افغانستان: ترکِ اسلام کا ملزم رہا | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں ترکِ اسلام کے الزام میں گرفتار کیے گئے شہری عبد الرحمان کو رہا کر دیا گیا ہے۔ افغانستان کے وزیر انصاف محمد سرور دانش نے بتایا ہے کہ عبد الرحمان کو جیل سے ’رہا‘ کر دیا گیا ہے لیکن انہیں ذہنی مریضوں کے لئے مخصوص ہسپتال منتقل کیا گیا ہے۔ حکام کا اب کہنا ہے کہ وہ عبد الرحمان کو ذہنی مرض کی بنیاد پر مقدمہ کا سامنا کرنے کے قابل نہیں سمجھتے۔ اسلام چھوڑ کر عیسائیت قبول کرنے والے اس شخص کو رہا کرنے کا فیصلہ ایسے وقت پر کیا گیا ہے جب افغانستان پر اس سلسلے میں بین الاقوامی دباؤ کافی بڑھ چکا ہے۔ تاہم افغانستان میں کئی لوگوں نے مذہب تبدیل کرنے والے عبد الرحمان کو موت کی سزا دینے کا مطالبہ کیا تھا اور اس سلسلے میں مظاہرے بھی کیے گئے۔ افغانستان میں بی بی سی کے نامہ نگار کا کہنا ہے کہ حکام اس تنازع کو پر امن طریقے سے حل کرنا چاہتے تھے اور لگتا ہے کہ انہوں نے اس کے لئے ایک طریقہ ڈھونڈ لیا ہے۔ خیال ہے کہ عبد الرحمان کو اب افغانستان سے نکال کر کسی اور ملک میں پناہ دی جائے گی۔ عبدالرحمان سولہ برس تک افغانستان سے باہر رہے ہیں اور وہ سولہ برس قبل ہی جرمنی میں اپنے قیام کے دوران اسلام ترک کر کے مسیحی ہو گئے تھے۔ ان پر افغانستان میں ارتدادِ اسلام کا مقدمہ درج ہے جس کے تحت پہلے خدشہ ظاہر کیا جارہا تھا کہ انہیں موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔ | اسی بارے میں عبدالرحمان کے خلاف ’مقدمہ ختم‘26 March, 2006 | آس پاس عبدالرحمان کی رہائی پر احتجاج27 March, 2006 | آس پاس ’افغانستان میں مداخلت نہ کریں‘24 March, 2006 | آس پاس عبدالرحمٰن کیلئے بش کی تشویش23 March, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||