’ہمارے دور میں کچھ سختیاں ہوئیں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
افغانستان میں طالبان کی معزول حکومت کے ترجمان مفتی لطف اللہ حکیمی نے بی بی سی ارود سروس سے ٹیلی فون پر ایک خصوصی انٹرویو میں اس بات کا اعتراف کیا ہے کہ امربالمعروف و نہی عن المنکر کے تحت افغان عوام کو بعض اوقات حد سے زیادہ سخیتوں کا سامنا کرنا پڑا تھا اور یہ سختیاں نہیں ہونی چاہیئے تھیں۔ انہوں نے کہا کہ داڑھی منڈوانے اور بال بڑھانے پر بے جا سختیاں ہوئیں۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر ان کی حکومت پھر سے قائم ہوجائے تو وہ ان معاملات پر علماء سے فتوی لینے کے بعد نرم رویہ اختیار کریں۔ تاہم ان کا موقف تھا کہ انہوں نے جو کچھ کیا وہ قرآنی احکامات کے مطابق کیا۔ خواتین کے معاملے پر ان کا کہنا تھا کہ انہیں تعلیم سے دور رکھنے اور ملازمت نہ کرنے دینے پر وہ نظرثانی کرنے والے تھے کہ ان کی حکومت کا خاتمہ کر دیا گیا۔ حالیہ انتخابات کے بارے میں اس سوال کے جواب میں کہ ذرائع ابلاغ اور بین الاقوامی مبصرین کے مطابق لوگوں نے طالبان کے منع کرنے اور دھمکانے کے باوجود انتخابات میں حصہ لیا، مفتی حکیمی نے کہا کہ ان کی معلومات کے مطابق صرف بڑے مراکز مثلاً کابل، قندھار، ہرات، مزار وغیرہ میں لوگوں نے الیکشن میں حصہ لیا ہے ورنہ دیہات میں لوگ اس سے دور رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ زابل، پکتیکا، پکتیہ، کنڑ، ہلمند، لغمان، نورستان اور ارزگان وغیرہ میں لوگ پولنگ کے لیے نہیں گئے۔ پرتشدد کارروائیوں کی دھمکیوں کے بارے میں انہوں نے کہا کہ ان سے اس لیے اجتناب کیا گیا کہ اس میں عام آدمی کو نقصان پہنچنے کا خدشہ تھا۔ اس سوال پر کہ کیا انتخابات میں عوام کی شرکت یہ پیغام نہیں دیتی کہ وہ سیاسی اور پرامن طور پر ملک میں تبدیلی چاہتے ہیں تو مفتی لطف اللہ حکیمی کا موقف تھا کہ جن علاقوں میں ان کی حمایت موجود ہے وہاں لوگوں نے ووٹ نہیں دیا ہے اور یہ وہ لوگ ہیں جنہوں نے طالبان کو اپنے دلوں اور گھروں میں جگہ دے رکھی ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ جن علاقوں میں ووٹ ڈالے گئے ہیں وہاں حکومت اور امریکہ کا دباؤ تھا۔ حکیمی نے کہا کہ امریکہ اور اس کے حواریوں کے ساتھ مذاکرات کرنا مشکل ہے کیونکہ وہ ان کے گھر میں گھس بیٹھے ہیں۔ انہوں نے کہا جب امریکہ حملہ کرنے والا تھا تو طالبان نے ان سے مذاکرات کی بات کی مگر امریکہ کو اپنی طاقت پر زعم تھا۔ اور امریکیوں کو معلوم نہیں تھا کہ افغانستان پر قبضہ کرنا ایسا ہی ہے جیسے کو ہڈی کو نگلنے کی کوشش کرے۔ پاکستانی حمایت کے بارے میں انہوں نے کہا کہ دنیا بھر کے مسلمان ان کا ساتھ دے رہے ہیں لیکن دنیا کی مسلمان اور غیرمسلم حکومتیں ان کے خلاف ہیں۔ جب ان کی توجہ جنوبی وزیرستان میں حکومتی کارروائی کی طرف دلوائی گئی کہ وہاں طالبان حمایت کی وجہ سے لوگوں کو مشکلات کا سامنا ہے تو مفتی حکیمی کا کہنا تھا کہ اسلام کے لیے تو مسلمانوں کو مشکلات کا سامنا کرنا پڑے گا۔ جب ان سے پوچھا گیا کہ کیا وہ اس بات کا اعتراف کرتے ہیں کہ جنوبی وزیرستان میں طالبان موجود ہیں تو انہوں نے کہا کہ جہاں بھی مسلمان جبر اور کفر کے خلاف لڑ رہے ہیں وہ ان کے ساتھی ہیں۔ |
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||