BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Monday, 12 June, 2006, 14:16 GMT 19:16 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’جھڑپوں میں 37 طالبان ہلاک‘
طالبان جنگجو (فائل فوٹو)
طالبان کے ترجمان کا کہنا ہے کہ جھڑپوں میں ان کا صرف ایک فرد ہلاک ہوا ہے
ایک افغان جنرل نے بتایا ہے کہافغانستان میں اتوار اور پیر کو کی جانے والی کارروائی میں امریکی اور افغان فوج نے مختلف جھڑپوں میں سینتیس مشتبہ طالبان کو ہلاک کر دیا ہے۔

جنرل رحمت اللہ رؤفی جنوبی افغانستان میں فوجی کمانڈر ہیں۔ انہوں نے یہ بات پیر کے روز جنوبی افغانستان کے شہر قندھار میں ایک اخباری کانفرنس میں کہی۔ ان کا دعوی تھا کہ ان جھڑپوں میں طالبان کے سربراہ ملا عمر کے ایک عزیز اما اللہ بھی مارے گئے ہیں۔ ملا عمر آجکل مفرور ہیں۔

تاہم افغان وزیر دفاع کے ترجمان جنرل عاظمی کا کہنا تھا کہ ملا عمر کے عزیر ہلاک ہونے والوں میں نہیں بلکہ گرفتار ہونے والوں میں شامل ہیں۔

جنرل رحمت اللہ رؤفی کے مطابق اتوار کی رات صوبہ ہلمند میں ایک جھڑپ میں دس طالبان ہلاک ہوئے تھے اور ان دس کے علاوہ ملحقہ صوبے قندھار میں بارہ اور صوبے ارزگان میں پندرہ طالبان ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم افغانستان میں موجود اتحادی فوج نے ان حملوں اور ہلاکتوں کی تصدیق نہیں کی۔

ادھر طالبان کے ترجمان محمد حنیف نے ان جھڑپوں کی تصدیق کی ہے لیکن ان کا کہنا ہے کہ طالبان کا صرف ایک فرد ہلاک ہوا ہے اور وہ ہلمند کی جھڑپ میں۔

جنوبی اور وسطی افغانستان میں گزشتہ چند ماہ سے تشدد میں اضافہ ہوا ہے جس میں کئی افراد ہلاک ہو چکے ہیں۔

تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد