لندن میں مظاہرہ، ٹونی بلیئر پر تنقید | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
لندن میں سنیچر کے روز جنگ مخالف مظاہرہ ہوا جس میں ہزاروں افراد نے شرکت کی اور اسرائیل کی طرف سے لبنان میں عام شہریوں پر حملوں کو ’جنگی جرائم‘ قرار دیا۔ جنگ مخالف اتحاد ’سٹاپ دی وار کولیشن‘ کے زیر اہتمام ہونے والا یہ مظاہرہ ہائیڈ پارک سے شروع ہو کر ہاؤسز آف پارلیمنٹ پر ختم ہوا۔ منتظمین کے مطابق ایک لاکھ کے قریب لوگ شامل ہوئے جبکہ پولیس کے مطابق مظاہرین کی تعداد بیس ہزار تک تھی۔ یہ مظاہرہ ایسے وقت ہوا ہے جب برطانوی مسلمانوں میں وزیر اعظم ٹونی بلیئر کی پالیسیوں سے دوری دن بدن بڑھ رہی ہے۔ جنگ مخالف اتحاد میں شامل تنظیموں کے نمائندوں کے علاوہ مظاہرین سے پارلیمان کے متعدد اراکین نے بھی خطاب کیا۔ مقررین کا کہنا تھا کہ وزیراعظم ٹونی بلیئر امریکی صدر پر اثرانداز میں ناکام ہو رہے ہیں۔ لندن سے لیبر پارٹی کی ایم پی ڈیان ایلبرٹ نے کہا کہ ’اس بات میں کوئی شک نہیں کہ اسرائیل لبنان میں جنگی جرائم کا مرتکب ہو رہا ہے۔‘ ان کا کہنا تھا کہ وہ رہنما جنہوں نے اسرائیلی حملوں کے خلاف آواز نہیں اٹھائی ان کا کردار شرمناک ہے۔ ’میں تیس برس سے لیبر پارٹی کی رکن ہوں لیکن میں برطانوی وزیر اعظم کی اسرائیلی حملوں کی خاموش حمایت پر شرمندہ ہوں۔‘ ’فرینڈز آف الاقصیٰ‘ نامی تنظیم کے اسماعیل پٹیل نے کہا کہ اگر امریکہ اور برطانیہ صرف حماس یا حز ب اللہ پر تنقید پہ اکتفا کرتے تو اتنی مایوس نہ ہوتی ’لیکن افسوس ہے کہ صدر بش اور وزیر اعظم ٹونی بلیئر اسرائیل کی کھلی جارحیت کو نہ روک کر دہشت گردی کی طاقتوں کو مزید تقویت دے رہے ہیں۔‘ ریلی سے لیبر پارٹی کے معمر رہنما والٹر وولفگینگ نے، جو خود یہودی ہیں، بھی خطاب کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ حکومت کو چاہیے کہ وہ فوراً پارلیمان کا اجلاس بلائے اور فوری اور غیر مشروط فائر بندی کروانے کی کوشش کرے۔ واضح رہے کہ برطانوی پالیمان گرمیوں کی تعطیلات کے لیے تقریباً دو ہفتے کے بند ہے، تاہم ٹونی بلیئر نے اپنی تعطیلات منسوخ کر دی ہیں۔ جلوس کے شرکاء نے لبنان میں سینکڑوں بچوں کی ہلاکت کے خلاف علامتی احتجاج کے طور پر وزیر اعظم کی رہائش گاہ کے قریب واقع ایک یادگار کے نیچے بچوں کے جوتے بھی چھوڑے۔ منتظمین نے مظاہرین سے کہا تھا کہ وہ بچوں کی ہلاکت پر احتجاجاً اپنے جوتے برطانیہ کے لیئے جان دینے والے ہیروز کی یادگار ’سینوٹاف‘ کے پہلو میں رکھیں۔ لوگ صبح سے ہی ہائیڈ پارک میں جمع ہونا شروع ہو گئے تھے۔گرمی کے باوجود گھریلو خواتین اور چھوٹے بچوں کی ایک بڑی تعداد ریلی میں موجود تھی۔ شرکاء نے امریکی صدر اور برطانوی وزیر اعظم کے خلاف شدید نعرہ بازی کی۔
مقررین نے برطانوی حکومت پر امریکہ سے اسرائیل اسلحہ لیجاتے ہوئے دو طیاروں کو برطانیہ میں اترنے کی اجازت دینے پر غصے کا اظہار کیا۔ ان کا کہنا تھا کہ ایسا کرنے سے برطانیہ نے نہتے عورتوں اور بچوں پر اسرائیلی حملوں کی حمایت کی ہے۔ برٹش مسلم انیشیئٹو کی سمیہ غنوشی کا کہنا تھا کہ اسرائیل حملوں نے ہزاروں عورتوں اور بچوں کو بے گھر کر دیا ہے اور ان کے لیئے کوئی جائے پناہ نہیں اور وہ خوف کی زندگی گزارنے پر مجبور ہو چکے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ امریکی وزیر خارجہ کے اس بیان میں کہ امریکہ ایک ’نئے مشرق وسطیٰ‘ کا خواہش مند ہے، کوئی سچائی نہیں۔ ’ہمیں عراق پر حملے سے پہلے کہا گیا تھا کہ اس کے بعد ایک نیا عراق جنم لے گا لیکن آج عراق تباھی کے دھانے پر کھڑا ہے۔ ہمیں خدشہ ہے کہ امریکہ بقیہ مشرق وسطیٰ میں بھی جنگ کے ذریعے ’جمہوریت‘ لانے کا خواہش مند ہے۔‘ | اسی بارے میں لندن میں جنگ مخالف مظاہرہ19 March, 2005 | صفحۂ اول نیویارک میں جنگ مخالف ریلی30 April, 2006 | آس پاس واشنگٹن میں جنگ مخالف ریلی24 September, 2005 | آس پاس عراقی برسی: جنگ مخالف مظاہرے20 March, 2005 | آس پاس لندن میں جنگ مخالف مظاہرہ 17 October, 2004 | صفحۂ اول | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||