BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 20 March, 2004, 18:42 GMT 23:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
لندن: عراق چھوڑو نعرے مظاہرے

عراق
عراق جنگ کا جواز دو
بیس مارچ کو لندن کے شہریوں نےعراق جنگ کا پہلا سال مکمل ہونے پر عراقی عوام سے یکجہتی اور بلئیر حکومت کی مخالفت کا اظہار کیا۔

میری دس سے شام چھ بجے تک کی شفٹ تھی سو میں بذات خود مظاہرین کے ساتھ تو ہائیڈ پارک کارنر سے ریلی میں شامل نہیں ہو سکی مگر اتنا موقع ضرور ملا کہ میری ایما پر میرے ایڈیٹر نے مجھے اس سارے مجمعے کے ٹریفلگر سکوائر پہنچنے اور وہاں ہونے والی کارروائیوں کو اس صفحے تک پہنچانے کے لۓ وہاں جانے کا وقت دے ہی دیا۔

بش ہاؤس سے نکل کر سٹرینڈ کو جانے والی سڑک پر لوگوں کی بڑی تعداد ٹریفلگر سکوائر کی جانب رواں دواں تھی۔ ایسا لگتا تھا کہ حکومت برطانیہ جو اس جنگ کے حق میں امریکہ کی ایک اہم حلیف رہی ہے آج کے دن سے اگر خائف نہیں تو محتاط ضرور تھی۔

یعنی ہر چوراہے پر پولیس والے موجود تھے۔ کئی مقامات پر ہنگامی صورتحال سے نمٹنے کے لۓ ایمبولنسیں بھی کھڑی نظر آئیں اور اسی سب کو دیکھتے دیکھتے ٹریفلگر سکوائر آ گیا۔

عراق جنگ کا ایک سال پورا ہوا
 ایسا لگتا تھا کہ حکومت برطانیہ جو اس جنگ کے حق میں امریکہ کی ایک اہم حلیف رہی ہے آج کے دن سے اگر خائف نہیں تو محتاط ضرور تھی۔

کئی سو احتجاجی مظاہرین سے بھرے ٹریفلگر سکوائر میں بش بلئیر مخالف پوسٹر اور کتبے پورے احاطے پر آویزاں تھے۔ جن میں سے کسی پر ٹونی بلئیر کی خون کے چھینٹوں سے آلودہ تصویریں عیاں تھیں تو کسی پر جارج بش سے سچ طلب کرنے کا مطالبہ درج تھا۔

ایک بڑی سکرین پر بش بلئیر سمیت اس جنگ کے دیگر حامیوں کی تقریروں کے ٹکڑے بھی دکھائے جا رہے تھے۔

کان پڑی آواز اس لۓ سنائی دینا مشکل تھی کیونکہ بڑے بڑے لاؤڈ سپیکروں پر جنگ مخالف گانے لگے ہوئے تھے۔

عراق جنگ کا ایک سال پورا ہوا
 ایک کتبے پر لکھا تھا ’ اس جنگ کا جواز دو‘ اور دوسرے پر ٹونی بلئیر کی تصویر کے نیچے لکھا تھا ’بلئیر ہر جواز کے لۓ بہرے ہیں‘ ۔

جگہ جگہ مختلف غیر سرکاری اور اس جنگ کی مخالف تنظیموں نے اپنے سٹال لگاۓ ہوۓ تھے جو عراق جنگ کے متاثرین کے لۓ ٹی شرٹس اور جنگ مخالف بیجز فروخت کر کے چندہ اکھٹا کر رہے تھے۔

ٹریفلگر سکوائر آنیوالے ہر عمر ہر رنگ ونسل کے لوگ تھے اس موقع پر ایسا لگتا تھا کہ یہ سب اس جنگ کے سال مکمل ہونے پر جنگ کے حامیوں سے پوچھنا چاہتے ہوں کہ’ اس جنگ کا جواز دو‘ جیسل ایک پلے کارڈ پر ٹونی بلئیر کی تصویر کے نیچے لکھا تھا ’بلئیر ہر جواز کے لۓ بہرے ہیں‘ ۔

تھوڑی دیر میں اعلان ہوا کہ ہائیڈ پارک سے چلا جلوس جلد ہی ٹریفلگر سکوائر پہنچنے کو ہے۔ سبھی کی نظریں ٹریفلگر سکوائر میں داخلے والے راستے کی طرف اٹھیں جہاں آ پہنچا تھا کئی سو سے زائد مظاہرین پر مشتمل منظم جلوس جو ہاتھوں سے زنجیریں بناۓ رضاکاروں کے پیچھے چل رہا تھا۔

ان سبھی نے جنگ مخالف، امریکہ مخالف اور بلئیر مخالف کتبے اٹھائے ہوئے تھے یہ سارا مجمع پہلے سے موجود لوگوں میں ضم ہوگیا۔ گانے بجنا بند ہوئے اور گذشتہ برس بیس مارچ کو یاد کرنے کا تقریری سلسلہ شروع ہوا۔

مقررین میں برطانوی خاتون صحافی ایون رڈلی بھی شامل تھیں جو گذشتہ برس افغانستان میں قید رہی تھیں جنہوں نے اب اسلام بھی قبول کر لیا ہے۔

مقررین سٹیج پر آتے اور عراق جنگ پر امریکہ و برطانیہ کو جہاں تنقید کا نشانہ بناتے رہے وہیں انہوںنے سپین کی عوام کے حوصلے کو سراہا جو ہفتہ قبل میڈرڈ کے بم دھماکوں کے بعد ملک میں حکومت تبدیلی کا مطالبہ کر رہی ہے۔

ایسا لگتا تھا کہ تمام مقررین لندن والوں سے بھی ایسے ہی مطالبے کی خواہش کر رہے ہوں!۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد