اسرائیلی حملہ پسپا کیا ہے: حزب اللہ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
حزب اللہ نے دعویٰ کیا ہے کہ اس نے طائر پر اسرائیلی بحریہ کے کمانڈوز کے ایک حملے کو پسپا کر دیا ہے۔ دوسری جانب اسرائیلی کا کہنا ہے کہ اس حملے میں اس کے آٹھ فوجی زخمی ہوئے ہیں۔ اسرائیلی ذرائع کے مطابق اس حملے کا نشانہ حزب اللہ کے راکٹر لانچر تھے جہاں سے جمعہ کے روز طویل فاصلے تک مار کرنے والا راکٹ پھینکا گیا تھا۔ یہ راکٹ اسرائیل میں حدیرہ کے مقام پرگرا تھا۔ اس سے قبل حزب اللہ کا کوئی راکٹ اسرائیلی سرحد کے اندر اتنے زیادہ فاصلے پر نہیں گرا تھا۔ اسرائیل کے سرکاری ترجمان ایوی پازنر نے صحافیوں کو بتایا کہ اس راکٹ حملے سے ظاہر ہوتا ہے کہ حزب اللہ ایسا ایران کے بل بوتے پر کر رہا ہے۔ ’ ہم یہ نہیں بھول سکتے کہ حزب اللہ کو یہ راکٹ دیئے کس نے ہیں۔ صاف ظاہر ہے یہ ایران نے کیا ہے۔ حزب اللہ کی اپنی کوئی حیثیت نہیں ہے وہ تو صرف اپنے آقا ایران کا کنٹریکٹر ہے۔ اب جبکہ یہ راکٹ داغے جا رہے ہیں تو ہمیں یاد رکھنا چاہیے کہ مشرق وسطیٰ کو اصل خطرہ ایران سے ہے جو ہمارے اس خطے پر جنگ اور تباہی لانا چاہتا ہے۔‘ ترجمان نے مزید کہا کہ اسرائیل جنوبی لبنان سے حزب اللہ کا خاتمہ کر کے رہے گا تا کہ اب سے تین یا چھ ماہ بعد ہمیں حزب اللہ کے خلاف ایسی ہی کارروائی دوبارہ نہ کرنی پڑے۔ اس دوران جنوبی لبنان میں لڑائی جا رہی ہے جہاں تقریباً دس ہزار اسرائیلی فوجی حز ب اللہ کو اس علاقے سے بے دخل کرنے کی کوشش کر رہے ہیں۔ ادھر امدای اداروں نے کہا ہے کہ لبنان اور شام کو ملانے والی مرکزی سڑ ک پر اسرائیلی بمباری کے بعد امدادی سامان کی ترسیل میں شدید مشکلات پیش آ رہی ہیں اور بے گھر ہو جانے والے ہزارہا تک امدادی سامان نہیں پہنچ رہا ہے۔ |
اسی بارے میں امریکی اہلکار بیروت کے دورے پر05 August, 2006 | آس پاس تباہی کے باوجود حزب اللہ مضبوط05 August, 2006 | آس پاس بیروت اور طائر پراسرائیلی حملے جاری04 August, 2006 | آس پاس اسرائیلی حملے میں 26 ہلاک 04 August, 2006 | آس پاس مشرقِ وسطٰی میں تباہی، کیمرے کی آنکھ سے30 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||