BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 01 June, 2006, 13:14 GMT 18:14 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان: تین سو سکول نذرآتش

افغانستان
افغانستان میں سکولوں کی قدیم عمارتوں کو دیکھ کر تعلیم کی روایت کا اندازہ کیا جا سکتا ہے
افغانستان کے جنوبی صوبہ قندہار کے زرغونہ انا سکول میں چھٹی جماعت کی طالبہ وژمہ ہر روز سکول آتے جاتے وقت ایک انجانے خوف سے گزرتی ہے۔ دس سالہ وژمہ کے گھر والے اسے سکول نہیں جانے دیتے۔

بی بی سی اردو ڈاٹ کام سے بات کرتے ہوئے وژمہ نےمایوس لہجے میں کہا ’میں سکول آتے وقت ڈرتی ہوں۔ خطرے اور طالبان کی دھمکیوں کی وجہ سے گھر والے مجھےسکول جانے سے روکتے ہیں۔ میں ان سے لڑ کر پڑھنے آتی ہوں کیونکہ میں ملک کے دیگر بچوں کی طرح علم کی روشنی سے محروم نہیں ہونا چاہتی۔ مجھے پڑہ لکھ کے جنگ زدہ افغانستان کی خدمت کرنی ہے‘۔

یہ صرف وژمہ کی کہانی نہیں ہے بلکہ افغانستان کے جنوب مشرقی علاقوں میں ہر طالب علم خوف کی فضا میں تعلیم حاصل کر رہا ہے کیونکہ ملک کے ان علاقوں میں اتحادی اور افغان فوج سے بر سر پیکار طالبان مبینہ طور پر نہ صرف طلبہ و طالبات اور اساتذہ کو سکول نہ جانے کی دھمکیاں دے رہے ہیں بلکہ افغانستان میں انسانی حقوق کے آزاد کمیشن کے مطابق گزشتہ چھ ماہ میں تقریباً تین سو سکولوں کو آگ لگائی گئی ہے۔

ان سکولوں میں زیادہ تر زابل، قندھار، ہلمند اور ارزگان میں جلائے گئے ہیں۔

ان علاقوں میں طالبان کا اثر زیادہ ہے اور گزشتہ ایک ماہ میں طالبان اور اتحادی و افغان فوج کے درمیان جگھڑے میں شدت آئی ہے اور اب تک تقریبا چار سو سے زیادہ طالبان ہلا ک ہوچکے ہیں۔

طالبان نے اپنے دور حکومت میں لڑکیوں کی تعلیم پر پابندی لگائی تھی جس کی وجہ سے انہیں سخت عالمی تنقید کا نشانہ بننا پڑا تھا۔

طالبان کے زیادہ اثر والے صوبہ ہلمند کے حاجی صادق سے جب میں نے وہاں تعلیمی سرگرمیوں کی صورتحال پوچھی تو تنہائی میں ہونے کےباوجود خوف کے مارے رازدارانہ انداز میں بتانے لگےکہ ’وہاں کوئی پڑھ نہیں سکتا علاقے پر طالبان کا اثر زیادہ ہے حکومت کا کنٹرول محدود ہے۔ مضافات میں کوئی سکول نہیں ہے۔ طالبان نے ہمیں دھمکی دی ہے کہ ہم اپنے بچوں کو سکول نہ بھیجیں بصورت دیگر سخت نتائج بھگتنا ہونگے۔ اس سلسلے میں چند اساتذہ کو سزا بھی دی گئی ہے‘۔

طالبان حکومت کے خاتمے کے بعد افغانستان میں عالمی برادری کی کوششوں سے سکول دوبارہ کھولے گئے اور بڑی تیزی سے بچوں کو پڑھانے کا سلسلہ شروع ہوگیا۔

ایک افغان ماں اس عزام کا اظہار کرتی ہے کہ اگر اس کے بچوں کا موت کا خطرہ ہو گا تو بھی وہ انہیں تعلیم حاصل کرنے کے لیے ضرور بھیجے گی

