وسعت اللہ خان بی بی سی اردو ڈاٹ کام، بیروت |  |
 | | | ’اسرائیل نے بمباری کر کے ہر راستہ تباہ کر دیا ہے‘ |
لبنان میں پچھلے چوبیس دن سے جاری جنگ کے سبب نو لاکھ لوگ بےخانماں ہو چکے ہیں اور ان میں سے کوئی دو لاکھ نے شام میں پناہ لے رکھی ہے جبکہ باقی بیروت، طائر اور سیدون جیسے شہروں کے آس پاس یا شوو کے پہاڑوں میں سر چھپانے کی کوشش کر رہے ہیں۔ اس وقت لبنان کا زمینی، فضائی اور سمندری راستہ عملاً باقی دنیا سے منقطع ہے۔ ایسی صورتحال میں اقوامِ متحدہ اور اس کی امدادی ایجنسیاں کیا ہاتھ پر ہاتھ دھرے بیٹھی ہیں یا کچھ ہاتھ پاؤں مار بھی رہی ہیں۔بیروت میں اقوامِ متحدہ کے ترجمان دلجیت سنگھ بگا نے اس سوال پر بتایا کہ’حالات ہمارے ہاتھ سے نکل چکے ہیں اور اب کسی بھی دن نظام بیٹھ سکتا ہے۔ہماری سب سے بڑی مشکل یہ ہے کہ ہم کسی امدادی قافلے کو کہیں بھیج نہیں سکتے۔ کسی بھی امدادی قافلے کی نقل و حرکت کے لیئے لبنانی حکومت حزب اللہ اور اسرائیل تینوں سے اجازت لینا پڑتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ کافی سامان یہاں گودام میں پڑا ہوا ہے۔ جمعہ کو ہمارے دو قافلے جانے والے تھے لیکن آٹھ ٹرکوں پر مشتمل ایک ہی قافلہ جزین جا سکا جبکہ بارہ ٹرکوں کے دوسرے قافلے کی طائر کے لیئے روانگی ممکن نہیں ہو سکی‘۔  | | | امداد گوداموں میں پڑی ہے متاثرین تک نہیں پہنچ پا رہی |
مہاجرین کے مسئلے پر دلجیت کا کہنا تھا کہ’اب تک دس لاکھ کے قریب لوگ بےگھر ہو چکے ہیں۔ جنوبی لبنان میں بہت سے گاؤں خالی ہو چکے ہیں اور اب بس وہاں بہت ہی ضعیف لوگ رہ گئے ہیں اور ہم ان تک پہنچ بھی نہیں پا رہے ہیں۔ جنوبی لبنان میں تو ایک تہذیب کو ختم کیا جار ہا ہے۔ جنگ ختم بھی ہوگئی تو بھی یہ لوگ جو بےگھر ہیں کہاں جائیں گے کیونکہ ان کے گھر تو تباہ ہو چکے ہیں‘۔ اس سوال پر کہ اسرائیل کا کہنا ہے کہ لبنان کے تمام امدادی راستے بند نہیں کیئے گئے اور شمالی سرحد کا راستہ امدادی کارروائیوں کے لیئے کھلا ہے دلجیت سنگھ کا کہنا تھا کہ’ایک طرف اسرائیل کہتا ہے کہ ہم اجازت دیتے ہیں اور دوسری جانب انہوں نے بمباری کر کے ہر راستہ تباہ کر دیا ہے‘۔ پٹرول کی قلت پر دلجیت سنگھ نے بتایا کہ اب لبنان میں پانچ دن کا تیل بچا ہے اور وہ بھی عوام کو فروخت نہیں کیا جا رہا ہے، ملک کے قریباً تمام گیس سٹیشن بند پڑے ہیں اور جو کھلے ہیں وہ فی کار چھ لیٹر سے زیادہ نہیں دے رہے ہیں۔ ہم نے پٹرول کی ترسیل کی اجازت مانگی تاہم اب تک کچھ نہیں ہوا۔ یہی مسئلہ پانی کا بھی ہے۔ کئی دیہات میں پانی نہیں ہے جبکہ جہاں ہے وہ بالکل مٹی والا پانی ہے۔ اب ان حالات میں لوگ کیسے جی سکتے ہیں‘۔ |