BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 May, 2006, 12:31 GMT 17:31 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
ملا داد اللہ کون ؟
ملا دادا اللہ
پیغمبر اسلام کے کارٹون بنانے والے کو قتل کرنے والے کو ایک سو کلو سونا دوں گا:ملا دادا اللہ
ملا داد اللہ افغانستان کے سابق حکمران طالبان کی دس رکنی مجلس شوری کے سب سے نمایاں رکن مانے جاتے ہیں۔

ملا داد اللہ کے بارے میں کہا جاتا ہے کہ وہ طالبان رہنما ملا عمر کے ملڑی چیف تھے اور ان کا شمار ملا عمر کے انتہائی قریبی ساتھیوں میں ہوتا تھا۔

ملا داد اللہ اس وقت اخباروں کی شہ سرخیوں میں آئے جب انہوں نے اعلان کیا کہ پیغمبر اسلام کے کارٹون بنانے والوں کو قتل کرنے والے کو ایک سو کلو گرام سونا انعام کے طور پر پیش کریں گے۔

افغانستان میں امریکی فوج کی موجودگی کے بارے میں ملا داد اللہ نے کہا تھا کہ’ کافر‘ خود کش حملہ آوروں کا راستہ نہیں روک سکتے اور وہ امریکی اور ان کے حمایتوں کے خلاف اپنا جہاد جاری رکھیں گے۔

م

سو کلوگرام سونے کا انعام
 پیغمبر اسلام کے کارٹون بنانے والوں کو قتل کرنے والے کو ایک سو کلو گرام سونا انعام کے طور پر پیش کروں گا۔
ملا داد اللہ

ملا داد اللہ نے ایک موقع پر کہا تھا کہ افغانستان میں طالبان طیاروں کو گرانے کے لیے ایک نیا ہتھیار استعمال کر رہے ہیں۔

سن دو ہزارایک میں طالبان کی حکومت گرنے کے وقت ملا داد اللہ شمالی افغانستان میں تھے اور قندوز میں ایک ہزار طالبان جنجگجوؤں کے ساتھ گھیرے میں لے لیے گئے۔

اطلاعات کے مطابق جب ملا داد اللہ شمالی اتحاد کے فوجی دستوں کے گھیرے میں آ گئے تو انہوں اس شرط پر ہتھیار ڈالنے پر رضامندگی ظاہر کی کہ ان کو ساتھیوں سمیت شہر سے باحفاظت نکل جانے دیا جائے۔

کچھ ایسی اطلاعات بھی ہیں کہ ملا داد اللہ نے ہتھیار پھینکنے سے انکار کر دیا لیکن وہ وہاں سے غائب ہونے میں کامیاب ہو گئے۔

سن دوہزار تین میں سامنے والی اطلاعات کے مطابق ملا داد اللہ کو پاکستان میں دیکھا گیا جہاں وہ افغانستان میں جنگ کو دوبارہ شروع کرنے کے لیے لوگوں کو قائل کر رہے تھے۔

ملا داد اللہ کا نام ان طالبان رہنماؤں میں شامل تھا جنہیں افغانستان کی حکومت نے پاکستان سے واپس لانے کے لیے کہا تھا۔

سن دو ہزار تین میں طالبان کے رہمنا ملا عمر نے ملا داد اللہ کو طالبان مجلس شوری میں شامل کرنے کا اعلان کیا۔ خیال کیا جاتا ہے کہ ملا داد اللہ اورزگان علاقے میں طالبان رہنما ہیں۔

اسی بارے میں
طالبان دعوے پر قائم
15 July, 2005 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد