عبدالرحمان اٹلی پہنچ گئے | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
اسلام سے منحرف ہو کر عیسائیت قبول کرنے والے عبدالرحمان افغانستان سے رہائی پانے کے بعد اٹلی پہنچ گئے ہیں جہاں اطالوی وزیر اعظم کے مطابق انہیں سیاسی پناہ دے دی گئی ہے۔ عبدالرحمان کے اٹلی روانہ ہونے سے قبل افغان ارکان پارلیمان نے مطالبہ کیا تھا کہ اکتالیس سالہ عبدالرحمان کو افغانستان میں ہی رکنا چاہیے۔ اطالوی وزیر اعظم سلویو برلسکونی نے بدھ کو کہا کہ ’عبدالرحمان اٹلی پہنچ گئے ہیں اور میرا خیال ہے کہ وہ گزشتہ رات کو یہاں پہنچے ہیں۔‘ اطالوی وزیراعظم نے یہ بیان عبدالرحمان کی سیاسی پناہ کی درخواست کابینہ سے منظور کیئے جانے کے چند گھنٹوں بعد دیا۔ عبدالرحمان کی دماغی حالت درست نہ ہونے کے سبب انہیں مرتد ہونے کے جرم میں مقدمہ چلانے کے قابل نہیں سمجھا گیا اور رہا کر دیا گیا۔ اٹلی میں عام حالات میں سیاسی پناہ کی درخواستوں پر فیصلہ ہونے میں کئی ماہ لگ جاتے ہیں۔ لیکن عبدالرحمان کے کیس میں اطالوی وزیر اعظم اور ان کے کئی ساتھیوں نے کہا تھا کہ عبدالرحمان کا معاملہ جلد فیصلہ کا متقاضی ہے۔ عبدالرحمان کو افغانستان کے پلِ چرخی جیل سے رہائی کہ بعد اور اٹلی روانہ ہونے تک خفیہ مقامات پر رکھا گیا۔ عبدالرحمان کے معاملے پر افغانستان کی پارلیمان میں بدھ کو بحث ہوئی اور تقریباً تمام ارکان نے متفقہ طور پر اس رائے کا اظہار کیا کہ عبدالرحمان کو ملک چھوڑنے کی اجازت نہیں دی جانی چاہیے۔ ان اطلاعات پر کہ عبدالرحمان کو سیاسی پناہ دی جا رہی ہے تمام ارکان نے اپنے عضے کا اظہار کیا تھا۔ افغانستان کے صوبے لوگر سے تعلق رکھنے والے رکنِ پارلیمنٹ ڈاکٹر اسد اللہ ہمت یار نے بی بی سی کو بتایا کہ پارلیمان اس بات پر غور کر رہی ہے کہ عبدالرحمان کی رہائی دینے کے معاملے کی مکمل تحقیقات کرائی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ وہ جج سے پوچھیں گے کہ عبدالرحمان کو کیوں رہا کیا گیا۔ انہوں نے کہا کہ ابتدا میں تو عبدالرحمان کی دماغی حالت درست تھی بعد میں ان کا دماغی توازن کیوں بگڑ گیا۔ انہوں نے کہا کہ اگرعبدالرحمان کی حالت واقعی درست نہیں تھی تو علیحدہ بات ہے اور اگر ایسا نہیں تھا تو جج سے پوچھا جائے گا کہ کیوں انہوں نے عالمی دباؤ میں آکر عبدالرحمان کو رہا کیا۔ | اسی بارے میں افغانستان: ترکِ اسلام کا ملزم رہا28 March, 2006 | آس پاس عبدالرحمان کی رہائی پر احتجاج27 March, 2006 | آس پاس عبدالرحمان کے خلاف ’مقدمہ ختم‘26 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||