عبدالرحمان کی رہائی پر احتجاج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
کئی افغان اس بات پر ناراض ہیں کہ تبدیلی مذہب کے ’مجرم‘ کو کیوں چھوڑا گیا۔ حکومت کے اس فیصلے کے خلاف شمالی افغانستان میں سینکڑوں افراد نے مظاہرہ کیا۔ اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے والے عبدالرحمان کا مقدمہ اٹارنی جنرل کے حوالے کردیا گیا ہے کیونکہ حکام کے مطابق اس معاملے کے بارے میں جو شواہد موجود ہیں ان میں کچھ نامکمل ہیں۔ عبدالرحمان کو رہا کرنے کا فیصلہ ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب افغانستان پر اس سلسلے میں بین الاقوامی دباؤ کافی بڑھ چکا ہے۔ عبدالرحمان سولہ برس تک افغانستان سے باہر رہے ہیں اور وہ سولہ برس قبل ہی جرمنی میں اپنے قیام کے دوران اسلام ترک کر کے مسیحی ہو گئے تھے۔ ان پر افغانستان میں ارتدادِ اسلام کا مقدمہ درج ہے جس کے تحت پہلے خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ انہیں موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ کابل میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ اس مقدمے کے بارے میں حکومت اپنے عوام کی طرف سے بھی کافی دباؤ کا شکار ہے۔ پیر کی صبح مزار شریف کی سڑکوں پر سینکڑوں افراد نے احتجاجی مظاہرہ کیا۔ ان کا مطالبہ ہے کہ عبدالرحمان کے خلاف عدالتی کارروائی کی جائے اور اسلام ترک کرنے پر انہیں سزائے موت دی جائے۔ مظاہرین ’بش مردہ باد‘ کے نعرے لگا رہے تھے۔ ساتھ ہی انہوں نے بین الاقوامی برادری کو متنبہ کیا کہ اس معاملے میں مداخلت نہ کرے۔ ان کا کہنا ہے کہ ملک میں شرعی قانون نافذ ہے جس کا احترام کیا جانا چاہیئے۔ اس معاملے سے افغان حکومت اور صدر کرزئی کو درپیش مشکلات کی عکاسی ہوتی ہے۔ بڑھتے ہوئے عالمی دباؤ اور اپنے ’دوست‘ ممالک کے اصرار پر کرزئی نے بذات خود اس معاملے میں مداخلت کی ہے۔ تاہم ملک کے سخت گیر حلقوں کی جانب سے انہیں مخالفت کا سامنا ہے۔ وہ امید کررہے ہیں کہ یہ معاملہ قابو سے باہر ہونے سے پہلے ہی حل کرلیا جائے۔ عبدالرحمان کی رہائی کی تفصیلات فی الحال مقامی افراد سے مخفی رکھی جارہی ہیں کیونکہ خدشہ ہے کہ اس سے عوام مشتعل ہو سکتے ہیں۔ اس سے قبل عبدالرحمان کے اہلِ خانہ نے کہا تھا کہ ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں اور انہیں عجیب و غریب آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ عبدالرحمان افغان ہیں یا کسی اور ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔ عبدالرحمان کے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مقدمے پر نظرِ ثانی کا فیصلہ ملزم کی ذہنی حالت اور قومیت پر شکوک کی وجہ سے کیا گیا ہے۔ افغان سپریم کورٹ کے جج انصر اللہ مولائی زادہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے شک ہے کہ عبدالرحمان کی ذہنی حالت مقدمے کا سامنا کرنے کے لیئے صحیح ہے۔ | اسی بارے میں عبدالرحمٰن پر رحم کریں: پوپ کی اپیل25 March, 2006 | آس پاس اور اب کونڈولیزا رائس کا ٹیلی فون24 March, 2006 | آس پاس عبدالرحمٰن کی ’رہائی کا امکان‘24 March, 2006 | آس پاس عبدالرحمٰن کیلئے بش کی تشویش23 March, 2006 | آس پاس بیرونی دباؤ میں نہیں آئیں گے: جج 23 March, 2006 | آس پاس اسلام چھوڑنے پر ’پھانسی کا سامنا‘22 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||