BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 26 March, 2006, 14:48 GMT 19:48 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
عبدالرحمان کے خلاف ’مقدمہ ختم‘
 اسلام ترک کر کے عیسائی ہونے والے عبدالرحمان
مقدمے پر نظرِ ثانی کا فیصلہ ملزم کی ذہنی حالت اور قومیت پر شکوک کی وجہ سے کیا گیا
مذہب تبدیل کرنے والے افغان شخص کو مقدمے پر نظرِ ثانی کے عمل کے دوران جیل سے رہا کیا جا رہا ہے۔

حکام کے مطابق اسلام ترک کر کے عیسائی ہونے والے عبدالرحمان نامی اس افغان شخص کا مقدمہ شواہد میں کمی کی وجہ سے خارج کر دیا گیا ہے اور اسے دوبارہ اٹارنی جنرل کو نطرِ ثانی کے لیئے سونپ دیا گیا ہے۔

نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر ایک افغان افسر کا کہنا ہے کہ جب تک اٹارنی جنرل مقدمے کا دوبارہ جائزہ لیتے ہیں اس دوران عبدالرحمان کو قید رکھنے کی کوئی ضرورت نہیں۔

اس سے قبل عبدالرحمان کے مقدمے کی سماعت کرنے والے جج نے بی بی سی کو بتایا تھا کہ مقدمے پر نظرِ ثانی کا فیصلہ ملزم کی ذہنی حالت اور قومیت پر شکوک کی وجہ سے کیا گیا ہے۔

افغان سپریم کورٹ کے جج انصر اللہ مولائی زادہ کا کہنا تھا کہ انہیں اس بارے شک ہے کہ عبدالرحمان کی ذہنی حالت مقدمے کا سامنا کرنے کے لیئیے صحیح ہے۔

جج کے مطابق عبدالرحمان کے اہلِ خانہ نے کہا تھا کہ ان کی ذہنی حالت ٹھیک نہیں اور انہیں عجیب عجیب آوازیں سنائی دیتی ہیں۔ ان کا کہنا ہے کہ اس بات کی بھی تصدیق نہیں ہوئی ہے کہ عبدالرحمان افغان ہیں یا کسی اور ملک سے تعلق رکھتے ہیں۔

عبدالرحمان سولہ برس تک افغانستان سے باہر رہے ہیں اور وہ سولہ برس قبل ہی جرمنی میں اپنے قیام کے دوران اسلام ترک کر کے مسیحی ہو گئے تھے۔ ان پر افغانستان میں ارتدادِ اسلام کا مقدمہ درج ہے جس میں انہیں موت کی سزا بھی ہو سکتی ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد