BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 May, 2006, 11:42 GMT 16:42 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
طالبان رہنما ملا داد اللہ ’گرفتار‘
ملا داد اللہ
ملاداد اللہ بہت ’سفاک‘ شخص سمجھے جاتے تھے
افغان حکام کے مطابق طالبان کے صفِ اول کے رہنما ملا داد اللہ کو اتحادی فوج نے قندھار سے گرفتار کر لیا ہے۔

افغان ذرائع نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ ملا داد اللہ اس وقت اتحادی افواج کی حراست میں میں ہیں۔


ملا داد اللہ کی گرفتاری کی خبر کی طالبان کے ذرائع نے تردید کی ہے۔ افغان اور امریکی افواج بھی ان کی گرفتاری کی خبر کی سرکاری سطح پر تصدیق نہیں کر رہے ہیں۔

ملا داد اللہ کا شمار طالبان کے سب سے ’خطرناک‘ اور ’سفاک‘ رہنماؤں میں ہوتا تھا۔ افغانستان پر امریکی حملے سے پہلے ملا داد اللہ طالبان کی دس رکنی قیادت کے رکن تھے۔ وہ طالبان کے سربراہ ملا عمر سے بھی بہت قریب تھے۔ ماضی میں وہ بہت سے حملوں میں بچ نکلنے میں کامیاب رہے اور اسی طرح کے ایک معرکے میں ان کی ایک ٹانگ ضائع ہو گئی تھی۔

افغانستان میں امریکی اور اتحادی فوجیں ملاداد اللہ کی چار سال سے تلاش کر رہی تھیں۔

حالیہ دنوں میں جنوبی مشرقی افغانستان میں ہلمند میں ہونے والے خود کش حملوں اور تشدد کی کارروائیوں کا ذمہ دار بھی ملا داد کو ٹھہرایا جاتا ہے۔

ان کی گرفتاری کے بارے میں ابھی تفصیلات مہیا نہیں کی گئیں تاہم حکام ان کی گرفتاری کی تصدیق کر رہے ہیں۔

تین سال قبل ملا داد اللہ نے بی بی سی سے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ طالبان یہودی اور عیسائی حملہ آوروں کے افغانستان سے نکل جانے تک جنگ جاری رہیں گے۔

دسمبر دو ہزار پانچ میں ملا داد اللہ کو پاکستان کی ایک عدالت نے مولانا محمد شیرانی پر قاتلانہ حملے کے الزام میں عمر قید کی سزا سنائی تھی۔

گزشتہ دو دنوں میں جنوبی افغانستان میں سن دوہزار ایک میں طالبان کے زوال کے بعد سے ہونے والی اب تک کی شدید ترین لڑائی میں لگ بھگ ایک سو افراد مارے گئے ہیں۔

صوبہ ہلمند میں طالبان کے جنگجو اور اتحادی سکیورٹی افواج کے درمیان ہونے والی لڑائی میں حکام کے مطابق پچاس شدت پسند اور پولیس کے تیرہ اہلکار ہلاک ہوئے ہیں۔

قندھار میں بھی افغان اور اتحادی افواج نے مزید کارروائیاں کی ہیں اور حکام کے مطابق اس طرح کی دو کارروائیوں میں کم سے کم پچیس شدت پسند ہلاک ہوئے ہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد