BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 03 August, 2006, 00:44 GMT 05:44 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’غزہ میں حالت فاقوں کے قریب‘
غزہ کے سکول میں پناہ گزیں بچی
غزہ کےایک سکول میں پناہ گزیں بچی
اقوام متحدہ اور تیس دیگر امدادی اداروں نے عالمی رہنماؤں سے اپیل کی ہے کہ وہ غزہ کی صورتحال کو مت بھولیں جہاں ان کے مطابق حالات اتنے ہی خراب جتنے جنوبی لبنان میں۔

انہوں نے کہا کہ جون کے آخر میں فلسطینی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں ایک اسرائیلی فوجی کے اغوا کے بعد سے اب تک ایک سو پچاس فلسطینی ہلاک ہو چکے ہیں جن میں بہت سے عام شہری ہیں۔ اس دوران علاقے میں خوراک اور ضروری اشیا کی فراہمی تقریباً بند ہو چکی ہے۔

ایک تنظیم کیئر انٹرنیشنل کے مطابق امدادی اداروں میں احساس پیدا ہو رہا ہے کہ غزہ کی آبادی کو دہشت زدہ کیا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے مطابق اسرائیل فلسطینیوں کو روکنے کے لیئے ہر روز ایک چھوٹے سے خطے میں ایک سو پچاس گولے پھینکتا ہے۔ فلسطینیوں کی طرف سے اوسطاً ہر روزدس راکٹ اسرائیلی علاقوں میں پھینکے جاتے ہیں۔

فاقوں کی نوبت
 ہر روز ایک سو پچاس ٹرک ضروری سامان لے کر غزہ میں داخل ہوتے ہیں لیکن یہ سامان سرف لوگوں کو فاقوں سے بچانے کے لیئے کافی ہے
کیئر انٹرنیشنل

اسرائیل کا کہنا ہے کہ آبادیوں کو نشانہ بنانا اس کی مجبوری ہے کیونکہ عسکریت پسند وہاں چھپے ہوئے ہیں۔ لیکن امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ غزہ کے چودہ لاکھ لوگ مستقل خوف میں جی رہے ہیں۔ ہفتے کی کئی راتوں کو اسرائیلی ہیلی کاپٹر غزہ کے اوپر گھومتے ہیں جس کے بعد فضائی حملوں کی گونج سنائی دیتی ہے۔

اسرائیل نے غزہ میں پرچیاں پھینک کر اور ٹیلی فون پر پیغامات کے ذریعے لوگوں کو عسکریت پسندوں کے گھروں کے قریب رہائش رکھنے کے بارے میں متنبہ کیا ہے لیکن امدادی اداروں کا کہنا ہے کہ ایسے اقدامات سے لوگوں پر خوف طاری ہوتا ہے اور ان کے پاس جانے کے لیئے کوئی جگہ نہیں ہے۔

اقوام متحدہ نے فی الحال ایک ہزار لوگوں کو سکولوں میں پناہ دی ہوئی ہے۔ بہت سے لوگ اپنے رشتہ داروں کے پاس چلے گئے ہیں۔

ہر روز ایک سو پچاس ٹرک ضروری سامان لے کر غزہ میں داخل ہوتے ہیں لیکن کیئر انٹرنیشنل کے مطابق یہ سامان سرف لوگوں کو فاقوں سے بچانے کے لیئے کافی ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ اس مقدار کو چار سو ٹرکوں تک پہنچانے کی ضرورت ہے۔

اسرائیل کی طرف سے غزہ کا پاور سٹیشن تباہ کیے جانے کے بعد سے وہاں لوگ اندھیرے میں رہ رہے ہیں۔ اکثر گھروں میں صاف پانی اور بجلی نہیں ہوتی اور محکمۂ صحت کے حکام کو تشویش لاحق ہے کہ کہیں بیماریاں نہ پھیل جائیں۔

اسرائیل ٹینک غزہ میں
دریں اثناء جمعرات کی الصبح اسرائیلی فوج نے جنوبی غزہ میں داخل ہو کر رفاہ شہر کے باہر مورچہ بندی کر لی۔ فلسطینی شہریوں اور سیکیورٹی حکام کے مطابق تقریباً پچاس اسرائیلی ٹینک بلڈوزروں کے ساتھ غزہ میں داخل ہو گئے ہیں۔

اس کے علاوہ اسرائیلی فضائی حملے میں تین فلسطینی ہلاک ہو گئے۔ اسرائیلی فوج کا کہنا ہے کہ انہوں نے ان لوگوں پر فائر کیا جو ان پر ٹینک شکن راکٹ فائر کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد