عبدالرحمٰن کی ’رہائی کا امکان‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغان حکومت کے ایک سینئر اہلکار نے کہا ہے کہ اسلام ترک کر کے مسیحی مذہب اختیار کرنے والے شخص عبدالرحمٰن کو جلد رہا کیا جانے کا امکان ہے۔ افغان حکومت کے اس اہلکار نے بی بی سی کو بتایا کہ ہفتے کو عبدالرحمٰن کے معاملے پر اعلیٰ سطح کا ایک خصوصی اجلاس منعقد کیا جا رہا ہے۔ عبدالرحمٰن پر ترکِ اسلام کی وجہ سے مقدمہ چلایا جا رہا ہے اور اگر وہ عیسائیت سے منہہ موڑ کر مذہبِ اسلام قبول نہیں کرتے تو شریعت کے قانون کے تحت انہیں سزائے موت ہو سکتی ہے۔ دنیا کے کئی رہنماؤں نے اس مقدمے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ آسٹریلیا کے وزیرِ اعظم جان ہاورڈ نے جمعہ کو اپنے ردِ عمل میں کہا: ’یہ سب کچھ دہشت ناک ہے۔ جب میں نے یہ رپورٹ دیکھی تو مجھے حقیقت میں شدید وحشت ہوئی۔‘ جمعرات کو امریکی انتظامیہ کی طرف سے ایک انتہائی غیر روایتی اقدام کے تحت وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے مطالبہ کیا تھا کہ افغانستان اسلام ترک کر کے مسیحی ہو جانے والے شخص عبدالرحمٰن کے معاملے پر مذہبی آزادی کا احترام کیا جائے۔ آسٹریا نے جس کے پاس آج کل یورپی اتحاد کی صدارت ہے کہا ہے کہ اتحاد عبدالرحمٰن کو بچانے کی پوری کوشش کرے گا۔ آسٹریا کے وزیرِ خارجہ کا کہنا تھا ’ہم عبدالرحمٰن کو بچانے اور اس کے بنیادی حق کو تحفظ فراہم کرنے میں کوئی کسر نہیں چھوڑیں گے۔‘
افغانستان پر امریکی دباؤ مسلسل بڑھ رہا ہے کہ عبدالرحمٰن کے ساتھ جنہیں واپس مسلمان نہ ہونے پر سزائے موت دیئے جانے کا امکان بہر حال موجود ہے، مذہبی رواداری اور آزادی کا سلوک کیا جائے۔ افغان حکومت کہتی ہے کہ عبدالرحمٰن کی قسمت کا فیصلہ عدالت نے کرنا ہے۔ تاہم عدلیہ میں مذہبی قدامت پسندوں کا غلبہ ہے اور اکثر لوگوں کا خیال ہے کہ افغان صدر حامد کرزئی کے لیئے عدلیہ سے ٹکر لینا آسان نہیں ہوگا۔ افغان حکومت کے لیئے یہ بھی ایک مسئلہ ہے کہ افغان لوگوں کی ایک بڑی اکثریت سمجھتی ہے کہ عبدالرحمٰن نے ترکِ اسلام کر کے غلطی کی ہے اور انہیں سزائے موت ملنی چاہیئے۔ تاہم کینیڈا کے وزیرِ اعظم سٹیفن ہارپر نے کہا ہے کہ حامد کرزئی نے انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ عبدالرحمٰن کو موت کی سزا نہیں دی جائے گی۔ واشنگٹن میں بی بی سی کے نامہ نگار نے بتایا ہے کہ عبدالرحمٰن کے مذہب تبدیل کرنے پر سزا کا حقدار ٹھہرنے کے مسئلے پر بین الاقوامی سطح پر غم و غصے کا اظہار کیا جا رہا ہے۔ خاص طور سے صدر جارج بش کے مسیحی حمایتی اس واقعہ سے نہ صرف پریشان بلکہ ناراض بھی ہیں۔ انہیں اس بات پر شدید غصہ ہے کہ عبدالرحمٰن کو عیسائی مذہب اختیار کرنے پر جیل میں ڈال دیا گیا ہے۔ ایک جج نے خبردار کیا ہے کہ افغانستان کے قانون کے مطابق اگر عبدالرحمٰن نے دوبارہ سے مسلم مذہب اختیار نہ کیا تو انہیں موت کی سزا ہو سکتی ہے۔ شاید اسی وجہ سے عام روایت سے ہٹ کر امریکی وزیرِ خارجہ کونڈولیزا رائس نے افغان صدر حامد کرزئی کے ساتھ اس معاملہ پر گفتگو کی ہے۔ وزیرِ خارجہ کے بقول انہوں نے انتہائی واضح الفاظ میں اس مسئلے پر بات چیت کی ہے۔ کونڈولیزا رائس نے حامد کرزئی سے کہا کہ عبدالرحمٰن کو دی جانے والی سزا مذہبی آزادی کے آفاقی اصولوں سے متصادم ہے اور یہ کہ انہیں امید ہے کہ مستقبل قریب میں اس مسئلے کا مناسب حل تلاش کر لیا جائے گا۔ | اسی بارے میں اور اب کونڈولیزا رائس کا ٹیلی فون24 March, 2006 | آس پاس عبدالرحمٰن کیلئے بش کی تشویش23 March, 2006 | آس پاس کابل، اسلام چھوڑنے پر مقدمہ20 March, 2006 | آس پاس افغان جلاوطنوں کی برطانوی زندگی14 February, 2006 | فن فنکار | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||