گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
صدر جارج بش کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے باوجود کہ گوانتانامو کے زیر حراست افراد پر فوجی ٹرائبیونل میں مقدمہ چلانا غیر قانونی ہے وہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیں گے۔ اپنے تاریخ ساز فیصلے میں امریکی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بش انتظامیہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ مشتبہ دہشت گردوں پر فوجی ٹرائبیونلز میں مقدمے چلائے۔ تاہم صدر بش کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے۔ صدر بش کے مطابق ان کی دانست میں وہ امریکی کانگریس کے ساتھ مل کر فوجی ٹرائبیونل کو جاری رکھ سکتے ہیں۔ ’جہاں تک مجھے معلوم ہے کچھ ارکان کانگریس سپریم کورٹ کے اعتراض کو دور کرنے کی کوشش شروع کرچکے ہیں۔‘ امریکی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ فوجی ٹرائبیونل امریکی قانون اور معاہدۂ جنیوا کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور صدر بش اپنے اختیارات سے تجاوز کرگۓ ہیں۔ ایک اہم ترین مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے اسامہ بن دلان کے سابق ڈرائیور کے اس موقف کو درست قرار دیا جس میں انہوں نے گوانتانامو بے میں اپنے خلاف مقدمے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔ اسامہ کے ڈرائیور سلیم احمد ہمدان کا مطالبہ ہے کہ ان پر عام عدالت میں مقدمہ چلایا جائے یا ان کا کورٹ مارشل کیا جائے۔ اس سے استغاثے کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہوگا۔ سلیم گوانتانامو کے قید خانے میں موجود ان دس افراد میں سے ایک ہیں جن کا مقدمہ فوجی ٹرائیبونل کے سامنے چل رہا ہے۔ امریکی فوج نے دو ہزار دو افغانستان پر حملے کے بعد گوانتانامو کا قید خانہ اپنے نیول بیس پر قائم کیا تھا۔ اس قید خانے میں اس وقت تقریباً چار سو پچاس مشتبہ دہشت گرد موجود ہیں جن کا تعلق افغانستان، یمن، سعودی عرب اور دیگر ممالک سے ہے۔
امریکی فوج یہاں پر موجود قیدیوں کو لڑاکا دشمن قرار دیتی ہے جنہیں دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی نسبت سے غیر معینہ مدت تک قید رکھا جا سکتا ہے۔ اب تک صرف دس قیدیوں پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ امریکی حکام ان قیدیوں کے خلاف فوجی ٹرائبیونلز میں مقدمہ چلانا چاہتی ہے مگر سپریم کورٹ میں کارروائی کے چیلنج کیئے جانے کے بعد سے سماعت رکی ہوئی ہے۔ حقوقِ انسانی کے گروپ گوانتانامو کے قید خانے میں قیدیوں پر امریکی تشدد پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کئی بار کر چکے ہیں لیکن واشنگٹن کو ان الزامات کی صحت سے انکار ہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ قیدیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کے خلاف عام عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔ حال ہی میں صدر بش نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ گوانتانامو کا قید خانہ بند کر دیا جائے لیکن ایسا اس لیئے نہیں ہو رہا کہ بقول امریکی صدر کے کچھ قیدی انتہائی خطرناک ہیں۔ اقوامِ متحدہ اور یورپ کے رہنماؤں نے بھی گوانتانامو کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔ | اسی بارے میں ’گوانتانامو قیدخانہ بند کر دیں گے‘21 June, 2006 | آس پاس ’رہائی سے پہلے خودکشی‘12 June, 2006 | آس پاس ’میرے بیٹے کو قتل کیا گیا ہے‘15 June, 2006 | آس پاس گوانتانامو: 75 قیدی بھوک ہڑتال پر29 May, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کی پہلی فہرست20 April, 2006 | آس پاس ’گوانتانامو ناانصافی کی مثال بن گیا ہے‘11 May, 2006 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||