قندھار بمباری: عینی شاہدین کے بیان | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
قندھار پر امریکی بمباری میں کے بارے میں عینی شاہدین کی رپورٹتں کچھ یوں ہے: عینی شاہدین اور مقامی ڈاکٹروں کا کہنا ہے کہ ہسپتال پہنچنے والے زخمیوں میں کئی بچے بھی شامل ہیں۔ قندھار سٹی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر نے بتایا ہے کہ زخمیوں میں کم سے کم چار بچے شامل ہیں۔ ایک عینی شاہد عطا محمد نے خبر رساں ایجنسی اے ایف پی کو بتایا کہ یہ بمباری آدھی رات کے بعد شروع ہوئی اور صبح تک جاری رہی۔ محمد عطا اپنے آٹھ رشتہ داروں کو ہسپتال لے کر آئے ہوئے تھے اور ان کا کہنا تھا کہ انہوں نے گاؤں میں کم سے کم چوبیس لاشیں دیکھی تھیں۔ ایک اور عینی شاہد نے بتایا کہ حالیہ جھڑپوں کے بعد طالبان نے ایک مقامی مدرسے میں پناہ لے لی تھی۔ حاجی اخلاف نے بتایا کہ’مدرسے پر بمباری ہوئی تو یہ لوگ بھاگ کر قریبی گھروں میں چلے گئے، اور پھر ان گھروں پر بمباری شروع ہو گئی۔‘ ہسپتال گاؤں سے تقریباً پینتیس کلومیٹرکے فاصلے پر ہے اور بہت سے زخمیوں کو ہسپتال نہیں لایا جا سکا ہے۔ قندھار سٹی ہسپتال کے ایک ڈاکٹر کے مطابق حکام امیولنسوں کو متاثرہ علاقے میں داخل نہی ہونے دے رہے تھے۔ امریکی قیادت میں کثیر ملکی افواج نے اس علاقے کی ناکہ بندی کر دی ہے اور وہاں موجود افراد کی تفتیش جاری ہے۔ امریکی فوج کے ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ آپریشن کا مقصد یہاں سر گرم طالبان مزاحمتکاروں کو پکڑنا ہے۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ ’یہ افراد طالبان کے سرگرم کارکن تھے اور یہ افغان اور کثیر ملکی افواج کے علاوہ شہریوں کے خلاف بھی حملے کرتے رہے ہیں۔ |
اسی بارے میں افغانستان: 16 فوجی 200 مخالف ہلاک21 May, 2006 | آس پاس قندھار: حملے میں ’پچاس افراد‘ ہلاک22 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||