BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 19 May, 2006, 16:52 GMT 21:52 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
افغانستان میں طالبان کا بڑھتا ہوا اثر

اتحادی فوجی افغان دیہاتوں میں گشت کرتے ہوئے
جنوبی افغانستان وہ جگہ ہے جہاں طالبان تنظیم نے جنم لیا۔ گزشتہ کچھ ماہ سے یوں لگتا ہے کہ جیسے سابق حکومت کے بچھے کھچے عناصر اب بھی لڑنے کا پکا ارادہ کیئے ہوئے ہیں۔

مثال کے طور پر ہلمند اور قندہار میں پچھلے 24 گھنٹے کے دوران کیئے جانے والے خودکش حملے، جمعرات کے دو حملے یا پھر سڑک کے ساتھ نصب کیئے گئے بم پھٹنے کے واقعات روز مرہ کا معمول بن گئے ہیں۔

بلاشبہ ان مزاحمت کاروں کی تعداد میں اضافہ ہوا ہے اور یہاں ہزاروں کی تعداد میں تعینات برطانوی اور بین الاقوامی فوجی فارغ نہیں بیٹھ سکیں گے۔

پاکستان اور افغانستان کی سرحدی پٹی میں طالبان اور القاعدہ کی تعداد میں اضافہ ہورہا ہے۔ اور افغانستان کے جنوب اور مشرق میں ان تنظیموں کے کئی سیل قائم ہیں۔

2001 کی امریکی جنگ کا مقصد القاعدہ کو ختم کرنا اور طالبان کو باہر نکالنا تھا، تاہم طالبان کو افغانستان سے صرف پاکستان تک ہی نکالا جاسکا۔ اب وہ واپس آرہے ہیں اور افغانستان کے خطرناک اور قانون سے ماورا علاقوں میں بس گئے ہیں۔

افغانستان
القاعدہ یا طالبان نیٹو فوج کے لیئے مشکل ٹارگٹ ہیں

اگر ان عناصر کو یہاں سے حمایت حاصل نہیں ہے تب بھی کم از کم انہیں یہاں برداشت تو کیا جارہا ہے۔ نیٹو اور اتحادی افواج کے لیئے یہ مشکل ٹارگٹ ہیں۔

ملک میں ترقی کی سست رفتاری کے باعث خدشہ ہے کہ دیہی علاقو ں میں بسنے والے ان طالبان عناصر کی حمایت میں کھڑے ہوسکتے ہیں۔ تاہم نیٹو کی وہ افواج جو ملک کے جنوبی حصے کا کنٹرول سنبھالنے کا ارادہ رکھتی ہیں، ان کا خیال ہے کہ اضافی فوج سے سکیورٹی کی صورتحال بہتر بنائی جاسکے گی اور نتیجتاً ترقی کی رفتار بڑھے گی۔

لیکن طالبان اور القاعدہ کی موجودگی میں یہ ایک مشکل کام ہے۔ دوسری مشکل ان وعدوں کے پورا ہونے کی ہے جو نیٹو ممالک نے افغانستان سے کر رکھے ہیں۔ امداد اور تعمیر نو کے دعوے تو بہت تھے لیکن یہ دعوے پورے ہوتے دکھائی نہیں دے رہے۔

نیٹو کی فوج میں اضافے کے ساتھ طالبان کے حملوں میں بھی تیزی آئی ہے۔ اس سال کینیڈا کے نو فوجی ہلاک کیئے گئے ہیں جن میں ہلاک ہونے والی پہلی خاتون فوجی بھی شامل ہیں۔

اگر نیٹو یا اتحادی افواج کی ہلاکتوں کی تعداد بڑھتی گئی تو امکان ہے کہ پھر ہر ملک اپنے فوجیوں کی افغانستان میں موجودگی کے حوالے سے کسی نہ کسی مشکل فیصلے پر پہنچنے کی کوشش کرے گا۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد