BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Saturday, 10 June, 2006, 22:49 GMT 03:49 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
گوانتانامو: قیدیوں کی خود کشی
امریکہ نے گوانتاناموبے کے جیل خانے میں قیدیوں کو بغیر مقدمہ چلائے بند کر رکھا۔
امریکی حکام نے کہا ہے کہ گوانتاناموبے کے جیل خانے میں بند تین قیدیوں نے خود کشی کر لی ہے۔

خود کشی کرنے والے قیدیوں میں سے دو کا تعلق سعودی عرب جبکہ ایک کا تعلق یمن سے تھا۔

امریکی فوجی حکام نے کہا کہ قیدیوں نے اپنے کپڑوں اور بیڈ شیٹوں کے پھندے بنا کر خود کشی کی ہے۔

گوانتاموبے میں امریکی فوج کے کمانڈر ایڈمرل ہیری ہیرس نے کہا ہے کہ خود کشی ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت کی گئی ہے۔

امریکی کمانڈر نے کہا کہ قیدیوں نےخود کشی مایوسی کی وجہ نہیں کی بلکہ اس کا کوایک جنگی حربہ کے طور پر استعمال کیا گیا ہے۔

امریکی فوج کے ایک سابق لیفٹننٹ کرنل گورڈن کُوکوُلوُ نے جو حال ہی میں اس قیدخانے کا دورہ کرکے آئے ہیں کا کہنا ہے کہ خود کشی اس جہادی ضابطے کا حصہ ہے جس کے مطابق یہ لوگ صرف خود کو صحیح راستے پر سمجھتے ہیں اور کسی دوسرے کو برداشت نہیں کرتے اور ان کے نزدیک شہادت سب سے اعلی مقام ہے جو یہ لوگ حاصل کرسکتے ہیں۔

خود کشی جنگی حربہ ہے
 خود کشی اس جہادی ضابطے کا حصہ ہے جس کے مطابق یہ لوگ صرف خود کو صحیح راستے پر سمجھتے ہیں اور کسی دوسرے کو برداشت نہیں کرتے اور ان کے نزدیک شہادت سب سے اعلی مقام ہے جو یہ لوگ حاصل کرسکتے ہیں۔ ظاہر ہے شہادت زندہ رہ کر تو مل نہیں سکتی۔
لیفٹننٹ کرنل گورڈن کُوکوُلوُ

وائٹ ہاؤس کے ترجمان نے کہا کہ امریکی صدر جارج بش نے قیدیوں کی خود کشی پرگہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔

امریکی فوجی ترجمان کا کہنا کہ ہے کہ یہ تینوں قیدی اپنے سیلوں میں مردہ پائے گئے۔

افغانستان میں طالبان کی حکومت گرائے جانے کے بعد امریکہ نےالقاعدہ سے مبینہ طور پر تعلق رکھنے سینکڑوں لوگوں کو گوانتاموبے کے فوجی اڈے پر بنائے گئے جیل خانے میں بغیر کوئی مقدمہ چلائے بند کر رکھا ہے۔

حکام کا کہنا کہ گوانتاموبے کے جیل خانے میں خود کشی کا یہ پہلا واقعہ ہے۔

گوانتاناموبے میں قیدیوں کی ایک بڑی تعداد نے پچھلے سال اگست سے جیل حکام کے نامناسب رویہ کے خلاف احتجاجاً بھوک ہڑتال کر رکھی تھی۔

جیل حکام قیدیوں کو زبردستی ناک کے ذریعے نالیوں سے خوراک مہیا کرتے رہے ہیں۔ حکام کا کہنا ہے کہ ہڑتالی قیدیوں کی تعداد 131 سے کم ہو کر 81 تک پہنچ چکی ہے۔

 گوانتاناموبے جیل کے قیدی مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ انہیں غیرقانونی طور پر وہاں رکھا گیا ہے جہاں آج تک ان کو کسی غیرجانبدار جج کے سامنے پیش نہیں گیا نہ ہی کسی جرم میں انہیں سزا سنائی گئی ہے۔
ہیومن رائٹس واچ ڈائریکٹر

امریکہ میں حقوق انسانی کی تنظیم ہیومین رائٹس واچ کے ایکزیکٹیو ڈائریکٹر، کینتھ راتھ کے مطابق یہ اقدام قیدیوں کی شدید مایوسی کا مظہر ہے۔

کینتھ راتھ کا کہنا ہے کہ گوانتاموبے جیل کے قیدی مایوسی کا شکار ہیں کیونکہ انہیں غیرقانونی طور پر وہاں رکھا گیا ہے جہاں آج تک ان کی کسی غیرجانبدار جج کے سامنے پیش نہیں گیا نہ ہی کسی جرم میں انہیں سزا سنائی گئی ہے۔

انہیں دہشتگردی کے خلاف نام نہاد جنگ کے خاتمے تک قید رکھنے کی باتیں کی جا رہی ہیں۔ جو ہمارے خیال میں کبھی ختم نہیں ہوگی۔

اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد