BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 March, 2006, 17:04 GMT 22:04 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
بیرونی دباؤ میں نہیں آئیں گے: جج
سپریم کورٹ کے جج انصار اللہ مولوی زادے
افغانستان ایک آزاد مملکت ہے اور عدلیہ مقدمے کی کارروائی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ طریقے سے چلائے گی: جج سپریم کورٹ
افغانستان میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدلیہ ایک افغان شہری کے اسلام ترک کر کے عیسائی عقیدہ اپنانے کے مقدمہ میں کسی بھی بیرونی دباؤ میں نہیں آئے گی۔

سپریم کورٹ کے ایک جج انصار اللہ مولوی زادے کا کہنا ہے کہ افغانستان ایک آزاد مملکت ہے اور عدلیہ مقدمے کی کارروائی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ طریقے سے چلائے گی۔

مذہب تبدیل کرنے والے عبدالرحمٰان کے خلاف مقدمہ قائم کیے جانے کی خبر پر امریکی صدر جارج بش سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے مذکورہ شخص کی جان کو لاحق خطرے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔

مذہب تبدیل کرنے والے عبدالرحمٰان
نامہ نگاروں کا کہنا ہے کہ مقدمے کے فیصلے کے لیے دیکھا جائے گا کہ آئین کی تشریح کیسے کی جاتی ہے کیونکہ اس میں اسلامی شریعت کے ساتھ ساتھ مذہبی آزادی کی ضمانت بھی دی گئی ہے۔

عبدالرحمٰان نے پندرہ سال قبل افغان پناہ گزینوں کی ایک امدادی تنظٌیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے مذہب تبدیل کیا تھا۔

اسی بارے میں
یوسف اسلام سے خطرہ
22 September, 2004 | آس پاس
’اللہ میڈ می فنی‘
15 June, 2004 | آس پاس
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد