں ہیں اور وہی یہ کام آسانی سے کرسکتے ہیں۔ انہوں نے کئی مشکلات کا ذکر کیا جن کا خواتین کو کام کے دوران سامنا ہے۔ فاروق حیدر نے کہا کہ ’اقوام متحدہ کے ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں گاؤں اور دور دراز علاقوں میں کام کرتی ہیں اور اکثر یہ ہوتا ہے کہ ان اداروں کے ساتھ کام کرنے والے مرد یا خواتین رات کو دیر سے واپس آتے ہیں‘۔ انہوں نے سوال کیا کہ جب تودے کی وجہ سے سڑک بند ہوجائے، راستے میں گاڑی خراب ہوجائے تو ایسی صورت میں خواتین کیا کریں گی؟ ان کی دیکھ بال کون کرے گا؟ وہ کہاں رہیں گی؟ ان کی حفاظت کا ذمہ دار کون ہوگا؟۔ فاروق حیدر نے کہا کہ تمام اداروں میں شام پانچ بجے چھٹی ہوتی ہے لیکن فیلڈ میں کام کرنے والی خواتیں شام کو دیر سےگھر لوٹتی ہیں۔ راجہ فاروق حیدر نے کہا کہ ایسی غیر معمولی صورت حال میں خواتین کو زیادہ خطرات ہیں اور ان کا غلط استعمال بھی ہوسکتا ہے۔ انہوں نے کہا کہ ’ان تمام باتوں کو مد نظر رکھ کراگر کوئی واقعہ رونما ہوا تو اقوام متحدہ کے ادارے اور غیر سرکاری تنظیمیں اس کی ذمہ دار ہوں گی۔ اس لیئے ان اداروں کو اپنی ذمہ داری کا احساس کرنا چاہیے‘۔ انہوں نے اس بات کی طرف بھی اشارہ کیا کہ مقامی روایات کے مطابق مرد ہی ہمیشہ خاندان کے لیئے روزی کماتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ’ہم اس بات کے مخالف نہیں ہیں کہ خواتین کام نہ کریں یا ان کو ملازمت نہیں دی جائے بلکہ ہم یہ کہتے ہیں کہ خواتین کے ساتھ ساتھ زیادہ سے زیادہ مردوں کو بھی بھرتی کیا جائے اور خواتین کو دفاتر کا کام سونپ کر مردوں کو فیلڈ کا کام دیا جائے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ’ ہم یہ نہیں کہتے ہیں یہ ادارے اپنے رویئے تبدیل کریں بلکہ وہ اس علاقے کی سماجی اقدار اور غیرمعمولی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے احتیاط سے کام لیں تاکہ لوگ ان پر انگلی نہ اٹھاسکیں‘۔ |
اسی بارے میں زلزلہ: حاملہ خواتین کا کرب21 October, 2005 | پاکستان زلزلہ: امدادی پروازیں منسوخ15 January, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کو بے حسی کا سامنا14 February, 2006 | پاکستان زلزلہ: امداد 5ء2 بلین، قرضہ 4 بلین16 February, 2006 | پاکستان زلزلہ زدگان کے مظاہرے پر کارروائی06 March, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کی واپسی شروع 09 March, 2006 | پاکستان زلزلہ متاثرین کی گھر واپسی شروع11 March, 2006 | پاکستان زلزلہ، کشمیر میں ایک شخص ہلاک10 March, 2006 | پاکستان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||