امریکی مبلغوں کو الٹی میٹم | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
وینزویلا کی حکومت نے امریکہ سے تعلق رکھنے والی عیسائی مشنری تنظیم کو ملک چھوڑنے کے لیے اتوار تک کی مہلت دے دی ہے۔ صدر ہوگو شاویز بار بار ’نیو ٹرائبز مشن‘ کو نکالنے کی ضرورت پر زور دیتے رہے ہیں اور ان کا کہنا ہے کہ یہ امریکی قابض ہیں۔ وہ انہیں سی آئی اے اور نو آبادیاتی قوتوں کے ایجنٹ قرار دیتے ہیں۔ اکتوبر میں حکومت کی جانب سے ملک سے نکل جانے کے حکم کے بعد وینزویلا میں موجود ایک سو ساٹھ مشنریوں میں سے زیادہ تر اپنے خاندان کے افراد کے ہمراہ امریکہ واپس جا چکے ہیں۔ صرف تیس مشنری ابھی تک وینزویلا میں مقیم ہیں۔ ’نیو ٹرائبزمین مشن‘ کا ہیڈ کوارٹر فلوریڈا میں ہے اور یہ تنظیم گزشتہ ساٹھ سال سے وینزویلا کے مقامی قبائلی باشندوں کو عیسائی مذہب کی تبلیغ کر رہی ہے۔ تنظیم کا کہنا ہے کہ اس کام کے لیے تمام امداد لوگ انفرادی طور پر دیتے ہیں اور امریکی حکومت کا اس میں کوئی کردار نہیں ہے۔ تنظیم کے کارکن دور دراز کے علاقوں میں رہتے اور اپنا کام کرتے ہیں جن میں ایمیزون کے جنگلات بھی شامل ہیں۔ ان کا مقصد قبائلی لوگوں کو تلاش کر کے انہیں ’تہذیب‘ کی تعلیم دینا اور انہیں عیسائی بنانا ہے۔ اب تک اس تنظیم کے نمائندوں نے بارہ مختلف قبائل میں تبلیغ کی ہے۔ عیسائی مذہب قبول کرنے کے عوض لوگوں کو صحت اور تعلیم جیسی بنیادی سہولتیں فراہم کی جاتی ہیں۔ نیو ٹرائبز کے ایک ترجمان نے بی بی سی سے بات کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت کے احکامات کے تحت تمام مشنری کارکنان قبائلی علاقے چھوڑ کر جا چکے ہیں۔ تاہم ملک کی وزارت داخلہ اس پر مطمئین نہیں ہے اور اس کا کہنا ہے کہ مشنری ان کا ملک چھوڑ دیں۔ | اسی بارے میں وینزویلا: دس لاکھ فوجیوں کی ضرورت05 February, 2006 | آس پاس جہاز حادثہ: 160 مسافر ہلاک16 August, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||