اقوام متحدہ قرار داد کے گرداب میں | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اقوام متحدہ میں آج کل لبنان میں جنگ بندی سے متعلق قرار داد پر بحث جاری ہے۔ فرانس نے ایک مسودہ پیش کیا ہے، تاہم بات چیت کا سلسلہ ابھی جاری ہے۔ سفارت کار مختلف الفاظ اور منصوبوں پر گفتگو میں مصروف ہیں۔ اگرچہ فرانس، امریکہ اور برطانیہ تشدد کے خاتمے ترجیح پر متفق دکھائی دیتے ہیں، لیکن قرار داد کی تحریری شکل اور جنگ بندی پر عمل درآمد کے طریقہ کار پر اختلافات کا شکار ہیں۔ اقوام متحدہ میں فرانسیسی سفیر جین ڈی لا سبلئیر متنبہ کرتے ہوئے کہتے ہیں کہ پچانوے سے سو فیصد اتفاق تک پہنچنے میں وقت لگ سکتا ہے۔ وقت یقینا لگ رہا ہے۔ جین ڈی لا سبلئیر اور امریکی سفیر جان بولٹن کے درمیان جمعرات کو تین گھنٹے کی بات چیت بھی اختلاف ختم نہیں کر سکی۔ جان بولٹن کا کہنا تھا کہ اختلافات کم ہوئے ہیں مگر ’ہم یقینا ابھی کسی معاہدے تک نہیں پہنچے ہیں۔ ہم نے تخلیقی سوچ سے کام لیا ہے اور اپنی حکومتوں کو غور کرنے کے لیئے کچھ بھجوانے تک آپہنچے ہیں‘۔ اب وہ دوبارہ بات چیت شروع کریں گے۔ امریکی وزارت خارجہ کا کہنا تھا کہ اگر ضرورت پڑی تو وہ اپنے سفارت کاروں کو اختتام ہفتہ پر بھی مذاکرات جاری رکھنے کی ہدایت دیں گے۔
امریکی وزیر خارجہ کونڈولیزا رائس امید کر رہیں ہیں کہ وہ پیر کو نیو یارک کا سفر کریں گی تاکہ سلامتی کونسل کے دیگر پندرہ رکن ممالک کا کسی قرار داد کی تیاری کی صورت میں ووٹنگ میں ساتھ دیں سکیں۔ اس وقت دو باتیں تنازعہ کا باعث ہیں۔ پہلی تو یہ کہ کتنی جلد کثرالملکی فورس لبنان بھیجی جائے تاکہ وہ جنگ بندی اور بفرر زون پر عمل درآمد کراسکے۔ خیال ہے کہ شاید فرانس اس فورس کی قیادت کرے گا اور سب سے بڑی تعداد میں اس فورس کے لیئے فوجی بھی مہیا کرے گا۔ تاہم فرانس وہاں جانے کا منصوبہ ترک بھی کر سکتا ہے اگر اسے وہاں پہنچ کر لڑائی میں پھنسنے کا خطرہ ہو۔ فرانس پائیدار جنگ بندی اور جامع سیاسی حل پر زور دے رہا ہے۔ امریکہ خود تو فوجی نہیں بھیجے گا لیکن اس کی کوشش ہے کہ یہ فورس پائیدار امن کو یقینی بنانے کے لیئے جلد وہاں بھیجی جائے۔ دوسرا متنازعہ پہلو اسرائیل سے متعلق ہے کہ اسے کیا کرنا چاہیے۔ اس کی فوجوں کو کثرالملکی فورس کی آمد تک جنوبی لبنان میں رہنا چاہیے یا نہیں؟ یہ اسرائیلی حکومت کی بھی خواہش ہے۔ یا پھر اسے اپنے فوجی جنگ بندی کے اعلان کے ساتھ ہی واپس اسرائیل بلا لینا چاہیے۔
امید کی جا رہی ہے کہ اقوام متحدہ آئندہ چند روز میں تشدد کے خاتمے کے لیئے کوئی اپیل کرنے کی پوزیشن میں ہوگا۔ ایسی اپیل کے پیچھے ناصرف سلامتی کونسل کا اخلاقی دباؤ ہوگا بلکہ امریکہ اور فرانس کی سیاسی آمادگی بھی ہوگی۔ یہ قرار داد امریکہ اور یورپ کو یکجا کرسکے گی اور جنگی فریقین پر دباؤ کا باعث بھی ہوگی۔ اس کے باوجود ایسی کوئی ضمانت نہیں کہ اس سے امن ممکن ہوسکے گا۔ البتہ اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل کوفی عنان کا سلامتی کونسل سے کہنا ہے کہ وہ جلد از جلد عمل کرے۔ ان کا کہنا ہے: ’میرے خیال میں اسرائیل اور لبنان میں لوگ کافی مصیبتیں جھیل چکے ہیں‘۔ | اسی بارے میں نیو یارک: اقوام متحدہ کے باہر مظاہرہ01 August, 2006 | آس پاس ’غزہ میں حالت فاقوں کے قریب‘03 August, 2006 | آس پاس امریکہ : انسانی حقوق کی پامالی29 July, 2006 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||