بیرونی دباؤ میں نہیں آئیں گے: جج | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں سپریم کورٹ نے کہا ہے کہ عدلیہ ایک افغان شہری کے اسلام ترک کر کے عیسائی عقیدہ اپنانے کے مقدمہ میں کسی بھی بیرونی دباؤ میں نہیں آئے گی۔ سپریم کورٹ کے ایک جج انصار اللہ مولوی زادے کا کہنا ہے کہ افغانستان ایک آزاد مملکت ہے اور عدلیہ مقدمے کی کارروائی آزادانہ اور غیرجانبدارانہ طریقے سے چلائے گی۔ مذہب تبدیل کرنے والے عبدالرحمٰان کے خلاف مقدمہ قائم کیے جانے کی خبر پر امریکی صدر جارج بش سمیت مختلف عالمی رہنماؤں نے مذکورہ شخص کی جان کو لاحق خطرے کے بارے میں تشویش کا اظہار کیا ہے۔
عبدالرحمٰان نے پندرہ سال قبل افغان پناہ گزینوں کی ایک امدادی تنظٌیم کے ساتھ کام کرتے ہوئے مذہب تبدیل کیا تھا۔ | اسی بارے میں عبدالرحمٰن کیلئے بش کی تشویش23 March, 2006 | آس پاس امریکی مبلغوں کو الٹی میٹم12 February, 2006 | آس پاس یوسف اسلام سے خطرہ22 September, 2004 | آس پاس ’کفار کو ہلاک کرنا مذہبی فریضہ ہے‘12 January, 2006 | آس پاس ’اللہ میڈ می فنی‘15 June, 2004 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||