’صومالیہ میں آفت کا خدشہ ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
پناہ گزینوں کے لیئے اقوامِ متحدہ کے ہائی کمشنر نے خبردار کیا ہے کہ صومالیہ میں اسلامی شدت پسندوں اور عبوری حکومت کی وفادار فوجوں کے درمیان ایک بڑی لڑائی چھڑجانے کا خدشہ ہے جس سے بڑی انسانی آفت آ سکتی ہے۔ ہائی کمشنر نے کہا کہ جس وقت صومالیہ کی عبوری حکومت کی مدد کا وقت آیا اس وقت بین الاقوامی برادری پیچھے ہٹ گئی ہے۔ ان خدشات کا اظہار ایسے وقت ہوا ہے جب مشرقی افریقی ملک صومالیہ میں استحکام کے لیے عالمی تشویش بڑھ رہی اور امریکہ نے کہا ہے وہ اپنی ترجیحات کے تحت صومالیہ کو ایک اسلامی ریاست نہیں بننے دینا چاہتا۔ ادھر دارالحکومت موغادیشو پر حال ہی میں قبضہ کرنے والی اسلامی عدالتوں کی ملیشیا نے ایک بار پھر کہا ہے کہ صومالیہ میں استحکام کے لیے وہ عارضی انتظامیہ سمیت تمام فریقوں سے مذاکرات پر تیار ہیں۔ بی بی سی کے نامہ نگار ڈیوڈ چزان کا کہنا ہے کہ ملک میں لڑائی تیزی سے بڑھتی جا رہی ہے اور خدشہ ہے کہ کشمکش جلد ہی پڑوسی ملک ایتھوپیا تک پہنچ جائے گی۔ صومالیہ میں بین الاقوامی مداخلت اس وقت بند ہوگیی تھی جب وہاں خدمات انجام دینے والے پاکستانی فوجیوں کو ہلاک کیا گیا اور پھر امریکی ہیلی کاپٹروں کو تباہ کرنے کے بعد دارالحکومت موگادیشو کی گلیوں میں گھسیٹا گیا تھا۔ تاثر یہ ہے کہ امریکہ در پردہ ان صومالی جنگجؤوں کی پشت پناہی کر رہا ہے جو اسلامی اتحاد کے خلاف لڑ رہے ہیں۔ اب جبکہ صومالی دارالحکومت اسلامی عسکریت پسندوں کے ہاتھوں میں آ گیا ہے وہ امریکی حکمتِ عملی کا بھرپور جواب دے رہے ہیں۔ امریکہ اس کی تردید کرتا ہے۔ اس بارے میں افریقی امور کی نائب امریکی وزیر نے واضح طور پر کہا ہے کہ بعص وجوہات کے باعث امریکہ صومالیہ کو ایک اسلامی ریاست کی حیثیت سے دیکھنا نہیں چاہتا۔ صومالیہ کی اسلامی یونین اس بات کو جھٹلاتی ہے کہ وہ غیر ملکی عسکریت پسندوں کو پناہ دیتی ہے ۔ ادھر ایتھوپیا نے اس بات کی تردید کی ہے کہ اس نے اپنے تین سو فوجیوں کو خفیہ طور پر صومالیہ کی سرحدوں میں داخل کیا ہے تاکہ وہاں لڑنے والی اسلامی قوتوں کو دبایا جا سکے۔ | اسی بارے میں اسلامی عسکریت پسندوں کی کامیابی14 June, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||