’گوانتانامو ناانصافی کی مثال بن گیا ہے‘ | |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
برطانیہ میں قانونی امور پر حکومت کے سب سے سینئر مشیر، اٹرنی جنرل لارڈ گولڈسمتھ نے کہا ہے کہ خلیج گوانتانامو میں واقع امریکی حراستی مرکز کو بند کر دینا چاہیے۔ یہ بات انہوں نے لندن میں ’رائل یونائٹڈ سروسز انسٹیٹیوٹ‘ میں سکیورٹی کے امور پر منعقد کانفرنس میں اپنی تقریر میں کہی۔ گوانتانامو میں اس وقت 490 افراد حراست میں ہیں۔ یہ حراستی کیمپ چار سال پہلے قائم کیا گیا تھا۔ اٹرنی جنرل نےاس بارے میں کہا کہ غیر معئنہ مدت کے لیے ’دشمن جنگجؤں‘ کی حراست نہ منصفانہ ہے اور نہ ہی قانونی۔ بقول ان کے ’گوانتانامو کا وجود نا قابل قبول ہے۔‘ لارڈ گولڈسمتھ نے تقریر میں گوانتانامو کے بارے میں کہا کہ’میری رائے ہے کہ اسے بند کر دینا چاہیے۔ میری ذاتی رائے ہے کہ اسے بند کرنا اصولاً ایک صحیح قدم ہوگا اور اس کو بند کرنا یوں بھی ٹھیک ہوگا کہ اس کا وجود اب بہت سے لوگو کے لیے نا انصافی کی ایک بڑی مثال بن چکا ہے۔ اٹرنی جنرل کا کہنا تھا کہ ایسی مثال کی امریکی تاریخ میں کوئی جگہ نہیں ہے کیونکہ امریکہ ہمیشہ آزادی اور انصاف کے معاملات میں آگے رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اجتماعی سلامتی کے پیش نظر کچھ حقوق کو محدود کیا جا سکتا ہے لیکن منصفانہ مقدمہ کے حق کو کبھی چھیننا نہیں چاہیے۔ گوانتنامو کے حراستی مرکز سے پچھلے سال نو برطانوی شہریوں کو برطانوی حکومت کی مداخلت کے بعد رہا کر کے واپس بھجوایا گیا تھا۔ لارڈ گولڈسمتھ نے کہا کہ برطانیہ گونتنامو میں قائم فوجی ٹرائبیونلز کو منصفانہ نہیں مان سکتا کیونکہ یہ کسی مقدمے کے منصفانہ قرار دیے جانے والے بین الاقوامی معیار پر پورے نہیں اترتے۔ انہوں نے انسانی حقوق پر یورپی یونین کے کنوینشن اور برطانیہ کے انسانی حقوق کے قانون کا دفاع کیا تاہم دہشت گردی سے متعلق نئے برطانوی قانون کے بارے میں ان کا کہنا تھاکہ یہ اس لیے مناصب ہے کہ ’اس کو القاعدہ نُما دہشت گردی سے نمٹنے کے لیے بنایا گیا ہے اور اس دہشت گردی کی نوعیت دوسرے جرائم سے بالکل مختلف ہے۔‘ ادھر امریکی وزارت خارجہ کے ترجمان شان مکورمک نے کہا ہے کہ امریکہ گوانتنامو کا حراستی مرکز بند تو کرنا تو چاہتا ہے لیکن وہ ایسے لوگوں کو رہا نہیں کرسکتا جو کہ جا کر دہشت گرد کارروائیاں کریں۔ انہوں نے کہا کہ ’یہ ایک حقیقت ہے کہ وہاں نظر بند افراد بہت ہی خطرناک لوگ ہیں۔‘ | اسی بارے میں ’گوانتاناموجیل بند کرسکتا ہوں‘07 May, 2006 | آس پاس گوانتانامو: فہرست میں تیرہ پاکستانی20 April, 2006 | پاکستان گوانتانامو: قیدیوں کی پہلی فہرست20 April, 2006 | آس پاس گوانتانامو: قیدیوں کی شہادت04 March, 2006 | آس پاس گوانتاناموکاخاتمہ ضروری ہے: بلیئر22 November, 2005 | آس پاس | ||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||
| |||||||||||||||||||||||||||||||||||||||||