بیس طالبان ہلاک: افغان جنرل | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
ایک افغان جنرل کا کہنا ہے کہ افغان اور اتحادی افواج کے ساتھ ہونے والی ایک مسلح جھڑپ میں بیس مشتبہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔ جنرل رحمت اللہ رؤفی کے مطابق صوبہ ہلمند میں طالبان کے ساتھ اس مسلح جھڑپ میں ایک افغان فوجی بھی زخمی ہوا ہے۔ جنرل رؤفی نے بتایا کہ افغان اور اتحادی فورسز نے موسیٰ قلعہ ضلع میں طالبان کی ایک میٹنگ پر حملہ کردیا جس کے بعد تین گھنٹے تک مسلح جھڑپ جاری رہی۔ جنرل رؤفی نے خبررساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ ’اس کارروائی میں بیس طالبان مارے گئے، ان کی لاشیں ہتھیاروں کے ساتھ جائے وقوع پر چھوڑ دی گئی تھیں۔‘ حالیہ مہینوں میں جنوبی افغانستان میں طالبان کے ساتھ اتحادی افواج کی مسلح جھڑپیں ہوتی رہی ہیں جن میں سینکڑوں مشتبہ طالبان مارے جاچکے ہیں۔ گزشتہ ہفتے اتحادی افواج نے بتایا تھا کہ جنوبی افغانستان کے ارزگان صوبے میں ایک کارروائی کے دوران انہوں نے چالیس طالبان کو ہلاک کردیا تھا۔ گزشتہ اتوار کو صوبہ ہلمند میں طالبان کی جانب سے کیے جانے والے حملے میں کم سے کم تیس افراد ہلاک ہوگئے تھے۔ ان میں بیشتر افراد ایک مقامی رکن پارلیمان کے رشتہ دار تھے۔ افغانستان کے چار جنوبی صوبوں ہلمند، ارزگان، قندھار اور زابل میں طالبان کی مزاحمت پر قابو پانے کے لیے امریکہ، کینیڈا، برطانیہ اور افغانستان کے دس ہزار فوجی تعینات ہیں۔ |
اسی بارے میں حملے میں ’چالیس طالبان ہلاک‘17 June, 2006 | آس پاس افغانستان: حملوں میں تیس ہلاک19 June, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||