BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 22 June, 2006, 12:10 GMT 17:10 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ہلاکتوں پر حامد کرزئی کی تنقید
حامد کرزئی نے شاید پہلی بار اتحادی ممالک پر تنقید کی ہے
صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں طالبان کی مزاحمت سے نمٹنے کے لیے اپنائی جانے والی اتحادی افواج کی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ انسانی جانیں کم سےکم ضائع ہوں۔

حالیہ مہینوں میں مشتبہ طالبان کے خلاف کی جانے والی اتحادی اور افغان افواج کی کارروائیوں میں درجنوں ہلاکتیں ہوتی رہی ہیں۔ صدر کرزئی نے کہا کہ انہیں تعجب نہیں کہ جنوبی افغانستان میں اتنے لوگ ہلاک ہورہے ہیں۔

افغان صدر کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے افغان عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود غیرملکی افواج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

دارالحکومت کابل میں صدر کرزئی نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کو سہولتیں فراہم کرنے اور افغان پولیس اور فوج کو مضبوط کرنے کا طریقہ ہی دہشت گردی کے خاتمے کا راستہ ہے۔

ایمن الظواہری کی وڈیو
 افغانستان میں مسلم بھائی، بالخصوص کابل میں، مجاہدین کے ساتھ متحد ہوجائیں تاکہ حملہ آور فورسز کو ملک بدر کیا جاسکے۔
ایمن الظواہری
صدر کرزئی نے کہا کہ ’میں ہمیشہ ہی بین الاقوامی برادری کو افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورت حال اور اس سے نمٹنے کے لیے بین الاقوامی برادری کی حکمت عملی میں تبدیلی کی ضرورت پر بین الاقوامی برادری کو وارننگ دیتا رہا ہوں۔‘

کابل میں بی بی سی کے صحافی السٹیئر لیٹہید کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری پر صدر کرزئی کی محتاط تنقید افغانستان میں خراب تر ہوتے ہوئے سکیورٹی کے حالات پر جھنجھلاہٹ کی عکاس ہے۔

دریں اثناء افغانستان میں اتحادی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نورستان صوبے میں ہونے والی ایک مسلح جھڑپ میں چار امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔

حالیہ مہینوں میں افغانستان میں مشتبہ طالبان اور اتحادی افواج کے درمیان مسلح جھڑپوں میں تیزی آئی ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد مارے گئے ہیں۔ طالبان اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے خودکش حملوں میں امریکی اور دیگر غیرملکی افواج کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔

جمعرات کو تین منٹ کی ایک وڈیو میں اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواہری نے افغان عوام سے اپیل کی کہ وہ ’مسلم سرزمین پر قابض لادین فورسز‘ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔

اتحادی افوج کی کارروائیوں میں سینکڑوں افراد مارے گئے ہیں
یہ وڈیو ایک ویب سائیٹ پر نشر کی گئی ہے۔ الظواہری نے مزید کہا: ’افغانستان میں مسلم بھائی، بالخصوص کابل میں، مجاہدین کے ساتھ متحد ہوجائیں تاکہ حملہ آور فورسز کو ملک بدر کیا جاسکے۔‘

ایمن الظواہری کے بیان پر اپنے ردعمل میں صدر حامد کرزئی نے القاعدہ کے نائب رہنما کو ’افغان عوام کا دشمن‘ قرار دیا اور کئی سالوں تک افغانوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔

خبررساں ادارے اے پی کے مطابق صدر کرزئی نے کہا: ’انہوں نے افغانوں کو برسوں ہلاک کیا۔۔۔، اور پھر امریکہ گئے اور جڑواں مناروں کو تباہ کردیا۔‘ افغان صدر نے مزید کہا کہ ایمن الظواہری نے ’ہماری مساجد، اسکولوں، باغیچوں‘ کو برباد کیا ہے۔

گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی فوجی کارروائی میں طالبان کے زوال کے بعد سے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری روپوش رہے ہیں۔

طالبانکچھ غلطیاں ہوئیں
طالبان اعتراف کرتےہیں کہ ان سے کچھ غلطیاں ہوئیں
ہیلی کاپٹر پر امریکی فوجی’دشمن صوبہ‘
کنہڑ امریکہ مخالف کارروائیوں کا گڑھ
طالبان جنگجوھتیار ڈال دو
غیر مسلح طلبان کو معافی کی پیشکش
طالبان کا ہیڈکوارٹر
طالبان کا ہیڈکوارٹر کوئٹہ: برطانوی آفیسر
طالبانخوف یا پسند
طالبان دیہاتوں میں حمایت کے دعویٰدار ہیں
زخمیقندھار حملہ
مقامی ڈاکٹر ارو عینی شاہدین نے کیا بتایا
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد