نیویارک میں جنگ مخالف ریلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ کے شہر نیویارک میں لاکھوں افراد نے ایک احتجاجی ریلی میں شرکت کی ہے جس میں امریکی حکومت سے فوری طور پر عراق سے امریکی فوج کے انخلاء کا مطالبہ کیا گیا ہے۔ اس احتجاجی ریلی میں شہری آزادیوں کے علمبردار جیسی جیکسن اور آسکر ایوارڈ یافتہ ادارکارہ سوزن سارنڈن کے علاوہ عراق میں مارے جانے والے ایک امریکی فوجی کی ماں سنڈی شیہان نے بھی شرکت کی۔ ریلی کے منتظمین نے کہا کہ اس احتجاج کا مقصد عراق سے امریکی فوجیوں کی واپسی کے مطالبے کے علاوہ ایران پر ممکنہ امریکی حملے کی بھی مخالفت کرنا تھا۔ نیویارک کے مرکزی علاقے مین ہیٹن میں منعقد کی جانے والی ریلی میں شامل لوگوں نے فوجوں کی واپسی کے حق میں کتبے اور بینر اٹھا رکھے تھے۔ عراق میں ہلاک ہونے والے فوجی کی ماں نے اپنے بیٹے کی تصویر اٹھا رکھی تھی جو انیس سو چوراسی میں پیدا ہوا اور دو ہزار چار میں بیس سال کی عمر میں عراق میں مارا گیا۔ اجتجاجی ریلی مین ہیٹن کے دس بلاکس تک پھیلی ہوئی تھی اور منتظمین نے اس میں تین لاکھ افراد کے شریک ہونے کا دعویٰ کیا جبکہ پولیس کے حکام نے کوئی ریلی میں شریک لوگوں کی تعداد کے بارے میں کوئی اندازہ لگانے سے انکار کر دیا۔ ریلی میں شریک شہری آزادیوں کے لیے کام کرنے والی تنظیم کے ایک رکن نے کہا کہ ’ ہم آج یہاں اس لیے جمع ہوئے ہیں کیونکہ یہ ایک غیر قانونی اور غیر اخلاقی جنگ ہے‘۔ ریلی کا اہتمام ’یونائیٹڈ فار پیس اینڈ جسٹس‘ نامی ایک تنظیم نے کیا تھا۔ عراق میں مارچ سن دوہزار تین سے اب تک دو ہزار تین سو فوجی مارے جاچکے ہیں۔ | اسی بارے میں بغداد اور رمادی میں زبردست لڑائی18 April, 2006 | آس پاس بغداد دھماکے: چھ افراد ہلاک24 April, 2006 | آس پاس مشرف کو ہٹا دیں: ایمن الظواہری29 April, 2006 | آس پاس مزاحمت کاروں کے منظم حملے27 April, 2006 | آس پاس امریکہ:خفیہ اداروں کے اہلکار سیخ پا 22 April, 2006 | آس پاس ڈونلڈ رمزفیلڈ اچانک بغداد پہنچے26 April, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||