BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Friday, 30 June, 2006, 04:27 GMT 09:27 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو: ’کوئی راستہ نکالیں گے‘
سلیم احمد ہمدان اسامہ بن لدان کے ڈرائیور رہے ہیں اور امریکی سپریم کورٹ میں انہوں نے ہی اپنے خلاف مقدمے کو چیلنج کیا تھا
صدر جارج بش کہتے ہیں کہ سپریم کورٹ کے اس فیصلے کے باوجود کہ گوانتانامو کے زیر حراست افراد پر فوجی ٹرائبیونل میں مقدمہ چلانا غیر قانونی ہے وہ کوئی نہ کوئی راستہ نکال لیں گے۔

اپنے تاریخ ساز فیصلے میں امریکی سپریم کورٹ نے کہا تھا کہ بش انتظامیہ کو یہ اختیار حاصل نہیں کہ وہ مشتبہ دہشت گردوں پر فوجی ٹرائبیونلز میں مقدمے چلائے۔

تاہم صدر بش کہنا ہے کہ وہ اس فیصلے پر سنجیدگی کے ساتھ غور کریں گے۔ صدر بش کے مطابق ان کی دانست میں وہ امریکی کانگریس کے ساتھ مل کر فوجی ٹرائبیونل کو جاری رکھ سکتے ہیں۔

’جہاں تک مجھے معلوم ہے کچھ ارکان کانگریس سپریم کورٹ کے اعتراض کو دور کرنے کی کوشش شروع کرچکے ہیں۔‘

امریکی سپریم کورٹ نے اپنے فیصلے میں کہا ہے کہ فوجی ٹرائبیونل امریکی قانون اور معاہدۂ جنیوا کی خلاف ورزی کرتے ہیں اور صدر بش اپنے اختیارات سے تجاوز کرگۓ ہیں۔

ایک اہم ترین مقدمے کا فیصلہ سناتے ہوئے عدالت نے اسامہ بن دلان کے سابق ڈرائیور کے اس موقف کو درست قرار دیا جس میں انہوں نے گوانتانامو بے میں اپنے خلاف مقدمے کی قانونی حیثیت کو چیلنج کیا تھا۔

اسامہ کے ڈرائیور سلیم احمد ہمدان کا مطالبہ ہے کہ ان پر عام عدالت میں مقدمہ چلایا جائے یا ان کا کورٹ مارشل کیا جائے۔ اس سے استغاثے کو زیادہ مشکلات کا سامنا ہوگا۔ سلیم گوانتانامو کے قید خانے میں موجود ان دس افراد میں سے ایک ہیں جن کا مقدمہ فوجی ٹرائیبونل کے سامنے چل رہا ہے۔

امریکی فوج نے دو ہزار دو افغانستان پر حملے کے بعد گوانتانامو کا قید خانہ اپنے نیول بیس پر قائم کیا تھا۔ اس قید خانے میں اس وقت تقریباً چار سو پچاس مشتبہ دہشت گرد موجود ہیں جن کا تعلق افغانستان، یمن، سعودی عرب اور دیگر ممالک سے ہے۔

حال ہی میں گوانتانامو کے قید خانے میں تین قیدیوں نے خودکشی کر لی تھی
اس قید خانے میں ماضی میں چھ سو سے زیادہ قیدی تھے لیکن ستمبر دو ہزار چار کے بعد سے یہاں پر کسی قیدی کو منتقل نہیں کیا گیا۔

امریکی فوج یہاں پر موجود قیدیوں کو لڑاکا دشمن قرار دیتی ہے جنہیں دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ کی نسبت سے غیر معینہ مدت تک قید رکھا جا سکتا ہے۔

اب تک صرف دس قیدیوں پر فردِ جرم عائد کی گئی ہے۔ امریکی حکام ان قیدیوں کے خلاف فوجی ٹرائبیونلز میں مقدمہ چلانا چاہتی ہے مگر سپریم کورٹ میں کارروائی کے چیلنج کیئے جانے کے بعد سے سماعت رکی ہوئی ہے۔

حقوقِ انسانی کے گروپ گوانتانامو کے قید خانے میں قیدیوں پر امریکی تشدد پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کئی بار کر چکے ہیں لیکن واشنگٹن کو ان الزامات کی صحت سے انکار ہے۔ حقوقِ انسانی کی تنظیموں کا یہ بھی کہنا ہے کہ قیدیوں کو یہ حق حاصل ہے کہ ان کے خلاف عام عدالتوں میں مقدمات چلائے جائیں۔

حال ہی میں صدر بش نے کہا تھا کہ وہ چاہتے ہیں کہ گوانتانامو کا قید خانہ بند کر دیا جائے لیکن ایسا اس لیئے نہیں ہو رہا کہ بقول امریکی صدر کے کچھ قیدی انتہائی خطرناک ہیں۔

اقوامِ متحدہ اور یورپ کے رہنماؤں نے بھی گوانتانامو کو بند کرنے کا مطالبہ کیا ہوا ہے۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد