BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 August, 2006, 11:46 GMT 16:46 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گرفتار افراد کے جاننے والے کیا کہتے ہیں
لندن
لندن میں چھاپے مارے جانے والے ایک مکان کے باہر تعینات پولیس
برطانیہ میں تین مقامات سے طیاروں کو فضا میں تباہ کرنے کی سازش میں چوبیس افراد گرفتار کیئے گئے ہیں۔ ان کا تعلق ہائی وکہم، لندن اور برمنگم سے ہے۔

ہائی ویکم

پولیس کی جانب سے طیاروں کو تباہ کرنے کے ناکام منصوبے کے سلسلے میں لندن میں کی جانے والی تحقیقات کا محور وہ دو بھائی ہیں جو بکنگم شائر کے علاقے ہائی ویکم کے ایک مکان میں رہتے تھے۔

اس مکان پر پولیس نے علی الصبح چھاپہ مارا اس دوران اردگرد کا علاقہ سیل کر دیا گیا اور قریبی مکانات کو بھی خالی کرا لیا گیا۔ جب ان بھائیوں کی گرفتاری کی خبر پھیلی تو مقامی افراد نے بتایا کہ دونوں ایک مقامی اسلامی کتب کی دوکان کے چکر لگایا کرتے تھے۔

لندن کے اخبار گارڈین نے مقامی افراد سے بات چیت پر مشتمل ایک تفصیلی رپورٹ جمعہ کے ایڈیشن میں شائع کی ہے۔ اس میں ایک مقامی تعمیراتی کارکن چھبیس سالہ فل ریڈفرن نے بتایا کہ یہ دونوں اکثر باہر نکل کر فٹبال کھیلا کرتے تھے لیکن بعد میں الگ تھلگ رہنے لگے۔

فل جو ان بھائیوں کو جانتے تھے کا کہنا تھا کہ اب جگہ جگہ اسلامی کتابوں کی دکانیں بن گئی ہیں۔ ’وہاں بتائی جانے والی تبلیغ مختلف ہے۔‘

ہمسایوں کا کہنا تھا کہ دونوں بھائی ٹوٹرریج ڈرائیو کے علاقے میں ایک نیلے دروازے والی کتابوں کی د کان میں اکثر جایا کرتے تھے۔ اس سٹور میں کام کرنے والے ایک شخص ظفر اقبال کا کہنا تھا وہ ان بھائیوں کے والد کو جانتے ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ یہ لوگ پاکستان کے زیر انتظام کشمیر سے نقل مکانی کرکے یہاں آئے تھے اور ابتدا میں ایک کپڑے کی فیکٹری میں کام کرتے تھے۔ انہوں نے اس تاثر کو تسلیم کرنے سے انکار کیا کہ ان بھائیوں کی سوچ پر کوئی اثر اس دوکان میں آنے سے پڑا۔ ’یہ اسلحے کی نہیں کتابوں کی دوکان ہے‘۔

 یہ اسلحے کی نہیں کتابوں کی دوکان ہے
ظفر اقبال

ایک اور ہمسائے عاشق رسول نے بھی ان بھائیوں کا دفاع کیا۔ ’وہ میرے اچھے دوست اور پختہ مسلمان ہیں۔ انہیں مسجد میں بڑوں سے اونچی آواز میں بات نہ کرنے اور معصوم لوگوں کو تکلیف نہ پہنچانے کا درس دیا گیا ہے۔ ایک بھائی کی بیٹی بھی ہے اور وہ اپنی بیوی کو چاہتا ہے۔ وہ بچوں کا خیال رکھتا تھا۔ یہ لڑکے کبھی بھی دہشت گردی میں ملوث نہیں ہوسکتے۔‘

آدھ میل دور رہائشی ایک مقامی شخص کی گرفتاری کی خبر پر یقین کرنے کی کوشش کر رہے تھے۔ انہوں نے بتایا کہ کیسے ایک مقامی انگریز ڈان سٹیورٹ وائٹ مسلمان بنے کے بعد مکمل طور پر تبدیل ہوگیا۔ وہ خاموشی سے ہیپل وائٹ کے علاقے میں اپنی بیوہ ماں کے ساتھ رہائش پزیر ہے۔

ایک پرانے جانے والے نے بتایا کہ ’اس نے داڑھی رکھ لی اور سر کے بال منڈوا دیئے۔ جن لوگوں کے ساتھ وہ ملتا تھا وہ مختلف تھے۔ اب وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو مذہبی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ مذہب کی تبدیلی کے بعد یہاں کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم وہ آج کل کیا کر رہا ہے۔‘

اس کی ایک ہمسایہ خاتون نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ سٹیورٹ وائٹ اپنے نئے مذہب کے بارے میں بڑا خوش تھا۔ ’اس نے ایک دن مجھے سلام کیا جس پر مجھے کافی تعجب ہوا۔

پولیس نے ہائی وکہم میں پانچ مقامات پر چھاپے مارے۔ کنگ ووڈ کے علاقے میں ایک جنگل کی تلاشی بھی لی گئی۔

مِک فیلڈ کے علاقے میں ایک مقامی رہائشی نے بتایا کہ چار ماہ قبل ایک اور مشتبہ شخص نے اپنے پاس پناہ گزینوں کو رکھا جس پر یہاں کافی ناراضگی کا اظہار کیا گیا تھا۔

 ’اس نے داڑھی رکھ لی اور سر کے بال منڈوا دیئے۔ جن لوگوں کے ساتھ وہ ملتا تھا وہ مختلف تھے۔ اب وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو مذہبی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ مذہب کی تبدیلی کے بعد یہاں کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم وہ آج کل کیا کر رہا ہے۔

مقامی علاقے کی نگرانی کرنے والے ایک ستتر سالہ پیٹر وائٹ لاک کا کہنا تھا کہ تقریباً ہر رات نصف شب کے بعد لوگ اس مکان میں آیا کرتے تھے۔

لندن

لندن کے شمال مشرقی حصے میں مارے جانے والے چھاپوں کے بارے میں بھی اسی قسم کی الجھن پائی جاتی تھی۔ چھاپوں کا یہ سلسلہ چھ گھنٹوں سے بھی زیادہ دیر تک جاری رہا۔

پولیس نے بدھ کی شام سے فارسٹ گیٹ اور والتھم فارسٹ میں مختلف مقامات پر چھاپے مارنے شروع کر دیے تھے۔ 386 نمبر پر بھورے رنگ کا ایک خستہ حال دو منزلہ خالی مکان تھا۔ اسے ایک ماہ قبل ہی فروخت کیا گیا تھا لیکن مقامی رہائشی جان وائر کا کہنا تھا کہ فروخت کے کچھ عرصے بعد ہی انہوں نے یہاں شمالی افریقی وضع قطع کے دو افراد کو آتے جاتے دیکھا تھا۔

ایک اور چھاپہ فوک سٹون روڈ کے قریب واقع مارلن سیونٹ اور ان کے شوہر ابراہیم کے گھر پر مارا گیا۔ انتخابی رجسٹریشن اس جوڑے کے بیٹوں اولیور اور ایڈم کے نام پر ہے تاہم دونوں میں سے کوئی ایک بھی یہاں نہیں رہتا۔

پچیس سالہ اولیور کو چھاپے کے فورا بعد ہی کسی اور مقام سے گرفتار کیا گیا لیکن خاندان کے ایک فرد کا کہنا ہے کہ ان سب کے لیئے یہ تجربہ خوفناک تھا۔

ان کے ایک رشتہ دار کا کہنا تھا کہ اولیور ایک عام شخص ہے اور اس کے یہاں بچے کی پیدائش متوقع ہے۔ وہ ایک مسلمان ہیں اور مسجد جاتے ہیں لیکن ان کا تعلق کسی بھی تنظیم سے نہیں ہے۔


رشتہ دار کا کہنا تھا کہ ان میں سے کسی کو بھی اس بات کا اندازہ نہیں تھا کہ انہیں کیوں گرفتار کیا جا رہا ہے اور اس معاملے میں اولیور کے والدین بے قصور ہیں۔ ان کی والدہ کتابوں کی ایک دکان میں کام کرتی ہیں اور ان کا کمپیوٹر چوری ہوگیا تھا۔ وہ لوگ انتہائی پریشان اور صدمے کا شکار ہیں۔

مسز سونٹ کے بارے میں خیال ہے کہ وہ انگریز ہیں جبکہ ان کے شوہر ایران میں پیدا ہوئے تھے۔ اولیور کے ایک پڑوسی کا کہنا تھا کہ اولیور نے کچھ عرصے قبل اپنی داڑھی بڑھانی شروع کردی اور نوعمری میں ہی اسلام قبول کرنے کے بعد سفید لمبا چغہ پہننا شروع کردیا۔ ایک اور پڑوسی پال کین مین کا کہنا تھا کہ وہ اولیور کو ان کی پیدائش کے وقت سے جانتے ہیں۔ وہ ایک نرم خو شخص تھے۔ وہ اس کے والد کے ساتھ مے نوشی کیا کرتے تھے۔ اولیور نے مسلمانوں کی طرح کا لمبا سفید چغہ پہننا شروع کیا اور چند سال قبل اپنی داڑھی بھی بڑھانی شروع کر دی تھی۔

اولیور کے سکول کے زمانے کے ایک دوست کا کہنا تھا کہ اولیور فٹبال کے ایک اچھے کھلاڑی اور علاقے کی ایک پسندیدہ شخصیت تھے۔ ایک اور دوست نے نام نہ ظاہر کرنے کی شرط پر بتایا کہ انہیں فٹبال بہت پسند تھا اور وہ عموماً سڑک کے کونے پر واقع کلب میں فٹبال کھیلا کرتے تھے۔ ہر شخص انہیں پسند کیا کرتا تھا اور درحقیقت وہ ایک اچھے انسان تھے۔

سٹاک نیوانگٹن کے علاقے سے دو اور لوگوں کو گرفتار کیا گیا ہے۔ گرفتار ہونے والے دو بنگلہ دیشیوں میں سے ایک کے بارے میں ان کے ایک پڑوسی کا کہنا تھا کہ وہ یہاں کافی عرصے سے مقیم تھے اور وہ ایک اچھے شخص تھے۔ چند سال قبل کچھ نوجوانوں نے اس کے سر پر لوہے کی سلاخ سے حملہ کیا تھا۔ اور اس کے بعد وہ کومہ میں چلے گئے تھے۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ اب بہتر ہو رہے ہیں۔

لندن کے مشرقی علاقے سٹرٹفرڈ سے ایک اور شخص کی گرفتاری عمل میں آئی ہے جو پولیس کی کڑی نگرانی میں تھے۔ ان کا تعلق سٹرٹفورڈ کی کارناورن سڑک پر واقع فلیٹ سے بتایا جا رہا ہے۔ جس پر پولیس نے جمعرات کی رات چھاپا مارا تھا۔

برمنگھم

 اچھے لباس پہنے ایشیائی اور صومالیہ کے لوگ اس مکان میں اکثر آتے تھے۔ یہاں رہنے والے دو ایشیائی آدمی بس اپنے تک ہی محدود تھے۔ وہ کسی سے ملتے ملاتے نہیں تھے۔

انسداد دہشت گردی سکواڈ نے اب تک مشتبہ افراد کی شناخت نہیں کی ہے جس سے قیاس آرائیوں میں اضافہ ہو رہا ہے۔ برمنگھم کے علم راک علاقے میں بیلچر روڈ پر واقعے اے سی ایس مینجمنٹ گروپ کے دفاتر پر چھاپے میں دو اشخاص کو گرفتار کیا گیا ہے۔

ایک تیس سالہ تعمیراتی کارکن نے نام نہ بتاتے ہوئے کہا کہ انہوں نے اپنے مکان کی عقب کی کھڑکی سے جھانک کر دیکھا تو انہیں بیس کے قریب پولیس اہلکاروں کو ایک مکان کے باغیچے میں چند افراد کا پیچھا کرتے دیکھا۔

مقامی لوگوں نے ہفتے میں دو مرتبہ ایک گاڑی کے ذریعے اس مکان میں سامان کی سپلائی ہوتے دیکھی ہے۔ ’اچھے لباس پہنے ایشیائی اور صومالیہ کے لوگ اس مکان میں اکثر آتے تھے۔ یہاں رہنے والے دو ایشیائی آدمی بس اپنے تک ہی محدود تھے۔ وہ کسی سے ملتے ملاتے نہیں تھے۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد