BBCUrdu.com
  • تکنيکي مدد
پاکستان
انڈیا
آس پاس
کھیل
نیٹ سائنس
فن فنکار
ویڈیو، تصاویر
آپ کی آواز
قلم اور کالم
منظرنامہ
ریڈیو
پروگرام
فریکوئنسی
ہمارے پارٹنر
آر ایس ایس کیا ہے
آر ایس ایس کیا ہے
ہندی
فارسی
پشتو
عربی
بنگالی
انگریزی ۔ جنوبی ایشیا
دیگر زبانیں
وقتِ اشاعت: Sunday, 07 May, 2006, 22:00 GMT 03:00 PST
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
’گوانتاناموجیل بند کرسکتا ہوں‘
بیشتر قیدی گوانتانامو میں چار سال سے زائد سے رہ رہے ہیں
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ وہ گوانتامو جیل بند کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔

سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ واضح ہو جائے گا کہ کیاگوانتانامو کے قیدخانے میں بند لوگوں پر فوجی ٹرائیبونل میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔

جرمن ٹیلی ویژن کو انٹریو دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ گوانتانامو جیل کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں پہلی بار گوانتاناموبے میں قید لوگوں کی فہرست جاری کی ہے۔ اس سرکاری فہرست کے مطابق گوانتانامو بے کی جیل میں پانچ سو زائد قیدی موجود ہیں جن کو گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد افغانستان ، پاکستان اور دیگر ملکوں سے پکڑ کر بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھا گیا ہے۔

گوانتاناموبے جیل میں قیدیوں کا تعلق اکتالیس ممالک سے ہے لیکن ان میں اکثریت کا سعودی عرب، افغانستان اور یمن سے ہے۔ ان قیدیوں میں اکثریت ان افراد کی ہے جنہیں افغانستان میں طالبان حکومت کے زوال کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔

گوانتانامو میں بیشتر قیدی چار سال سے رہ رہے ہیں لیکن انہیں عدالت تک رسائی نہیں ہے۔ حقوق انسانی کے ادارے امریکہ پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان افراد کو قید میں رکھے ہوئے ہے۔

گوانتانامو جیل سے
قیدیوں کی روداد، ان کی اپنی زبانی
صدر بشگوانتانامو بے
جرمن چانسلر انگلا مرکل کی تنقید مسترد
نےگوانتانامو جیلیہ’ بےقاعدگی‘ ہے
گوانتانامو جیل کو ختم ہونا چاہیے: ٹونی بلیئر
اسی بارے میں
تازہ ترین خبریں
یہ صفحہ دوست کو ای میل کیجیئےپرِنٹ کریں
واپس اوپر
Copyright BBC
نیٹ سائنسکھیلآس پاسانڈیاپاکستانصفحہِ اول
منظرنامہقلم اور کالمآپ کی آوازویڈیو، تصاویر
BBC Languages >> | BBC World Service >> | BBC Weather >> | BBC Sport >> | BBC News >>
پرائیویسیہمارے بارے میںہمیں لکھیئےتکنیکی مدد