لو ساحل بھی چلا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لبنان کے پاس سیاحوں کے لیئے پہاڑی علاقے اور دو سو بیس کلومیٹر طویل ساحلی پٹی کے علاوہ اور ہے ہی کیا۔ لیکن یہی وہ ساحلی پٹی ہے جس کے کنارے طائر سے تریپولی تک اسّی فیصد ہوٹل انڈسٹری پھیلی ہوئی ہے جو سیاحت کی آمدنی کا بیشتر حصہ کما کر دیتی ہے۔ یہاں کے مچھیروں کا ذکر انجیل تک میں موجود ہے۔ ان ساحلوں پر سبز کچھوے جو انڈے ریت میں دبا دیتے ہیں ان میں سے جولائی میں بچے نکلتے ہیں اور نکلتے ساتھ ہی تیزی سے سمندر کی طرف بھاگتے ہیں، اپنی زندگی کا پہلا غسل اور سبق لینے کے لیئے۔ چونکہ ساحل نیم پتھریلا ہے اس لیئے بلیو فن ٹیونا مچھلی کی خاصی بڑی آماجگاہ ہے۔ یہ تو تھی ہاف ٹائم سے پہلے کی فلم بیروت سے تیس کلومیٹر جنوب میں کوسٹل ہائی وے پر جیئہ کے مقام پر ایک تیل سے چلنے والا بجلی گھر قائم ہے۔ یہ بجلی گھر تیرہ جولائی تک جنوب کے بہت بڑے حصے کو برقی توانائی فراہم کرتا تھا۔ اسرائیلی طیاروں نے تیرہ سے پندرہ جولائی تک دو مرتبہ اس بجلی گھر کو نشانہ بنایا۔جس کے نتیجے میں بجلی گھر کے چھ ٹینکوں میں جمع لگ بھگ پینتیس ہزار ٹن تیل میں سے کچھ تو جل گیا جس کے کالے بادل بیروت تک پہنچے جبکہ بیشتر تیل بحیرہ روم کی نیلی رگوں میں اتر گیا۔ بجلی گھر کے چھٹے ٹینک سے اب تک دھواں اٹھ رھا ہے۔ پچھلے بیس روز کے دوران جنوب سے شمال کی جانب چلنے والی ہوا کے سبب یہ تیل شام کے ساحل تک کوئی ایک سو کلومیٹر کی پٹی میں پھیل گیا ہے اور ماحولیاتی ماہرین نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اس کے اثرات ترکی، قبرص اور یونان کے ساحل تک جائیں گے۔
بحیرہ روم کے علاقے میں ماحولیاتی تباہی کا یہ اپنی نوعیت کا سب سے بڑا واقعہ ہے۔ اس کی سنگینی کا اندازہ آپ یوں لگا لیں کہ انیس سو نواسی میں امریکی ریاست الاسکا کے ساحل پر ایگزون آئل کمپنی کے لیئے تیل لے جانے والے جہاز کو پیش آنے والے حادثے میں ایک لاکھ دس ہزار بیرل تیل سمندر میں پھیلا تھا اور اس حادثے سے الاسکا کی بحری حیاتیات آج تک جانبر نہیں ہو سکی ہے۔ ماحولیاتی ماہرین جیئہ کے بجلی گھر کے ذخیرے سے رسنے والے تیل کے حادثے کو الاسکا کے حادثے سے زیادہ سنگین بتا رہے ہیں۔ اگر آج بھی لبنان کے ساحل کو صاف کرنا شروع کیا جائے تو اس کام میں کم ازکم چھ ماہ اور پچاس ملین ڈالر کی رقم درکار ہے جبکہ بحری حیاتیات کو بحال ہونے میں کم ازکم دس برس کا عرصہ چاہیئے۔ لبنان نے اس آفت سے نمٹنے کے لئے اقوام متحدہ کے ماحولیاتی ادارے، یورپی یونین اور کویت سے مدد کی اپیل کی تھی کیونکہ کویت کو انیس سو اکیانوے میں تیل کے کنوؤں میں لگنے والی آگ کے سبب ماحولیاتی مسائل سے نمٹنے کا خاصا تجربہ ہو چکا ہے۔ کویت نے آلات اور ساحل کی صفائی کے لئے چالیس بیرل کیمیکل بھیجا ہے۔ لیکن یہ سامان بیروت میں تین ٹرکوں پر لدا پڑا ہے۔انتظار اس بات کا ہے کہ اسرائیل کب لبنان کی بحری ناکہ بندی ختم کرتا ہے تاکہ ساحل کی صفائی شروع ہو۔لیکن جنگ بندی کا مرحلہ آتے آتے شائد اتنی دیر ہوجائے کہ پھر کسی کیمیکل یا مدد یا مہارت کی ضرورت ہی نہ رہے۔ مجھے ان حالات میں لبنان کے ساحل پر جنم لیتے ہی تیل سے آلودہ ریت میں لت پت دم گھٹنے کرمرجانے والے نوزائyدہ سبز کچھوے اور بنتِ جبیل گاؤں میں بمباری سے مرجانے والے ایک دن کے بچے میں کوئی فرق محسوس نہیں ہو رہا۔ |
اسی بارے میں لبنان میں’ماحولیاتی بحران‘01 August, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||