اقوام متحدہ کی رپورٹ کے مطابق اس وقت تقریبا چھ ملین بچے اور بچیاں سکول جاتے ہیں۔ سکول جانے والوں میں زیادہ تر شہری علاقوں سے تعلق رکھتے ہیں جن میں بڑی تعداد اب بھی لڑکوں کی ہے۔

افغان وزارت تعلیم کا کہنا ہے کہ افغانستان میں پینتیس فیصد لڑکیاں سکول جاتی ہیں جن میں سب سے کم شرح جنوب مشرقی علاقوں کی ہے۔ وزارت کے مطابق زابل میں تین فیصد، ہلمند میں پانچ فیصد اور خوست میں سات فیصد لڑکیاں سکول جاتی ہیں۔

طالبان نے سکول جلانے کے واقعات کی ذمہ داری قبول کی ہے اور موقف اختیار کیا ہے کہ افغانستان میں امریکا کی سربراہی میں مغربی ممالک یہاں تعلیمی نظام کو مغرب زدہ کرنے کی کوششیں کررہے ہیں تاکہ بچوں کو اسلامی تعلیمات کے برعکس عیسائیت کی تعلیم دی جا سکے۔

افغانستان میں انسانی حقوق کے آزاد کمیشن کا کہنا ہے کہ جنوبی علاقوں میں والدین خوف سے اپنے بچوں کو سکول نہیں بھیج رہے ہیں لیکن میری ملاقات قندہار میں ایک ایسی خاتون سے ہوئی جو موت کی قیمت پر بھی بچوں کو سکول بھیجنے کے عزم کا اظہار کرتی ہے۔

اس کا کہنا ہے ’میں اپنے بچوں کو ہر حال میں سکول بھیجوں گی چاہے گولیاں بر سیں یا انہیں میری آنکھوں کے سامنے قتل کیا جائے۔ اگر یہ لوگ معصوم بچوں کو مار کر خوش ہوتے ہیں تو مجھے بھی سب کچھ منظور ہے اور کچھ نہیں میرے بچوں میں کم ازکم ایک بچہ زندہ بچ کرلکھ پڑھ توسکےگا۔ میرے بچوں کی تعلیم نے مجھے بہت فائدہ پہنچایا ہے میں اتنی بڑی عمر میں بھی ان سے دنیاوی اور دینی معلومات حاصل کرتی ہوں‘۔

افغانستان کی وزارت تعلیم اس بات کا اعتراف کرتی ہے کہ اس وقت ملک میں تقریبا دو سو سکول بند پڑے ہیں۔

یہ صرف وژمہ کی کہانی نہیں ہے بلکہ افغانستان کے جنوب مشرقی علاقوں میں ہر طالب علم خوف کی فضا میں تعلیم حاصل کر رہا ہے

افغان وزیر تعلیم محمد حنیف اتمر کا کہنا ہےکہ ملک میں مبینہ شرپسند سکولوں کو جلانے اور اساتذہ کو قتل کرنے کے تعلیمی نظام کو تبا ہ کر نا چاہتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ سکولوں کو آگ لگانے کے واقعات کے سدباب طلبا و طالبات اور اساتذہ کے تحفظ کیلئے سکولوں میں اضافی فورس کی تعیناتی کی جائے گی اور عام لوگوںکے تعاون سے مقامی سطح پر کمیٹیاں بنائی جائیں گی لیکن حکومت کے اس عزم کے باوجود امن امان کی عدم موجودگی میں تعلیمی نظام کو فعال کرنا ایک بڑا چیلنج معلوم ہوتا ہے۔

زخمیقندھار حملہ
مقامی ڈاکٹر ارو عینی شاہدین نے کیا بتایا
جمہوریت کا سفر
افغانستان میں پارلیمانی انتخابات کی تیاریاں
حبیب سرابیپہلی خاتون گورنر
افغانستان میں حبیبہ سرابی پہلی صوبائی گورنر
افغان انتخاباتمستقبل کا فیصلہ
افغان ووٹروں کو نو اکتوبر کا انتظار ہے
طالبانخوف یا پسند
طالبان دیہاتوں میں حمایت کے دعویٰدار ہیں
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد