اسلام اور مغرب: باہمی شک کی فضا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک عالمی سروے کے مطابق اسلام اور مغرب کے درمیان ایک باہمی اور گہری شک کی فضا موجود ہے۔ واشنگٹن کے پیو ریسرچ سینٹر کی طرف سے کرائے گئے سروے کے مطابق بہت سے مغربی افراد مسلمانوں کو جنونی، شدت پسند اور دوسروں کے عقائد اور طرز عمل کے بارے میں متعصب سمجھتے ہیں۔ دوسری طرف مسلمان سمجھتے ہیں کہ مغرب خود غرض، بد اخلاق، بھوکا، جنونی اور شدت پسند ہے۔ اس ریسرچ میں تیرہ ممالک سے چودہ ہزار افراد شامل کیئے گئے ہیں۔ بی بی سی کے اسلامی امور کے نامہ نگار راجر ہارڈی کے مطابق گزشتہ سال ہونے والے لندن بم دھماکوں اور حال ہی میں کھڑے ہونے والے پیغمبرِ اسلام کے کارٹونوں جیسے تنازعات نے مغرب اور اسلام میں دراڑ ڈالنے میں مزید کردار ادا کیا ہے۔
پیو ریسرچ سینٹر کے سروے کے مطابق مسلمان اور مغربی افراد دونوں ہی ایک دوسرے کو تعلقات کی خرابی کا ذمہ دار قرار دیتے ہیں۔ سروے کے مطابق مسلمان سمجھتے ہیں کہ ان کی بد حالی کے ذمہ دار مغربی یورپی افراد اور امریکی ہیں۔ جبکہ مغربی عوام سمجھتے ہیں کہ ان کی یہ حالت حکومتی کرپشن، تعلیم کی کمی اور اسلامی بنیاد پرستی کی وجہ سے ہے۔ رپورٹ کے مطابق اسلام اور مغرب میں اس بات پر بھی وسیع خلیج موجود ہے کہ یہ دونوں عورتوں کے ساتھ کیسا سلوک کرتے ہیں۔ مغربیوں کا کہنا ہے کہ مسلمان عورتوں کی عزت نہیں کرتے جبکہ سروے کیئے جانے والے پانچ مسلمان ممالک میں سے چار ممالک کے لوگوں کی اکثریت کے مطابق حقیقت اس کے برعکس ہے، یعنی مغربی عورت کی عزت نہیں کرتے۔ سروے میں یہ بھی کہا گیا ہے کہ انڈونیشیا، ترکی، مصر اور اردن میں زیادہ تر لوگ یہ سمجھتے ہیں کہ دو ہزار ایک میں امریکہ پر ہونے والے حملے عربوں نے نہیں کیئے تھے۔ اس طرح کا رویہ صرف مسلمان ممالک میں نہیں ہے بلکہ برطانیہ میں بھی چھپن فیصد مسلمان ایسا ہی سمجھتے ہیں۔ سروے میں انکشاف کیا گیا ہے کہ اردن اور پاکستان میں اسامہ بن لادن کی حمایت میں کمی آئی ہے۔ پہلے القاعدہ کے رہنما کی حمایت میں تقریباً اکیاون فیصد پاکستانی تھے لیکن اب وہ حمایت کم ہو کر اڑتیس فیصد رہ گئی ہے۔ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||