عراقی برسی: جنگ مخالف مظاہرے | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
سنیچر کو دنیا بھر میں عراقی پر امریکہ اور اس کے اتحادیوں کے حملے اور قبضے کے خلاف جنگ اور امریکہ مخالف مظاہرے کیے گئے۔ ان مظاہروں میں جگہ جگہ ہزارہا افراد نے حصہ لیا۔ پاکستان میں ان مظاہروں کا اہتمام کئی گروپوں کی جانب سے کیا گیا۔ راولپنڈی کے مظاہرے میں شریک یک جہتی کمیٹی کے حامیوں نے جنگ مخالف پلے کارڈ اٹھائے ہوئے تھے۔ ان مظاہرین نے عراق اور افغانستان سے امریکی فوجوں کی فوری واپسی کا مطالبہ کیا۔ مظاہرے میں شریک ایک عمر رسیدہ خاتون ایک بینر اٹھایا ہوا تھا جس پر لکھا ’کہاں ہیں وسیع تباہی کے ہتھیار‘۔ بھارت میں کلکتہ کے جنگ مخالف مظاہری میں مظاہرین نے بڑے بڑے بینر اٹھا رکھے تھے جن پر انگلو امریکی افواج سے کہا گیا تھا عراق سے نکل جاؤ۔ مظاہرین نے صدر بش کے پتلے بھی جلائے۔ یہ مظاہرہ کولکتہ میں امریکی سفارتخانے کے باہر کیا گیا۔ مغربی ایوری کوسٹ میں بھی بڑے اور پُر امن مظاہرے کیے گئے۔ یونان میں ہزارہا مظاہرین نے سڑکوں پر ایسی تصاویر بنائی جو پولیس قتل کی واردات کے موقع پر بناتی ہے۔ مظاہرین میں سے اکثر نے کفن جیسے لباس پہن رکھے تھے۔
ایتھنز میں مظاہرین نے صدر بش کو دہشت گرد نمر ایک قرار دیا، ان مظاہریں نے صدر بش کو ایک بم پر بیٹھے ہوئے دکھایا تھا۔ ترکی میں بھی امریکہ اور جنگ کے خلاف بڑے پیمانے پر مظاہرہ کیا گیا تاہم پولیس نے مظاہرین کو ایک مخصوص مقام سے آگے نہیں جانے دیا۔مظاہرین نے حکمراں پارٹی کے پرچم اٹھائے ہوئے تھے اور اور نعرے لگا رہے تھے’استعمار کی شلست ہو گی‘۔ لندن میں سنیچر کو عراق میں جنگ کے خلاف ایک بہت بڑا احتجاجی مظاہرہ کیا گیا جس میں ہزاروں لوگوں نے شرکت کی۔ اس موقع پر ٹرافالگر سکوئر میں ایک جلسے بھی ہوا جس میں صدر بش اور ٹونی بلئیر کے خلاف تقاریر کی گئی اور نعرے بازی کی۔
مظاہرے میں شریک لوگوں نے صدر بش اور وزیر اعظم ٹونی بلیئر کے خلاف کتبے، بینر اور پوسٹرز اٹھا رکھے تھے۔ جن میں سے کچھ لوگوں نے فلسطین کی آزادی کے حق میں بھی بینر اور پوسٹر اٹھا رکھے تھے۔ جلسے کے سٹیج پر ایک بہت بڑا پوسٹر لگایا گیا تھا جس پر لکھا تھا برطانیہ اپنی عراق سے اپنی فوج واپس بلائے۔ اس سال ہونے والے احتجاجی مظاہروں میں گزشتہ سال کی نسبت کم لوگوں نے شرکت کی۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||