’گوانتاناموجیل بند کرسکتا ہوں‘ | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
امریکی صدر جارج بش نے کہا ہے کہ وہ گوانتامو جیل بند کرنے کے لیے تیار ہیں اور انہیں اس سلسلے میں سپریم کورٹ کے فیصلے کا انتظار ہے۔ سپریم کورٹ کے فیصلے سے یہ واضح ہو جائے گا کہ کیاگوانتانامو کے قیدخانے میں بند لوگوں پر فوجی ٹرائیبونل میں مقدمہ چلایا جا سکتا ہے یا نہیں۔ جرمن ٹیلی ویژن کو انٹریو دیتے ہوئے امریکی صدر نے کہا کہ گوانتانامو جیل کا مسئلہ بہت پیچیدہ ہے۔ امریکہ نے حال ہی میں پہلی بار گوانتاناموبے میں قید لوگوں کی فہرست جاری کی ہے۔ اس سرکاری فہرست کے مطابق گوانتانامو بے کی جیل میں پانچ سو زائد قیدی موجود ہیں جن کو گیارہ ستمبر کے واقعہ کے بعد افغانستان ، پاکستان اور دیگر ملکوں سے پکڑ کر بغیر مقدمہ چلائے حراست میں رکھا گیا ہے۔ گوانتاناموبے جیل میں قیدیوں کا تعلق اکتالیس ممالک سے ہے لیکن ان میں اکثریت کا سعودی عرب، افغانستان اور یمن سے ہے۔ ان قیدیوں میں اکثریت ان افراد کی ہے جنہیں افغانستان میں طالبان حکومت کے زوال کے بعد گرفتار کیا گیا تھا۔ گوانتانامو میں بیشتر قیدی چار سال سے رہ رہے ہیں لیکن انہیں عدالت تک رسائی نہیں ہے۔ حقوق انسانی کے ادارے امریکہ پر الزام لگاتے رہے ہیں کہ وہ بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کرتے ہوئے ان افراد کو قید میں رکھے ہوئے ہے۔ |
اسی بارے میں گوانتانامو سے پانچ چینی باشندے رہا06 May, 2006 | آس پاس قیدیوں پر تشدد نہیں کرتے: امریکہ05 May, 2006 | آس پاس | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||