اور اب کونڈولیزا رائس کا ٹیلی فون | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی انتظامیہ کی طرف سے ایک انتہائی غیر روایتی اقدام کے تحت وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے مطالبہ کیا ہے کہ افغانستان اسلام ترک کر کے مسیحی ہو جانے والے شخص عبدالرحمٰن کے معاملے پر مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے۔ افغانستان پر امریکی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کہ عبدالرحمٰن کے ساتھ جنہیں واپس مسلمان نہ ہونے پر سزائے موت دیئے جانے کا امکان بہر حال موجود ہے، مذہبی رواداری اور آزادی کا سلوک کیا جائے۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ عبدالرحمٰن کے مذہب تبدیل کرنے پر سزا کا حقدار ٹھہرنے کے مسئلے پر بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور سے صدر جارج بش کے مسیحی حمایتی اس واقعہ سے نہ صرف پریشان بلکہ ناراض بھی ہیں۔ انہیں اس بات پر شدید غصہ ہے کہ عبدالرحمٰن کو عیسائی مذہب اختیار کرنے پر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ایک جج نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے قانون کے مطابق اگر عبدالرحمٰن نے دوبارہ سے مسلم مذہب اختیار نہ کیا تو انہیں موت کی سزا ہو سکتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے عام روایت سے ہٹ کر امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ اس معاملہ پر گفتگو کی ہے۔ وزیرِ خارجہ کے بقول انہوں نے انتہائی واضح الفاظ میں اس مسئلے پر بات چیت کی ہے۔
کونڈولیزا رائس نے حامد کرزئی سے کہا کہ عبدالرحمٰن کو دی جانے والی سزا مذہبی آزادی کے آفاقی اصولوں سے متصادم ہے اور یہ کہ انہیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں اس مسئلے کا مناسب حل تلاش کر لیا جائے گا۔ ادھر افغانستان میں مسلمان علماء کا ایک گروہ یہ مطالبہ کر رہا ہے کہ چونکہ عبدالرحمٰن مرتد ہو چکے ہیں لہذا ان کا سر قلم کر دیا جائے۔ جو جج عبدالرحمٰن کا مقدمہ سن رہے ہیں، انہوں نے کہا ہے کہ وہ مغرب کے دباؤ میں آ کر مقدمہ کا فیصلہ نہیں کریں گے۔ گزشتہ روز امریکی صدر جارج بش نے کہا تھا کہ افغانستان کے اس شخص عبدالرحمٰن کے بارے میں انہیں شدید تشویش ہے جس نے اسلام ترک کرکے عیسائت قبول کرلی ہے۔ صدر جارج بش نے کہا تھا ’مجھے امید ہے کہ افغانستان کے حکام آزادی کے آفاقی اصول کا پاس کریں گے۔‘ صدر بش کا کہنا تھا: ’ہمیں امید ہے کہ افغان حکومت آزادی کے آفاقی اصولوں کا پاس کرے گی۔ مجھے یہ سن کر بہت تکلیف ہوتی ہے کہ جب کوئی شخص اسلام کو ترک کرتا ہے تو اسے جوابدہ ہونا پڑتا ہے۔‘ واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ صدر بش افغانستان پر فوج کشی کے جو جواز پیش کرتے آئے ہیں ان میں یہ بھی ہے کہ وہاں جمہوریت اور آزادی کا بول بالا ہوگا۔ افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ عبدالرحمٰن کا معاملہ افغانستان کے اعلان کردہ مقاصد کی نفی کرتا نظر آرہا ہے۔ واشنگٹن سے بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ یہ معاملہ امریکہ کے لیئے ندامت کا باعث بن سکتا ہے جس نے افغانستان میں جمہوریت اور آزادی کے قیام کےلیئے بڑے پیمانے پر وسائل صرف کیے ہیں۔ سولہ برس قبل پاکستان میں پناہ گزینوں کے لیئے عیسائی امدادی ادارے کے ساتھ کام کرنے کے دوران عبدالرحمٰن نے مذہب تبدیل کیا تھا۔ ان کے خاندان نے انہیں چھوڑنے کے بعد بچوں کی تحویل کے معاملے میں عبدالرحمٰن کی مذمت کی تھی۔ | اسی بارے میں کابل، اسلام چھوڑنے پر مقدمہ20 March, 2006 | آس پاس افغان جلاوطنوں کی برطانوی زندگی14 February, 2006 | فن فنکار افغان احتجاج، برطانوی دستے07 February, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||