BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 August, 2006, 11:27 GMT 16:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
قرارداد کے متن پر امریکہ فرانس متفق
دارالحکومت بیروت کی عمارتیں اسرائیلی بمباری میں کھنڈرات بن چکی ہیں

امریکہ اور فرانس نے کہا ہے کہ وہ لبنان میں اسرائیل اور حزب اللہ کے درمیان جنگ بند کرانے کی اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی ایک قرارداد کے متن پر متفق ہوگئے ہیں۔

اقوام متحدہ میں بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ فرانس نے اس بات کی تصدیق کردی ہے کہ وہ اور امریکہ قرارداد کے مسودے پر سمجھوتہ کرچکے ہیں۔

فرانس اور امریکہ کے درمیان قرارداد کے مسودے پر اختلافات کئی دنوں سے برقرار تھے۔ مسودے کی تفصیلات نہیں بتائی گئی ہیں لیکن اب یہ قرارداد سلامتی کونسل میں منظوری کے لیے بھیجی جائے گی۔

فرانس اور امریکہ کے درمیان سفارتی تعطل ایسے وقت ختم ہوا جب ایک سینیئر امریکی اہلکار ڈیوِڈ ویلچ بیروت کا دورہ کررہے ہیں جہاں انہوں نے لبنان کے وزیراعظم فواد سنیورا سے سنیچر کی صبح ملاقات کی۔ ڈیوِڈ ویلچ نے لبنانی پارلیمنٹ کے سپیکر نبیح بیری سے بھی جنگ بندی سے متعلق بات چیت کی ہے۔

بین الاقوامی فوج کی تعیناتی
 اگر سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی سے قبل اسرائیلی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو لبنانی فوج کی جنوبی علاقوں میں تعیناتی یقینی بنانی ہوگی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس علاقے پر حزب اللہ کا کنٹرول رہا ہے۔
اسسٹنٹ سیکرٹری آف سٹیٹ ڈیوِڈ ویلچ کا یہ دورہ ایسے وقت ہورہا ہے جب بیروت میں حزب اللہ کے حق میں مظاہرے ہوئے ہیں۔ ان کے دورے کے لیے بیروت میں سکیورٹی کے انتظامات سخت کردیے گئے ہیں۔

اس سے قبل اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل کوفی عنان نے کہا تھا کہ جنگ بندی طے کرنے کے لیے جتنا وقت لگ رہا ہے اس پر وہ فکرمند ہیں۔ اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل میں کئی دنوں سے لبنان میں جنگ کے لیے کوششیں جاری رہی ہیں۔

بی بی سی کے ایک نامہ نگار کا کہنا ہے کہ جنگ بندی سے متعلق سلامتی کونسل کی قرارداد چند دنوں میں منظور ہوسکتی ہے۔ امید کی جارہی ہے کہ امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس پیر کو اقوام متحدہ کا دورہ کرسکتی ہیں جس دن اس قرارداد کی منظوری کی توقع کی جارہی ہے۔

امریکہ اور فرانس جن نکات پر اتفاق کرنے کی کوشش کررہے تھے وہ حسب ذیل ہیں:

اول یہ کہ کتنی جلدی بین الاقوامی فوج لبنان روانہ کی جائے تاکہ وہ جنوبی لبنان میں بفر زون پر کنٹرول کرسکے اور فائربندی پر عمل کرے۔ فرانس، جو بین الاقوامی فوج کی قیادت کرسکتا ہے، اس وقت تک اپنی فوج نہیں بھیجے گا جب تک یہ خطرہ برقراررہے گا کہ اس کی افواج کو لڑائی کرکے اس علاقے میں داخل ہونا پڑے گا۔

اسرائیلی بمباری میں بڑے پیمانے پر تباہی ہوئی ہے
لہذا، فرانس کا اصرار ہے کہ قرارداد میں ایک طویل فائربندی کی بات ہو اور اس کے لیے ایک سیاسی سمجھوتے پر فوج بھیجنے سے قبل اتفاق ہوجائے۔ دوسری جانب ، امریکہ اپنی فوج نہیں بھیجنے والا ہے۔

دوسری بات یہ کہ اسرائیل کا اقدام کیا ہونا چاہیے؟ کیا اس کی افواج جنوبی لبنان میں بین الاقوامی فوج کے آنے تک موجود رہیں جیسا کہ اسرائیل کا اصرار ہے، یا اسرائیل سے کہا جائے کہ وہ بین الاقوامی فوج کے داخل ہونے سے پہلے واپس چلا جائے؟

اگر سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے بین الاقوامی فوج کی تعیناتی سے قبل اسرائیلی افواج کے انخلاء کا مطالبہ کیا جاتا ہے تو لبنانی فوج کی جنوبی علاقوں میں تعیناتی یقینی بنانی ہوگی۔ لیکن مسئلہ یہ ہے کہ اس علاقے پر حزب اللہ کا کنٹرول رہا ہے۔ حزب اللہ ایک مشروط فائربندی کے لیے تیار ہے۔

اس دوران عرب لیگ کے سیکرٹری جنرل امر موسیٰ عرب ممالک کے دورے پر ہیں جہاں وہ لبنان جنگ کے بارے میں گفت و شنید کررہے ہیں۔ ادھر، ملائشیا اور انڈونیشیا نے اس بات کے اشارے دیے ہیں کہ وہ بین الاقوامی امن فوج میں شامل ہوسکتے ہیں۔

امداد میں تعطل
محفوظ رستے فراہم نہ کرنے کی ہٹ دھرمی
کب کیا ہوا؟
لبنان اسرائیل جنگ میں کب کیا ہوا؟
حزب کا اسلحہ خانہ
فوجی اور نفسیاتی طور پر کارگر راکٹ حملے
سلامتی کونسللبنان میں امن
اقوام متحدہ قرار داد کے گرداب میں
مشرق وسطیٰ کا بحران
تباہی کے باوجود حزب اللہ کے جنگجو مضبوط
لبنانمکمل تباہی سر پر
’حالات ہمارے ہاتھ سے نکل چکے ہیں‘
اسی بارے میں
حزب اللہ کا اسلحہ خانہ
04 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد