’عالمی دہشتگردی کا خطرہ بڑھا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان اور عراق پر امریکی حملوں سے القاعدہ اور دوسرے شدت پسندوں گروپوں کی طرف سے دہشت گردی کے خطرات ختم ہونے کے بجائے بڑھ گئے ہیں۔ یہ نتائج برطانوی پارلیمان کے دارالعوام کی خارجہ امور کی کمیٹی نے ایک تجزیے سے اخذ کیئے ہیں جو خارجہ امور کے مختلف پہلو اور دہشت گردی کے خلاف جنگ کے عنوان سے کرایا گیا تھا۔ اس رپورٹ میں بہت سے بین الاقوامی امور کا جائزہ لیا گیا تھا جن میں ایران کے جوہری پروگرام کا تنازع، افغانستان کی صورت حال اور مشرقِ وسطی میں اسرائیل اور فلسطین کے درمیان کشیدگی شامل ہیں۔ یہ حقائق حالتِ حاضرہ سے واقفیت رکھنے والے بہت سے لوگ کے علم میں ہوں گے اور ان میں کوئی بھی حیران کن چیز شامل نہیں ہے ۔ کمیٹی نے اس رپورٹ سے یہ نتیجہ اخذ کیا ہے کہ القاعدہ سے برطانیہ کو اب بھی شدید خطرہ لاحق ہے اور القاعدہ کے فلسفے میں تبدیلی کی وجہ سے اس کو ختم کرنا بھی بہت مشکل ہو گیا ہے۔ اس رپورٹ میں اس سوال کا بھی جائزہ لیا گیا ہے کہ آیا عراق پر حملوں سے حالات زیادہ خراب ہوئے ہیں۔ کمیٹی نے اس بات کا اعتراف کیا ہے عراق پراپگنڈہ کا ایک ذریعہ بنا ہے اور عالمی دہشت گردوں کی تربیت گاہ بھی ثابت ہوا ہے۔ اس کمیٹی نے اس بات کا بھی اعتراف کیا ہے کہ عالمی تنازعات کے حل سے مسلم دنیا میں پائے جانے والے ناانصافی کے احساسات کو کم کرنے میں کافی حد تک مدد مل سکتی ہے جو اس کے مطابق بڑھتی ہوئی دہشت گردی کی ایک بڑی وجہ ہے۔ کمیٹی نے برطانوی حکومت سے وضاحت چاہی ہے کہ کن حالت کے تحت عراق سے برطانوی افواج کو واپس بلایا جائے گا اس نے قیدیوں کے بارے میں وضاحت طلب کی ہے اور افغانستان میں بگڑتی ہوئی صورت حال کو مدنظر رکھتے ہوئے اس نے برطانوی حکومت سے افغانستان میں برطانوی کے کردار کے بارے میں بھی استفسار کیا ہے۔ رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ برطانیہ کو ایران کے خلاف فوجی کارروائی میں طاقت کے استعمال کی حمایت نہیں کرنی تاوقتکہ کہ اس مسئلہ کو حل کرنے کے لیے باقی تمام راستے بند نہیں ہو جاتے۔ انہوں نے کہا کہ اگر تمام اتحادیوں میں اس پر اتفاق ہوتا ہے تبھی ایسا کیا جانا چاہیے اور یہ بات امریکی انتظامیہ پر واضح کر دینی چاہیے۔ | اسی بارے میں لندن چھاپے کی منطق پر سوالات09 June, 2006 | آس پاس عراق: ہزاروں جانیں ضائع 16 June, 2006 | آس پاس اسلامی رہنما سے ’بات چیت نہیں‘27 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘30 June, 2006 | آس پاس سلامتی کونسل کا ہنگامی اجلاس01 July, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||