واشنگٹن میں جنگ مخالف ریلی | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی دارالحکومت واشنگٹن میں ہزاروں افراد ایک جنگ مخالف مظاہرے میں شرکت کر رہے ہیں۔ مظاہرے میں سو سے زائد جنگ مخالف تنظیموں کے نمائندوں اور عراق کی جنگ میں مارے جانیوالے فوجیوں کی ماؤں، اہلِ خانہ اور محبوباؤں نے شرکت کی۔ واشنگٹن سے موصول ہونے والے اطلاعات کے مطابق ہر طرف مرد، عورتیں، بچے اور بوڑھے مظاہرے میں شرکت کے لیے امڈے چلے آرہے ہیں۔ مظاہرے میں شریک ایک اخبار نویس کے مطابق ایک موقع پر ریلی میں شرکاء کی تعداد ایک لاکھ سے تجاوز کر چکی تھی اور مزید لوگ مظاہرے میں شرکت کےلیے آرہے تھے۔ مظاہرے میں سب سے زیادہ دلچسپ منظر جنگِ عراق میں مارے جانیوالے فوجیوں کے نام اور تصویروں اور امریکی جھنڈوں سے مزین انکی یاد میں بنائی جانیوالی فرضی قبروں کا قبرستان تھا۔ عراق کی جنگ میں مارے جانیوالے ایک امریکی فوجی کی ماں سینڈی شیان اس سے قبل ریاست ٹیکساس کے شہر کرافورڈ کے میں صدر بش کےذاتی زرعی فارم کے سامنے جنگ عراق میں جاں بحق ہونیوالے فوجیوں کی ماؤں کے ساتھ کئی دنوں تک جنگ مخالف مظاہرہ کرتی رہی ہیں۔ ’ویسے اگر دیکھو تو امریکہ کے مغربی حصے میں کرافورڈ کی زمین کتے کا ایک سوکھا ہوا پاخانہ لگتی ہے لیکن سینڈی شین کے جنگ مخالف مظاہرے نے اسے یادگار بنادیا ہے‘، ایسے کچھ الفاظ گزشتہ ماہ امریکی راک میوزک اور سیاست پر منفرد جریدے ’رولنگ اسٹون‘ کی جنگ مخالف مظاہرے کی سرورق رپورٹ میں چھپے تھے۔ ’بش جھوٹا ہے‘، ’بش نے جھوٹ بولاہے‘، ’بش کو اسکے عہدے سے معزول کرو‘ اور ’بش کو گرفتار کرو‘ جیسے نعرے واشنگٹن ڈی سی میں ہونیوالے مظاہرے کے شرکاء کے ہاتھوں میں اٹھائے ہوئے کتبوں پر تحریر تھے۔ بہت سے شرکاء نے صدر ش کی شکل بگاڑ کر اسکے ڈراؤنے ماسک پہن رکھے تھے۔ مظاہرین کی ایک بڑی تعداد نے مارٹن لوتھر کنگ اور میلکم ایکس کی تصاویر بھی اٹھا رکھی تھیں اور بڑے بڑے بینروں پر تحریر تھا: ’نسل پرستی ختم کرو‘ذ واشنگٹن ڈی سی میں یہ جنگ مخالف مظاہرہ جو سنیچر کی صبح شروع ہواہے آئندہ تین روز تک جاری رہے گا۔ |
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||