قرارداد کے متن پر امریکہ فرانس متفق | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ اور فرانس نے کہا ہے کہ وہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بند کرانے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے متن پر متفق ہوگئے ہیں۔ اقوام متحدہ میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فرانس نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ وہ اور امریکہ قرارداد کے مسودے پر سمجھوتہ کرچکے ہیں۔ فرانس اور امریکہ کے درمیان قرارداد کے مسودے پر اختلافات کئی دنوں سے برقرار تھے۔ مسودے کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں لیکن اب یہ قرارداد سلامتی کونسل میں منظوری کے لیے بھیجی جائے گی۔ فرانس اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعطل ایسے وقت ختم ہوا جب ایک سینیئر امریکی اہلکار ڈیوِڈ ویلچ بیروت کا دورہ کررہے ہیں جہاں انہوں نے لبنان کے وزیراعظم فواد سنیورا سے سنیچر کی صبح ملاقات کی۔ ڈیوِڈ ویلچ نے لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیح بیری سے بھی جنگ بندی سے متعلق بات چیت کی ہے۔
اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا کہ جنگ بندی طے کرنے کے لیے جتنا وقت لگ رہا ہے اس پر وہ فکرمند ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئی دنوں سے لبنان میں جنگ کے لیے کوششیں جاری رہی ہیں۔ بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد چند دنوں میں منظور ہوسکتی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس پیر کو اقوام متحدہ کا دورہ کرسکتی ہیں جس دن اس قرارداد کی منظوری کی توقع کی جارہی ہے۔ امریکہ اور فرانس جن نکات پر اتفاق کرنے کی کوشش کررہے تھے وہ حسب ذیل ہیں: اول یہ کہ کتنی جلدی بین الاقوامی فوج لبنان روانہ کی جائے تاکہ وہ جنوبی لبنان میں بفر زون پر کنٹرول کرسکے اور فائربندی پر عمل کرے۔ فرانس، جو بین الاقوامی فوج کی قیادت کرسکتا ہے، اس وقت تک اپنی فوج نہیں بھیجے گا جب تک یہ خطرہ برقراررہے گا کہ اس کی افواج کو لڑائی کرکے اس علاقے میں داخل ہونا پڑے گا۔
دوسری بات یہ کہ اسرائیل کا اقدام کیا ہونا چاہیے؟ کیا اس کی افواج جنوبی لبنان میں بین الاقوامی فوج کے آنے تک موجود رہیں جیسا کہ اسرائیل کا اصرار ہے، یا اسرائیل سے کہا جائے کہ وہ بین الاقوامی فوج کے داخل ہونے سے پہلے واپس چلا جائے؟ اگر سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی سے قبل اسرائیلی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو لبنانی فوج کی جنوبی علاقوں میں تعیناتی یقینی بنانی ہوگی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس علاقے پر حزب اللہ کا کنٹرول رہا ہے۔ حزب اللہ ایک مشروط فائربندی کے لیے تیار ہے۔ اس دوران عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل امر موسیٰ عرب ممالک کے دورے پر ہیں جہاں وہ لبنان جنگ کے بارے میں گفت و شنید کررہے ہیں۔ ادھر، ملائشیا اور انڈونیشیا نے اس بات کے اشارے دیے ہیں کہ وہ بین الاقوامی امن فوج میں شامل ہوسکتے ہیں۔ |
اسی بارے میں حزب اللہ کی دھمکی، اسرائیلی حملے جاری03 August, 2006 | آس پاس لبنان: متاثرین میں بچے آگے آگے 04 August, 2006 | آس پاس حزب اللہ کا اسلحہ خانہ04 August, 2006 | آس پاس عراق: حزب اللہ کے حق میں مظاہرہ04 August, 2006 | آس پاس بیروت اور طائر پراسرائیلی حملے جاری04 August, 2006 | آس پاس لندن: جنگ مخالف مظاہرہ، ہزاروں متوقع05 August, 2006 | آس پاس بیروت، طائر پر اسرائیلی حملے اور جھڑپ 05 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||