لبنان میں’ماحولیاتی بحران‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام نے لبنان کے ساحلی پانیوں میں تیل کی موجودگی سے پیدا ہونے والی آلودگی کے حوالے سے شدید خدشات ظاہر کیئے ہیں۔ مقامی ماحولیاتی گروپوں نے بھی تیل کے رساؤ کو’ماحولیاتی تباہی‘ قرار دیا ہے۔ جیہا بجلی گھر پر اسرائیلی بمباری کے نتیجے میں رسنے والا تیل سمندر میں اسّی کلومیٹر تک پھیل چکا ہے اور پانی میں اتنی مقدار میں تیل شامل ہو چکا ہے جتنا کہ سنہ 1989 میں الاسکا میں ایگزون والدز کے آئل ٹینکروں کے واقعے میں پھیلا تھا۔ اقوامِ متحدہ اور دیگر بین الاقوامی تنظیمیں اس صورتحال پر قابو پانے کے لیئے لبنانی حکومت کی مدد کر رہی ہیں۔ اقوامِ متحدہ کے ماحولیاتی پروگرام کے اعلٰی افسر آچم سٹائنر کا کہنا ہے کہ’ لبنانی حکومت نے اس معاملے میں اقوامِ متحدہ سے مدد کی اپیل کی ہے اور ہم وہ سب کچھ کرنے کو تیار ہیں جو ہمارے بس میں ہے‘۔
بحیرۂ روم کے کناروں پر آباد ممالک نے بھی اس سلسلے میں فنّی مدد اور کارکن فراہم کرنے کی پیشکش ہے تاہم لبنان کی وزارتِ ماحولیات کا کہنا ہے کہ اس وقت ان کے پاس پانی میں موجود تیل کی صفائی کے لیئے انتہائی کم آلات موجود ہیں۔ تیل کا رساؤ تیرہ سے پندرہ جولائی کے درمیان جیہا پاور پلانٹ پر اسرائیلی حملوں کے بعد شروع ہوا تھا اور تباہ شدہ ٹینکوں سے ابتدائی اندازوں کے مطابق دس ہزار ٹن ’فیول آئل‘ بہہ گیا تھا تاہم بعد میں یہ مقدار پینتیس ہزار ٹن بتائی گئی تھی۔ لبنانی وزارتِ ماحولیات کے افسر برج ہتجیان کے مطابق اس وقت اتنا تیل بہہ چکا ہے جتنا کہ ایک ٹینکر ڈوبنے سے بہہ سکتا ہے اور اس میں سے بیس سے تیس ہزار ٹن تیل ساحلی پٹی تک بھی پہنچ گیا ہے۔
ماحولیاتی گروپوں کے ایک اتحاد نے اس واقعے کو لبنانی تاریخ کا بدترین ’ماحولیاتی بحران‘ قرار دیا ہے۔ ان گروپوں کا کہنا ہے کہ کچھ تیل سمندر کی تہہ میں بھی بیٹھ گیا ہے جس سے ٹیونا مچھلیوں کی افزائش بری طرح متاثر ہوئی ہے۔ اس کے علاوہ تیل کی چکنائی کی وجہ سے سبز کچھووں کی نسل کو بھی خطرات کا سامنا ہے۔ | اسی بارے میں بعلبک والوں نے ابھی ہار نہیں مانی01 August, 2006 | آس پاس سفارتی کوششیں کیا رنگ لائیں گی؟ 31 July, 2006 | آس پاس قانا: ’اب یہاں کوئی نہیں۔۔۔‘31 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||