BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت:
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’رہائی سے پہلے خودکشی‘
امریکی حکام نےخودکشیوں کو ’پی آر‘ کا ایک طریقہ کار قرار دیا ہے
خلیج گوانتانامو کے امریکی قید خانے میں خودکشی کرنے والے تین قیدیوں میں سے ایک کو رہا کیا جانے والا تھا لیکن خودکشی کرنے والے قیدی کو اس کا کوئی علم نہیں تھا۔

خلیج گوانتانامو میں قید کئی غیر ملکی قیدیوں کی وکالت کرنے والے مارک ڈینبیوکس نے بی بی سی کے پروگرام ’ورلڈ ٹوڈے‘ کو بتایا کہ خودکشی کرنے والا ایک قیدی ان ایک سو اکتالیس قیدیوں میں شامل تھا جنہیں رہا کیا جانے والا ہے۔

امریکی وزارتِ دفاع کے مطابق مانی شامن ترکی بھی گوانتانامو سے منتقل کیئے جانے والے تھے۔ امریکی وزارتِ دفاع نے ہفتے کو خودکشی کرنے والی باقی دو افراد کی بھی نشاندہی کر دی ہے۔ ان دو خود کشی کرنے کے نام علی عبداللہ احمد اور یاسر طلال الزہرانی بتائے گئے ہیں۔

امریکی وکیل مارک ڈینبیوکس نے بی بی سی سے اپنے انٹرویو میں گوانتانامو میں قیدیوں کی صورت حال بیان کرتے ہوئے کہا کہ بہت سے قیدی مایوسی کا شکار ہیں۔

خلیج گوانتانامو کے قید خانے میں اپناے جانے والا طریقہ کار بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے اور اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ قیدیوں کو بتایا گیا ہے کہ ان میں صرف پچاس کے قریب ہی رہائی پاسکیں گے۔ ان قیدیوں پر مقدمات بھی نہیں چلایاجارہا ہے اور انہیں رہائی پانے کی کوئی امید نہیں ہے۔

انہوں نے کہا کہ سرکاری پالیسی کے مطابق اس وقت تک قیدیوں کو یہ نہیں بتایا جاتا کہ انہیں متنقل کیا جارہا جب تک اس جگہ کے بارے میں علم نہ ہو کہ انہیں کہاں منتقل کیا جا رہا ہے۔

گوانتانامو میں تین قیدیوں کی خودکشی پر مختلف حکومتوں اور انسانی حقوق کی تنظیموں کی طرف سے شدید ردعمل سامنے آیا ہے۔

اقوام متحدہ کے انسداد تشدد کے بارے آگاہ کرنے والے اہلکار مینفرڈ نواک نے یورپی یونین میں شامل ملکوں کے سربراہوں پر زور دیا ہے کہ وہ اگلے ہفتے صدر بش کے ساتھ سربراہی ملاقات میں گوانتانامو کے قید خانے کو بندکرنے کی بات کریں۔

ڈنمارک کے وزیر اعظم انرے فوگ ریسموسن نے کہا ہے کہ خلیج گوانتانامو کے قید خانے میں اپناے جانے والا طریقہ کار بین الاقوامی قوانین کے خلاف ہے اور اس سے دہشت گردی کے خلاف جنگ پر منفی اثرات مرتب ہوئے ہیں۔

اقوام متحدہ کے اعلی حکام نے گوانتانامو میں خودکشیوں کے واقع پر شدد رویہ اپناتے ہوئے امریکی وزراتِ خارجہ کے اعلی حکام سےبات کی ہے جنہوں نے ان خودکشیوں کو ’توجہ حاصل کرنے کی ایک کوشش قرار دیا تھا۔‘

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد