اسلامی رہنما سے ’بات چیت نہیں‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکہ نے کہا ہے کہ وہ صومالیہ کے نئے سربراہ سے بات نہیں کرے گا جن کے اسلامی گروپ کے کنٹرول میں صومالیہ کے جنوبی علاقے کا بیشتر حصہ ہے۔ امریکہ نے شیخ حسن داہر اویس پر جنہیں مقننہ کا نیا سربراہ نامزد کیا گیا ہے، القاعدہ سے تعلق کا الزام لگایا ہے جسے وہ مسترد کرتے ہیں۔ انہوں نے اسلامی قانون کے نفاذ کی ضرورت پر زور دیا ہے لیکن بی بی سی کے نامہ نگار کے مطابق ان کے ساتھیوں نے ایسی یقین دہانیاں کروانے کی پیشکش کی ہے کہ یہ طالبان طرز کا اسلامی نظام نہیں ہو گا۔ امریکہ کا کہنا ہے کہ وہ شیخ اویس کے ساتھی رہنماؤں کے ساتھ بات چیت کے لیئے تیار ہے۔ امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان نے کہا ہے کہ امریکہ انتظار کرے گا اور دیکھے گا کہ یہ نئی قیادت بین الاقوامی برادری کے ساتھ مل کر کام کرنے پر کس حد تک آمادہ ہے۔ شیخ اویس کا گروپ اگلے ماہ کمزور قائم مقام حکومت کے ساتھ بھی مذاکرات کرے گا۔ قائم مقام صدر عبداللہ یوسف سیاسی اسلام کے سخت مخالف ہیں۔ دونوں گروپوں نے پچھلے ہفتے لڑائی نہ کرنے پر اتفاق کیا۔ صومالیہ میں پچھلے پندرہ سال سے کوئی مؤثر قومی حکومت نہیں بن سکی اور اس وقت بھی لڑائی کے امکانات کو رد نہیں کیا جا سکتا۔ شیخ اویس کا کہنا ہے کہ نئی حکومت کو اسلامی شریعت کے مطابق قوانین نافذ کرنے چاہئیں۔ انہوں نے خبر رساں ادارے اے پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا کہ ’صومالیہ ایک مسلمان قوم ہے اور اس کے سو فیصد باشندے مسلمان ہیں۔ اس لیئے جس حکومت پر بھی ہم اتفاق کریں گے وہ قرآن اور پیغمبر اسلام کی تعلیمات پر مبنی ہو گی‘۔ وہ قانون ساز اسمبلی کے سربراہ نامزد کیئے جانے کے بعد پہلی دفعہ ذرائع ابلاغ سے گفتگو کر رہے تھے۔ اس قانون ساز ادارے کا نام یونین آف اسلامک کورٹس سے بدل کر صومالی سپریم اسلامک کورٹس کونسل رکھا گیا ہے۔ جوہر قصبے میں پانچ افراد پر مقدمہ شروع کیا گیا ہے جن پر زنا اور قتل جیسے سنگین الزامات ہیں جن کے نتیجے میں انہیں سنگسار کیا جا سکتا ہے۔ اسلامی عدالتوں کے زیر انتظام چلنے والے علاقوں میں سنگسار کرنے اور اعضا کاٹنے کی سزائیں عام ہیں۔ شیخ اویس کو شیخ شریف شیخ احمد کی نسبت سخت گیر شخصیت کا حامل سمجھا جاتا ہے۔ ان کے گروپ کے دارالحکومت موغادیشو پر قبضے کے بعد سے شیخ شریف ان کی قیادت کر رہے ہیں۔ اب شیخ شریف نئی ایگزیکٹیو کونسل کے سربراہ ہیں اور یہ واضح نہیں ہے کہ ان دونوں میں سے کون سا عہدہ زیادہ طاقتور ہے۔ کچھ نامہ نگاروں کے مطابق ان دونوں دھڑوں کے درمیان طاقت کی کشمکش جاری ہے۔ شیخ شریف احمد کا کہنا ہے کہ ان کا گروپ سیاسی طاقت کا خواہشمند نہیں ہے۔
امریکہ کو خدشہ ہے کہ صومالیہ میں اگر اسلامی گروپوں کی حکومت بنی تو انہیں القاعدہ استعمال کر سکتی ہے۔ ان خدشات میں اضافہ اس وقت ہو گیا ہے جب ایک ایسے شخص کو سربراہ بنا دیا گیا ہے جو الاتحاد الاسلامیہ نامی تنظیم چلا رہا تھا اور جسے امریکہ نے ’دہشت گرد‘ قرار دے رکھا تھا۔ امریکی دفتر خارجہ کے ترجمان سین مک کورمک نے کہا ہے کہ اگر شیخ اویس کی ترقی اسلامی کورٹس کونسل کی سمت کا اظہار ہے تو امریکہ کو اس کے بارے میں پریشانی ہے۔ شیخ اویس نے خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ انہوں نے کبھی کسی کو قتل نہیں کیا۔ انہوں نے کہا کہ ’میں دہشت گرد نہیں ہوں۔ لیکن اگر اپنے مذہب کی سختی سے پیروی اور اسلام سے محبت مجھے دہشت گرد بنا دیتی ہے تو مجھے یہ خطاب قبول ہے‘۔ صدر یوسف نے نوے کی دہائی میں الاتحاد کو شکست دے کر ان کے لوگوں کو شمالی خطے سے نکال دیا۔ عام خیال یہ ہے کہ امریکہ دہشت گردی کے خلاف جنگ کے سلسلے میں موغادیشو کے جنگجو سرداروں کی پشت پناہی کرتا رہا ہے۔ امریکہ نے ان الزامات کی نہ ہی کبھی تردید کی ہے اور نہ ہی تصدیق۔ لیکن اس کا کہنا ہے کہ وہ ان لوگوں کی مدد کرے گا جو ’دہشت گردوں‘ کو صومالیہ میں مضبوط بننے سے روکنے کے لیئے کام کر رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں پوست: یورپ کی مانگ، افغانستان کی پیداوار26 June, 2006 | آس پاس پاک و ہند کے ہم جنس پرست آزاد ہوئے 26 June, 2006 | آس پاس فوجی کارروائی کی اسرائیلی دھمکی26 June, 2006 | آس پاس فوجی کا بدل، بچوں عورتوں کی رہائی26 June, 2006 | آس پاس ’صومالیہ میں آفت کا خدشہ ہے‘19 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||