BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 05 August, 2006, 07:58 GMT 12:58 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
تباہی کے باوجود حزب اللہ مضبوط

اگرچہ اسرائیل ماضی میں بھی حزب اللہ کا سامنا کر چکا ہے لیکن اس کی طرف سے شمالی اسرائیل پر بڑی تعداد میں راکٹ پھینکنے پر حیرت ہوئی ہے۔

اور یہ بھی قابل حیرت ہے کہ حزب اللہ کو ابھی تک لبنانی عوام کی بھاری حمایت حاصل ہے اور یہ حمایت اب لبنان سے باہر بھی پھیل رہی ہے۔اگرچہ حزب اللہ کو ہتھیاروں کی فراہمی کے سارے راستے بند ہو چکے ہیں اور لبنان کو جانے والے تمام پل اور سڑکیں بمباری سے تباہ کر دیئے گئے ہیں اس کے باوجود یہ نہیں لگتا کہ حزب اللہ کو کچھ عرصے کے لئے نئے ہتھیاروں کی ضرورت ہے۔

حزب اللہ کے لیڈر حسن نصراللہ المنارٹی وی پر ایک تقریر میں کسی حد تک فائر بندی پر راضی نظر آئے مگر حقیقتاً وہ اپنی جگہ پر ڈٹے ہوئے ہیں۔ حسن نصراللہ نے اپنی تقریر میں کہا کہ خدا کی یہ پارٹی اسرائیل کے دعوؤں کے باوجود ابھی بہت مضبوط ہے۔ حسن کی اس بات سے فوجی ماہرین بھی متفق ہیں۔

سابق فوجی جنرل امین حطاطے کا ماننا ہے کہ حزب اللہ کئی مہینے تک لڑائی جاری رکھ سکتا ہے۔ امین کا یہ بھی کہنا ہے کہ اس گروپ کو گوریلا لڑائی ہی کے لئے تیار کیا جاتا ہے اور وہ یہ اچھی طرح سے جانتے ہیں کہ پل اور سڑکیں تباہ کر دی جائیں گی اسی لئے ہرعلاقے میں ہتھیار کی وافر مقدار موجود ہے۔

یہ بھی سننے میں آیا ہے کہ حزب اللہ کو پہلے ہی سے حملے کا شک تھا اس لئے اس نے کافی ہتھیار اکٹھے کر رکھے تھے۔

ٹیمر گوکسل حزب اللہ کو 1980 کے شروع سے ہی جانتے ہیں جب یہ تنظیم معرض وجود میں آئی تھی۔ اس وقت ٹیمر اقوام متحدہ کے جنوبی لبنان میں امن قائم رکھنے کے لئے سیاسی مشیر تھے۔ ٹیمر کے مطابق دلچسپ بات یہ ہے کہ ابھی تک حزب اللہ کےحامی ہی لڑتے ہوئے نظر آ رہے ہیں جبکہ وہ ابھی اپنے اصل جنگجوؤں کو سامنے لائے ہی نہیں ہیں۔

ٹیمر نے کہا کہ میرے خیال میں اسرائیل اگر اور آگے بڑھ کر ایک علاقے پر قبضہ کر لے تب حزب اللہ اپنے ماہر جنگجوؤں کو سامنے لائے گا جو اسرائیل کو کافی مہنگا پڑ سکتا ہے۔

لبنان کے شیعہ مسلمانوں کا کہنا ہے کہ حزب اللہ صرف فوجی یا سیاسی پارٹی کے طور پر ہی کام نہیں کرتی بلکہ اپنے حامیوں کو یہ سوشل سروس بھی مہیا کرتی
ہے۔

بیروت کے ایک سکول میں حزب اللہ کی بنائی ہوئی پناہ گاہ میں پندرہ سو لوگ رہائش پذیر ہیں۔ اس پناہ گاہ کو چلانے والے ایک حزب اللہ کارکن کا کہنا ہے کہ گروپ کے اپنے انجینئرز اور کارکن ہیں۔ حزب اللہ نے ایک ایسا نظام بنا رکھا ہے کہ یہ لوگوں کو ڈٹے رہنے کے لئے ہر چیز مہیا کرتا ہے۔

ایک اور خاتون کا کہنا ہے کہ حکومت کے اتنے ذرائع نہیں ہیں اس لئے حزب اللہ ہر طرح سے ہماری مدد کر رہا ہے۔ اور یوں شیعہ کمیونٹی کی نہ بدلنے والی وفاداری اس کے ساتھ ہے۔

لبنان کی مرکزی حکومت صدیوں سے کمزور چلی آرہی ہے اس لئے حزب اللہ کو یہاں سب کچھ کرنا بہت آسان ہے۔ مگر یہ بھی کہا جاتا ہے کہ حزب اللہ نے شیعہ کمیونٹی کو قابو میں کر رکھا ہے اور اپنے سکولوں، ہسپتالوں اور خواتین کی جماعتوں کےذریعے حکومت کو الگ کر رکھا ہے۔

اسی بارے میں
جنگ کی قیمت
04 August, 2006 | Poll
حزب اللہ کا اسلحہ خانہ
04 August, 2006 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد