BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 11 August, 2006, 12:09 GMT 17:09 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بلیئر کا فون: ایک ملزم کی تصویر
ایک ملزم ڈون سٹیورٹ وائٹ جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد عبدالوحید کا نام اختیار کر لیا تھا
برطانوی وزیر اعظم ٹونی بلیئر نے جمعے کو پاکستان کے صدر جنرل پرویز مشرف کو ٹیلفون کیا اور مبینہ ’طیارے سازش‘ کیس میں پاکستان کے کردار پر ان کا شکریہ ادا کیا۔

دریں اثنا بنک آف انگلینڈ نے مبینہ ’طیارے سازش‘ کے حوالے سے جن لوگوں لوگوں کے اثاثے منجمد کیئے ہیں ان میں سے ایک ڈون سٹیورٹ وائٹ کی دستیاب تفصیلات کے مطابق اس نے حال ہی میں اسلام قبول کیا تھا اور اس کے جاننے والوں کا کہنا ہے کہ مسلمان بننے کے بعد وہ مکمل طور پر تبدیل ہوگیا تھا۔ اس نے عبدالوحید کا نام اختیار کیا تھا اور ہیپل وائٹ کے علاقے میں اپنی بیوہ ماں کے ساتھ خاموشی سے رہائش پزیر تھا۔

ایک پرانے جانے والے نے بتایا کہ ’اس نے داڑھی رکھ لی اور سر کے بال منڈوا دیئے۔ جن لوگوں کے ساتھ وہ ملتا تھا وہ مختلف تھے۔ اب وہ ان لوگوں کے ساتھ ہے جو مذہبی سوچ رکھتے ہیں۔ وہ مذہب کی تبدیلی کے بعد یہاں کسی سے بات نہیں کرتا تھا۔ ہمیں نہیں معلوم وہ آج کل کیا کر رہا ہے۔‘

اس کی ایک ہمسایہ خاتون نے نام نہ بتانے کی شرط پر کہا کہ سٹیورٹ وائٹ اپنے نئے مذہب کے بارے میں بڑا خوش تھا۔ ’اس نے ایک دن مجھے سلام کیا جس پر مجھے کافی تعجب ہوا۔

اسلام آباد میں جاری ایک سرکاری بیان کے مطابق برطانوی وزیر اعظم نے پاکستانی صدر، حکومت پاکستان اور تمام دیگر لوگوں کا دہشت گردی کے بین الاقوامی نیٹ ورک کے خاتمے میں مدد پر شکریہ ادا کیا۔

ادھر، برطانوی وزیر داخلہ جون ریڈ نے کہا کہ طیاروں کو تباہ کرنے کے مبینہ منصوبے کو ناکام بنانے کے بعد بھی ملک میں حفاظتی انتظامات کو ’انتہائی بلند‘ درجے پر رکھا جائےگا۔

لندن میں اخباری کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے جون ریڈ نے بھی تحقیقات میں مدد کرنے پر پاکستان کا شکریہ ادا کیا ہے لیکن جون ریڈ نے اس بات پر تبصرہ کرنے سے انکار کر دیا کہ دہشتگردی کا یہ مبینہ منصوبہ ایک خاص وقت میں منظر عام پر کیوں لایا گیا ہے۔

اس سے قبل جمعہ کی رات تک برطانیہ کے سکیورٹی اداروں نے ایک بڑے آپریشن کے بعد چوبیس افراد کو گرفتار کر لیا۔ بینک آف انگلینڈ نےان میں سے انیس افراد کے نام جاری کر دیئے جن کے اثاثے منجمد کیئے گئے ہیں۔گرفتار کیے جانےوالوں کی عمریں اٹھارہ سے چھتیس سال کے درمیان ہیں۔

برطانوی وزیرداخلہ نے اس بات پر بھی زور دیا کہ دہشتگردی سے تمام لوگوں کو بلا امتیاز مذہب و نسل، برابر کا خطرہ ہے کیونکہ دہشتگرد کسی کو عمر، جنس یا نسل کی بنیاد پر نشانہ نہیں بناتے۔ جون ریڈ کا کہنا تھا کہ حکام کچھ عرصے سے طیاروں کو تباہ کرنے کی منصوبہ بندی پر نظر رکھے ہوئے تھے تاہم اس کے خلاف فوری کارروائی کی ضرورت چھاپوں اورگرفتاریوں سے چوبیس گھنٹے پہلے پیش آئی۔

ان کا کہنا تھا کہ اگرچہ پولیس کو اعتماد ہے کہ منصوبے کے مرکزی کردار گرفتار کر لیئے گئے ہیں لیکن پھر بھی محتاط رہنے کی ضرورت ہے۔ ’ہم سب کو ایک مشترکہ خطرے کا سامنا ہے اور ہمارا رد عمل بھی ایک سا ہونا چاہیے۔‘

ادھر پاکستان میں حکام نے بتایا کہ طیاروں کو تباہ کرنے کے منصوبے کے بارے میں معلومات پاکستان میں گزشتہ ہفتے گرفتار کیئے جانے والے دو پاکستانی نژاد برطانوی باشندوں سے حاصل ہوئیں تھیں۔ حکام کے مطابق کل سات افراد کو گرفتار کیا گیا تھا تاہم انہوں نے یہ وضاحت نہیں کی کہ گرفتار شدہ افراد کا تعلق کسی عسکریت پسند گروپ سے ہے یا نہیں۔

پولیس نے تصدیق کی کہ گرفتاریاں مشرقی لندن، ہائی وکہم اور برمنگھم میں مختلف گھروں اور تجارتی عمارتوں پر چھاپوں کے دوران عمل میں آئی ہیں۔ان علاقوں میں ایشیائی باشندوں کی ایک بڑی تعداد مقیم ہے۔مزید گرفتاریوں کی توقع کی جا رہی ہے۔

برطانوی حکام کے مطابق اس منصوبے کے تحت برطانیہ سے امریکہ جانے والےدس طیاروں کو دوران پرواز دھماکے سے اڑانا تھا اور اگر یہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو اس سے اتنا جانی نقصان ہوتا جس کی پہلے کوئی نظیر نہیں ملتی۔

اس مبینہ منصوبے کے تحت دھماکہ خیز مواد کو مشروبات کی بوتلوں میں ڈال کر طیارے کے اندر لے جانا تھا جہاں طیارے کے اندر ان کو الیکٹریکل آلات کی مدد سے دھماکہ کرنا تھا۔

اس واقعے کے بعد مسافروں کی مشکلات میں اضافہ ہو گیا ہے اور مسافروں کو ہاتھ کو کوئی چیز لے کر جانی کی اجازت نہیں دی جائے گی۔

برطانیہ اور امریکہ کے ماہرین کا اندازہ ہے کہ اگر مبینہ منصوبہ کامیاب ہو جاتا تو اس میں گیارہ ستمبر کے واقعے سے زیادہ جانی نقصان ہو سکتا تھا۔

پولیس مختلف مقامات پر چھاپے مار رہی ہے۔

ہائی وکہم کی مسلمان کیمونٹی کے سرکردہ شخص خلیل احمد نے بی بی سی کو بتایا کہ ان کے علاقے سے گرفتار ہونے والے برطانوی نژاد پاکستانی لڑکے ہیں اور ابھی سے یہ مفروضہ قائم نہیں کیا جانا چاہیے کہ وہ دہشت گردی کی کارروائی میں ملوث ہیں۔

برمنگھم میں بھی، جہاں ایشیائی لوگوں کی بڑی تعداد آباد ہے، پولیس نے گرفتاریاں کی ہیں۔ برمنگھم جامع مسجد کے امام ڈاکٹر نسیم نےبی بی سی کو بتایا ہے کہ گرفتار کیئے جانے نوجوانوں کو پولیس دو دفعہ پہلے بھی گرفتار کر چکی ہے اور اب تیسری مرتبہ پھر ان کو گرفتار کیاگیا ہے۔

ادھر پاکستان کے حکام نے کہا کہ دہشت گردی کے اس مبینہ منصوبے کو ناکام بنانےمیں پاکستان نے اہم کردار ادا کیا ہے۔حکام کے مطابق ایک سال پر محیط تحقیات کے بعد دہشت گردی کے اس منصوبے سے پردہ اٹھانےمیں کامیابی ملی ہے۔ برطانیہ میں گرفتاریاں پاکستان میں ہونے والی گرفتاریوں کے بعد عمل میں لائی جا رہی ہیں۔

پاکستان کی وزارت خارجہ کی ترجمان تسلیم اسلم نے کہا کہ پاکستان کے سکیورٹی اداروں نےملزمان کی نشاندہی اور گرفتاری میں اہم کردار ادا کیا ہے۔

اسلام آباد سے بی بی سی کے نمائندے ظفر عباس کے مطابق وسطیٰ ایشیا کے ایک باشندے کی پاک افغان سرحد سے گرفتاری سے شاید سکیورٹی اہلکاروں کو بہت اہم معلومات ملی تھیں۔خیال کیا جاتا ہے کہ سکیورٹی حکام کو اسی شخص سے اطلاع ملی تھی کہ برطانیہ میں ان کے کچھ لوگ ہیں جن کو گرفتار کیا گیا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد