ہلاکتوں پر حامد کرزئی کی تنقید | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر حامد کرزئی نے افغانستان میں طالبان کی مزاحمت سے نمٹنے کے لیے اپنائی جانے والی اتحادی افواج کی حکمتِ عملی پر نظرثانی کرنے کی اپیل کی ہے تاکہ انسانی جانیں کم سےکم ضائع ہوں۔ حالیہ مہینوں میں مشتبہ طالبان کے خلاف کی جانے والی اتحادی اور افغان افواج کی کارروائیوں میں درجنوں ہلاکتیں ہوتی رہی ہیں۔ صدر کرزئی نے کہا کہ انہیں تعجب نہیں کہ جنوبی افغانستان میں اتنے لوگ ہلاک ہورہے ہیں۔ افغان صدر کا یہ بیان ایسے وقت آیا ہے جب القاعدہ کے رہنما ایمن الظواہری نے افغان عوام سے اپیل کی ہے کہ وہ اپنے ملک میں موجود غیرملکی افواج کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔ دارالحکومت کابل میں صدر کرزئی نے کہا کہ مقامی انتظامیہ کو سہولتیں فراہم کرنے اور افغان پولیس اور فوج کو مضبوط کرنے کا طریقہ ہی دہشت گردی کے خاتمے کا راستہ ہے۔
کابل میں بی بی سی کے صحافی السٹیئر لیٹہید کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی برادری پر صدر کرزئی کی محتاط تنقید افغانستان میں خراب تر ہوتے ہوئے سکیورٹی کے حالات پر جھنجھلاہٹ کی عکاس ہے۔ دریں اثناء افغانستان میں اتحادی افواج نے ایک بیان میں کہا ہے کہ نورستان صوبے میں ہونے والی ایک مسلح جھڑپ میں چار امریکی فوجی مارے گئے ہیں۔ حالیہ مہینوں میں افغانستان میں مشتبہ طالبان اور اتحادی افواج کے درمیان مسلح جھڑپوں میں تیزی آئی ہے جس کے نتیجے میں سینکڑوں افراد مارے گئے ہیں۔ طالبان اور ان کے اتحادیوں کی جانب سے خودکش حملوں میں امریکی اور دیگر غیرملکی افواج کو نشانہ بنایا جاتا رہا ہے۔ جمعرات کو تین منٹ کی ایک وڈیو میں اسامہ بن لادن کے نائب ایمن الظواہری نے افغان عوام سے اپیل کی کہ وہ ’مسلم سرزمین پر قابض لادین فورسز‘ کے خلاف اٹھ کھڑے ہوں۔
ایمن الظواہری کے بیان پر اپنے ردعمل میں صدر حامد کرزئی نے القاعدہ کے نائب رہنما کو ’افغان عوام کا دشمن‘ قرار دیا اور کئی سالوں تک افغانوں کے لیے مشکلات پیدا کرنے کا ذمہ دار ٹھہرایا۔ خبررساں ادارے اے پی کے مطابق صدر کرزئی نے کہا: ’انہوں نے افغانوں کو برسوں ہلاک کیا۔۔۔، اور پھر امریکہ گئے اور جڑواں مناروں کو تباہ کردیا۔‘ افغان صدر نے مزید کہا کہ ایمن الظواہری نے ’ہماری مساجد، اسکولوں، باغیچوں‘ کو برباد کیا ہے۔ گیارہ ستمبر کے حملوں کے بعد امریکی فوجی کارروائی میں طالبان کے زوال کے بعد سے القاعدہ کے رہنما اسامہ بن لادن اور ایمن الظواہری روپوش رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں ہلمند میں جھڑپ،21 طالبان ہلاک09 June, 2006 | آس پاس افغانستان: 40 سے زائد طالبان ہلاک10 June, 2006 | آس پاس طالبان جھڑپ، ایک نیٹو فوجی ہلاک12 June, 2006 | آس پاس ’جھڑپوں میں 37 طالبان ہلاک‘12 June, 2006 | آس پاس افغانستان: 40 مزاحمت کار ہلاک16 June, 2006 | آس پاس حملے میں ’چالیس طالبان ہلاک‘17 June, 2006 | آس پاس افغانستان: حملوں میں تیس ہلاک19 June, 2006 | آس پاس بیس طالبان ہلاک: افغان جنرل21 June, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||