BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Thursday, 23 March, 2006, 02:47 GMT 07:47 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عبدالرحمٰن کیلئے بش کی تشویش
صدر بش نے کہا ہے کہ افغانستان کو مذہبی آزادی کے آفاقی اصول کا پاس کرنا چاہیئے
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ افغانستان کے اس شخص عبدالرحمٰن کے بارے میں انہیں شدید تشویش ہے جس نے اسلام ترک کرکے عیسائت قبول کرلی ہے۔

عبدالرحمٰن کو تبدیلیِ مذہب پر جیل بھیج دیا گیا ہے اور اسے کہا گیا ہے کہ اگر وہ دوبارہ اسلام قبول نہیں کرے گا تو اسے موت کی سزا دی جاسکتی ہے۔

صدر جارج بش نے کہا ’مجھے امید ہے کہ افغانستان کے حکام آزادی کے آفاقی اصول کا پاس کریں گے۔‘

صدر بش نے کہا: ’ ہمیں امید ہے کہ امید ہے کہ افغان حکومت آزادی کے آفاقی اصولوں کا پاس کرے گی۔ مجھے یہ سن کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص اسلام کو ترک کرتا ہے تو اسے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔‘

واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر بش افغانستان پر فوج کشی کے جو جواز پیش کرتے آئے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ وہاں جمہوریت اور آزادی کا بول بالا ہوگا۔

افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عبدالرحمٰن کا معاملہ افغانستان کے اعلان کردہ مقاصد کی نفی کرتا نظر آرہا ہے۔

افغان حکام نے کہا ہے کہ اس بات کا امکان کم ہے کہ عبدالرحمٰن کو پھانسی کی سزا ملے گی۔

تاہم اس مقدمے سے امریکہ، اٹلی اور جرمنی جیسے ممالک نے افغانستان سے اپیل کی ہے کہ وہ مذہبی آزادیوں کا خیال کرے۔

گزشتہ روز امریکی نائب وزیر خارجہ نکولس برنس نے افغانستان سے کہا تھا کہ مذہبی آزادی کے اصول پر پوری طرح عمل کیا جائے۔ تاہم انہوں نے عبدالرحمٰن کی رہائی کے لیئے نہیں کہا تھا۔

واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ امریکہ کے لیئے ندامت کا باعث بن سکتا ہے جس نے افغانستان میں جمہوریت اور آزادی کے قیام کےلیئے بڑے پیمانے پر وسائل صرف کیے ہیں۔

سولہ برس قبل پاکستان میں پناہ گزینوں کے لیئے عیسائی امدادی ادارے کے ساتھ کام کرنے کے دوران عبدالرحمٰن نے مذہب تبدیل کیا تھا۔ ان کے خاندان نے انہیں چھوڑنے کے بعد بچوں کی تحویل کے معاملے میں عبدالرحمٰن کی مذمت کی تھی۔

یہ افغانستان میں اپنی نوعیت کا پہلا کیس ہے جس سے ملک کے اصلاح کاروں اور بنیاد پرستوں کے درمیان پائی جانے والی کشیدگی واضح ہوتی ہے۔

حامد کرزئی کی حکومت اور دیگر اصلاح کار ملک میں آزادانہ اور سیکولر قانونی نظام چاہتے ہیں لیکن موجودہ آئین کے تحت یہ ممکن نہیں۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد